بدھ , 12 مئی 2021

نیوزی لینڈ: مساجد پر حملہ کرنے والا انتہا پسند عدالت میں پیش

ویلنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دائیں بازوں کے انتہا پسند برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا جہاں ملزم پر قتل کا الزام عائد کردیا گیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کو ہتھکڑی لگاکر قیدیوں کے لباس میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں جج کی جانب سے اس کے خلاف قتل کا الزام پڑھ کر سنایا گیا جبکہ ملزم پر مزید الزامات بھی لگائے جانے کا امکان ہے۔

سابق فٹنس انسٹرکٹر کے خلاف سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں میڈیا موجود تھا لیکن سیکیورٹی وجوہات کے باعث عوام کو اس سے دور رکھا گیا تھا۔مسلح پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں برینٹن ٹیرنٹ اپنا سر اوپر نیچے کرتے ہوئے ’اوکے‘ کا اشارہ کرتا رہا، جو دنیا بھر میں سفید فارم گروپس کی جانب سے مفخر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔حملہ آور کی جانب سے ضمانت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی اور وہ 5 اپریل کی اگلی سماعت تک حراست میں رہے گا۔

اس کے علاوہ 2 مزید افراد بھی حراست میں ہیں، اگرچہ ان کا حملے سے تعلق واضح نہیں لیکن 18 سالہ ایک شخص ڈینیل بررو پر قتل کے لیے اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے، ساتھ ہی ایک اور شخص جسے پہلے گرفتار کیا گیا تھا وہ شہری تھا جو آتشی اسلحہ لے کر مدد کے لیے آیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حملے کے بعد ایک خاتون سمیت 3 افراد کی گرفتاری کا کہا گیا تھا لیکن بعد ازاں پولیس نے حملہ آور کے علاوہ 2 افراد کی حراست میں ظاہر کیا گیا۔اس واقعے میں زخمی ہونے والے 39 افراد کو گولی سے آنے والے زخم اور دیگر زخموں کا علاج کیا جارہا ہے جبکہ زخمیوں میں 2 سالہ لڑکا اور 4 سالہ لڑکی بھی شامل ہیں، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔

کرائسٹ چرچ ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ رات بھر 12 آپریشن تھیٹر میں کام کرتے رہے تاکہ زخمیوں کو بچایا جاسکے۔بہت سے لوگوں کے لیے بحالی میں مختلف سرجیکل طریقہ کار کی ضرورت ہوگی جبکہ بہت سے بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر پہنچائی گئی اذیت کا کبھی ازالہ نہیں ہوسکے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے النور اور لنووڈ مساجد پر حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا اور ان کے خیال میں یہ جدید دور میں مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بدترین حملہ ہے۔جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد مسلم دنیا سے ہیں اور ترکی، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں قونصلر رسائی دی جارہی ہے۔

عدالت کے باہر موجود 71 سالہ متاثرہ افغان شخص کے بیٹے داؤد نبی نے اپنے مرحوم والد کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ نیوزی لینڈ ’جنت کا ٹکڑا‘ ہوگا۔اس کے علاوہ مرنے والوں میں ایک سعودی شہری اور 2 اردن کے شہری بھی شامل ہیں جبکہ 5 پاکستای شہری لاپتہ ہیں۔

نیوزی لینڈ کے اسلحہ قوانین تبدیل ہوں گے، وزیر اعظم
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے میں 49 افراد کے قتل کے بعد ملک کے گن لا (اسلحہ قوانین) کو تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا۔’اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران جیسنڈا آرڈن نے کہا کہ 28 سالہ آسٹریلوی نژاد برینٹن ٹیرنٹ نے ’نومبر 2017 میں اسلحہ لائسنس حاصل کیا، جس کی بنیاد پر اسلحہ خریدا گیا اور اسے 2 مساجد میں حملے میں استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ہتھیاروں میں مزید خطرناک بنانے کے لیے اس میں تبدیلی کی گئی، لہٰذا نیم خودکار ہتھیاروں کی پابندی پر غور کیا جائے گا۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ’میں اس وقت آپ کو ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ ہمارے ہتھیاروں کے قانون تبدیل ہوں گے’۔

اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ دہشت گرد حملہ آور اور اس کے گرفتار 2 ساتھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انتہا پسندی کے ریڈار پر نہیں تھے۔جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا کہ مساجد پر حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

متاثرہ افراد کے اہل خانہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں، پولیس
ادھر نیوزی لینڈ پولیس کمشنر مائیک بش کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو کسی خطرے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں لیکن مساجد پر حملے کے تناظر میں ہر کسی کو چوکنا رہنا چاہیے۔نیوز کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں حملوں کے لیے ایک ہی شخص ذمہ دار ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ ’ہم ایسا کچھ نہیں جانتے جو آپ کی تجویز سے متصادم ہو‘۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی جانب سے پہلے حملے کے بعد ملزم کو گرفتار کرنے میں 36 منٹ لگے، حملہ آور کی جانب سے سوشل میڈیا پر 74 صفحات کا منشور بھی پوسٹ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا منشور میں اس نے خود کی شناخت بیرنٹن ٹیرنٹ کے نام سے کروائی، جو 28 سالہ آسٹریلین اور سفید فارم ہے اور وہ یورپ میں حملوں کا بدلہ لینے آیا تھا۔ادھر آسٹریلین پولیس کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ مساجد حملے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

نیو ساؤتھ ویلز اسٹیٹ پولیس کے کمشیر مک فولر نے کہا کہ ان کے افسران نیوزی لینڈ پولیس کی مدد کے لیے تفتیش کر رہے ہیں اور برینٹن ٹیرنٹ، جہاں سے تعلق رکھتا تھا اس آسٹریلین ریاست میں رہائشیوں کا تحفظ یقینی بنارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ کے اہل خانہ شمالی نیو ساؤتھ ویلز کے ٹاؤن گریفٹن سے ہیں اور انہوں نے 49 افراد کے قتل کی میڈیا رپورٹس دیکھنے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا۔مک فولر نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ نے گزشتہ 4 برسوں میں آسٹریلیا میں مختصر وقت گزارا۔

قائم مقام ڈپٹی پولیس کمشنر مک ولنگ کا کہنا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ صرف ’معمولی ٹریفک معاملات‘ کے لیے پولیس میں جانا جاتا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا میں مزید خطرے سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں حملہ آوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد 4 حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے۔فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک شخص نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …