جمعہ , 14 مئی 2021

بھارت اور اسرائیل، ملک دو نشانہ ایک!

(راحیل اظہر)

ان دنوں یہ خاکسار پاکستان میں ہے۔ پْرانی عادت ہے کہ شام کی مشی کے دوران، کوئی کتاب پڑھتا جاتا ہوں۔ ایک شام چہل قدمی کے لیے، گھر سے باہر نکلا۔ چند ہی قدم چلا ہوں گا کہ پیچھے سے کسی نے آواز دی۔ مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ چھڑی ٹیکتے ہوئے چلے آ رہے تھے۔ قریب آ کر علیک سلیک ہوئی۔ کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ باقاعدہ تعارف پر کھْلا کہ یہ بزرگ ڈاکٹر محمد حامد صاحب، اسلامیہ کالج لاہور میں اظہر سہیل مرحوم اور شعیب بن عزیز صاحب کے اساتذہ میں تھے۔ گفتگو کا سلسلہ حالات ِحاضرہ سے ہوتا ہوا، بھارت اور اسرائیل تک جا پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ ایک کتاب، خاص اسی موضوع پر بھی لکھ چکے ہیں۔ "دی اَن ہولی الائنس – انڈو اسرائیل کولیبریشن اگینسٹ دی مسلم ورلڈ”(ناپاک اتحاد – مْسلم دنیا کے خلاف ہندو اسرائیل اشتراک(۔ یہ سْن کر، کتاب دیکھنے کیلیے، دل ہمکنے لگا۔ کتاب کی نقل، ڈاکٹر صاحب نے کمال مہربانی سے، ہاتھ کے ہاتھ فراہم کر دی۔ سن ِاشاعت انیس سو اٹھتر میں چھَپی اس کتاب کی کئی باتیں، میرے لیے تو چشم کْشا ہی نکلیں۔ والد ِمرحوم اظہر سہیل کہا کرتے تھے کہ میری تقدیر میں لکھا ہوا ہے کہ تازہ خبر مجھ تک پہنچ کر رہے! کتابوں کے معاملے میں، اپنی قسمت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ کتاب سے پہلے، بہتر ہے کہ اسرائیل کے بارے میں مختصرا، قائد ِاعظم اور علامہ اقبال کا موقف پیش کر دیا جائے۔

سن سینتیس سے سینتالیس تک، قائد ِاعظم نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی سخت مخالفت میں، کئی بیان دیے۔ انہوں نے صاف کہا (مفہوم کی ترجمانی("یہ آبادکاری غیر اخلاقی اور غیرقانونی ہے۔ یہودیوں کو فلسطین میں، برطانوی اسلحہ اور امریکی سرمایے کے زور پر آباد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں پیچھے ہٹ جائیں تو یہودیوں کا منصوبہ فیل ہو کر رہ جائے۔ برطانیہ عربوں کو شروع سے دھوکہ دیتا آ رہا ہے۔ رہا امریکا، تو امریکن صدر کو ان کا اگر اتنا ہی درد ہے تو ان دس لاکھ یہودیوں کو امریکا میں کیوں نہیں آباد کرتے؟”۔ سن اڑتالیس میں، اسرائیل کے پہلے وزیر ِاعظم بین گوریان نے خیرسگالی کا ٹیلی گرام، قائد ِاعظم کو بھی بھیجا تھا۔ قائد ِاعظم نے اس کا جواب تک نہ دیا۔ قائد چند ماہ قبل، کِہہ چکے تھے کہ دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن، بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے، جان دے دے گا۔ اس سے بھی عشرہ بھر پہلے، علامہ اقبال نے یہودیوں کے بھی نظریہ وطنیت کو، گویا چٹکیوں میں اْڑا دیا تھا۔ فرماتے ہیں۔ ہے خاک ِفلسطیں پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل ِعرب کا؟ دوسری طرف کانگرس کا یہ حال تھا کہ نہ صرف ہندوئوں، بلکہ ایک نہایت مشہور کانگریسی مولانا کی بھی ہمدردیاں، یہودیوں کے ساتھ تھیں۔

