منگل , 19 مارچ 2019

مودی کا ہندو قوم پرستی کا ایجنڈا

(عارف نظامی)

بھارت میں اگلے ماہ عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی مہم جوئی کے دوران بھارت کے سا تھ تعلقات کبھی الیکشن ایشو نہیں بنے لیکن مودی سرکار تو پاکستان کے ساتھ جنگجویانہ رویہ کو خوب ہوا دے رہی ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے بھارتی انتخابی مہم میں پاکستان کو ایک بڑا ایشو بنادیا ہے۔ نریندر مودی کو بھارت کے قریباً 20 کروڑ مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی پروا نہیں، وہ تو انتہا پسند ہندوؤں کی وکٹ پر کھیل رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی نے 2014ء میں ہو نے والے انتخابات میں بھی اینٹی پاکستان اور اینٹی مسلم کارڈز استعمال کیے تھے۔ اس نے خود کو ایک بزنس فرینڈلی وزیراعظم کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ تصور کر لیا تھا کہ عوام نے ان کے ایجنڈے کی بھرپور توثیق کر دی ہے۔

برطانوی جریدے ’اکانومسٹ‘ کے مطابق مودی کا کٹر ہندو قوم پرستی کا تصور جس میں پاکستان کو سٹریٹجک حریف سے زیادہ تہذیب کیلئے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، انہیں اپنی پارٹی بی جے پی میں الگ تھلگ کرتا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ سیکولرازم کو قومی اور آئینی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سیکولرازم کی داعی کانگریس کے دور میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوتا رہا لیکن مودی کی قیادت میںہندو انتہا پسند برملا طور پر کہتے ہیں کہ یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے لہٰذا ہندو راج ہی ہونا چاہیے۔ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کیلئے بھرپور ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی کو 2014ء کے انتخابات میں 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کے اصل ماسٹر مائنڈسنگ پریوار راشٹریہ سیوک سنگ RSS کے ہندو ہیں اور یہی اس کا ایجنڈا کنٹرول کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آر ایس ایس کو گلہ ہے کہ نریندر مودی بھارت کو مکمل ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر پوری طرح کام نہیں کر رہے۔ آر ایس ایس کے آئیڈیل ہٹلر اور مسولینی ہیں اور اس کی رکنیت پچاس لاکھ مردوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ساٹھ ہزار کے قریب مالی طور پر خود مختار سیل ہیں اور گھیروی لباس میں ملبوس اس کے چھ ہزار کل وقتی متشدد پرچارک ہیں۔ چند روز قبل کانگریس کے صدر راجیو گاندھی کے صاحبزادے اور اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی اور ان کی ہمشیرہ پریانکا گاندھی نے مودی کے گڑھ گجرات کا دورہ کیا، وہاں راہول گاندھی نے ایک جلسہ عام میں سوال پوچھا کہ بھارتی عوام گاندھی کا ملک چاہتے ہیں یا ان کے قاتلوں کا؟۔کانگریس کے نوجوان صدر کی والدہ سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم’ وکٹم کارڈ‘ کھیل رہے ہیں۔

دہلی کے سابق وزیراعلیٰ کیجریوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سب کہہ رہے ہیں کہ مودی بڑی ڈھٹائی سے الیکشن میں پاکستان کارڈ کھیل رہا ہے نیز یہ کہ کشمیر میں یہ کہہ کر کہ وہاں گھس بیٹھئے گڑ بڑ کر رہے ہیں، مزاحمت کرنے والے کشمیری نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان کے سیاستدان عمومی طور پر جمہوریت پسند ہیں اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میں خاصی حد تک وطن عزیز چند محدود لابیوں کے گرداب سے نکل آیا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ پاکستان سیکولر ملک نہیں ہے بلکہ اسلام کے نام پر بنا ہے یہاں پر جمہوری نظام پرکوئی جھگڑا نہیں ہے اور جس انداز سے پاکستان پر پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کے حالیہ شب خون کا مقابلہ کیا گیا اس سے ہماری سیاسی وعسکری قیادت، میڈیا اور عوام کی پختگی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہندو مت بھارت کے اداروں میں تیزی سے سرایت کررہا ہے اس سے خود بھارت کے سیکولر اور روشن خیال حلقے تشویش میں مبتلا ہیں۔ تعلیمی اصلاحات کے نام پر کہا جارہا ہے کہ ہمیں کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اور تعلیم اور نصاب جس میں ہندو تشخص نمایاں ہو جائے سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اسی طرح قانون میں مسلمانوں کے لیے اسلامی شریعت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور یہ بھی یکساں ہونا چاہیے نیز یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کر دینا چاہیے۔

مزید برآں ایودھیا کے مقام پر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی فی الفور تعمیرہونی چاہیے۔ مودی مندر تو بنانا چاہتا ہے لیکن بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ مودی سرکار اپنی مڈھ کے سامنے سجدہ سہو کرنے پر مجبور ہے اور ہندو قوم پرستوں کو رام رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ مثال کے طورپر سکولوں میں ہندوانتہا پسند اساتذہ کو بھرتی کیا جا رہا ہے حالانکہ مسلمانوں کی آبادی بھارت میں 14 فیصد ہے ان کو ذات پات کی بنیاد پر خصوصی مراعات اور سرکاری ملازمتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ صوبوں میںبی جے پی کے چودہ سو اراکین اسمبلی میں سے صرف چار مسلمان ہیں۔ کشمیر کو بھی گورنر راج کے ذریعے نئی دہلی سے کنٹرول کیا جارہا ہے حتیٰ کہ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے جو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور پاکستان کے دوست نہیں ہیں اب مجبوراً چیخ اٹھے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا کہ 2015ء اور 2018ء کے دوران 44 افراد جن میں 36 مسلمان ہیں کو ’’گاؤماتا‘‘ کا گوشت فروخت کرنے کی پاداش میں ہندو انتہا پسندوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے موت کی نیند سلا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہندو ایجنڈے نے ہر طریقے سے بھارت کے جسد سیاست کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ نام نہاد سیکولر راہول گاندھی بھی اب مندروں میں جا کر تصویریں کھنچوانے پر مجبور ہیں۔ اگراس بھارتی حکمران جماعت کے فاشسٹ ایجنڈے کومدنظر رکھا جائے تویہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ وہاں پر مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ایک نیا نظام ہندو راج بنایا جا رہا ہے۔ مودی سرکار کیونکہ اقتصادی طور پر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا سارا زور اب اسی انتہا پسندانہ ایجنڈے پر ہے۔ اسی بنا پر نفرت کے جو بیج بوئے جا رہے ہیں اور جس میں بھارتی میڈیا بیک زبان ہے خاصا امکان ہے کہ آئندہ انتخابات بھی بی جے پی جیت سکتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے اور حکومت سمیت پاکستان میں جو عناصر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اور دیگر تنازعات پر عام انتخابات کے بعد بامقصد مذاکرات کا احیا ہو گا انھیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘

(اشعر الرحمٰن) ’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے?‘حقیقت ...