مولانا کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہودیوں کو ارض ِفلسطین میں بسنے کا، پورا حق حاصل ہے۔ یہی مولانا، بھارت کے پہلے وزیر ِتعلیم ہوئے تھے۔ ان کے دور میں تعلیمی نصاب میں اس طرح کی چیزیں شامل تھیں۔ "مسجد مسلمانوں کا مندر ہوتی ہے۔ جہاں وہ پوجا کرتے ہیں۔” وغیرہ۔ سن پچاس میں، اسرائیل کو بھارت نے تسلیم کر لیا۔ اس وقت تک ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل شہید کر چکا تھا۔ افسوس کہ اس پر بھی مولانا کے پائے ثبات میں لغزش نہ ہوئی اور وہ پرانی تنخواہ پر کام کرتے ہی رہے۔ کانگریسی مسلمانوں میں، مولانا کی مثال شاید استثنائی رہی ہو، مگر ہندوئوں کے یہودیوں سے ربط کی تاریخ، بہت پْرانی ہے۔ گاندھی کے یہودیوں کے ساتھ تعلقات اتنے گہرے تھے کہ کتاب کے مطابق، علامہ اقبال نے مِس فارکوہرسن کے نام لکھے گئے خط میں، گاندھی کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ معروف ہندو شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے بارے میں بھی کئی انکشافات نظر آئے۔ ٹیگور سَن اکیس میں جب یورپ گئے، تو استقبال سے لے کر روانگی تک، یہودیوں میں خصوصاً گھْلے مِلے رہے۔ یہ گھْلاوٹ اور ملاوٹ، اتنی زیادہ تھی کہ آسٹریا کے اخبارات نے کئی سوال اْٹھائے۔ مثلا "ٹیگور ہر وقت یہودیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

یہودی پبلشر، یہودی ادیب، یہودی سائنس دان، حتی کہ یہودی سیاستدان بھی ان کے جلو میں دیکھے جاتے ہیں۔ ٹیگور، کہیں خود بھی یہودی تو نہیں ہیں؟ ٹیگور دعوے دار ہیں سادھو سنت ہونے کے۔ مگر پینگ بڑھاتے ہیں اس قوم کے ساتھ، جن سے بڑھ کر لالچی اور "غیر سادھو” کوئی اَور قوم، کرہ ٔ ارض پر موجود نہیں!”۔ ایک دوسرا اخبار لکھتا ہے "یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ساری یہودی لابی، اس ایک شخص کی تحسین کرنے میں جْٹی ہوئی ہے۔ اس سے وہ پْرانا مقولہ یاد آتا ہے کہ جس شے کی تعریف، یہودی کریں، اسے ہمیشہ شک اور شبہ کی نظر سے دیکھو! اور جس چیز میں یہ کیڑے نکالیں، یا جس کے بارے میں خاموشی اختیار کریں، البتہ فائدہ مند ہو سکتی ہے!”۔ امریکہ اور برطانیہ میں یہودی لابی کس قدر طاقتور ہے، اس کا ذکر ان سطور میں ہوتا رہتا ہے۔ انیس سو اٹھتر میں چھپنے والی اس کتاب میں، اْن چھیالیس لوگوں کے نام درج ہیں، جو بھارت میں یہودی لابی کے نہایت قریب تھے۔ اَور ناموں کے سوا، دو نام ایسے تھے جو اس فہرست میں دیکھ کر، آنکھیں کھْل گئیں۔

مْرار جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی! کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے مابین، دفاعی اور نیوکلیئر اشتراک کم از کم پچاس سال پرانا ہے! حالیہ جھڑپوں میں، اسرائیلی کردار دیکھ کر، کسی کو شک باقی نہیں رہنا چاہیے کہ بھارت اور اسرائیل کا اولین نشانہ، پاکستان ہے۔ بھارت لاکھ کہتا رہے کہ ہمارا اصل مقابلہ چین سے ہے۔ دراصل پاکستان ہی، اکہتر سال سے اس کے سینے کی پھانس بنا ہوا ہے۔ اسرائیل بھی، سب سے زیادہ ایران کے لتے لیتا ہے۔ مگر واقعی خوف، اْسے بھی پاکستان کی نیوکلیئر طاقت سے ہے۔ کیوں نہ ہو؟ اس مْلک کا بانی اور نظریاتی بانی، دونوں اسرائیل کی شدید مخالفت کر گئے ہیں۔ ارض ِ بیت المقدس سے محبت، ہماری گھْٹی میں شامل ہے۔ ایک ایک کر کے، سارے اہم مسلمان ملک، تباہ کیے جا رہے ہیں۔ جو بچ رہے ہیں، وہ دراصل دھوکے میں ہیں۔ او آئی سی اگر کچھ وجود رکھتی، تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے! ایک صدی پہلے، لِسان العصر نے جو نوحہ لکھا تھا، تقریباً آج ہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ عَرَب سْوی ِکلیسا یافت راہی عَجَم از دَیر می جْوید پناہی شْدہ کار ِخلافت پیِچ در پِیچ جہان ہِیچ است و این کار ِجہان ہِیچ بیا! اے مہدی ِخلوت گزینی! بیا! اے عیسی ِگردون نشینی! بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …