ہفتہ , 8 مئی 2021

3/15 مغربی اقوام کیلئے ایک اہم دن

(تحریر: سید اسد عباس)

کیا مغربی دنیا 9/11 اور 7/7 کی مانند نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتل عام کی اس واردات کو 3/15 کا عنوان دے گی اور کیا نائن الیون کی مانند پوری دنیا میں میڈیا کمپین اور اقدامات کا سلسلہ شروع ہوگا؟ ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک افغانستان یا عراق کی طرح تباہی کے دہانے پر پہنچے اور چند سو انسانوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے لاکھوں دیگر انسانوں سے زندگی کا حق چھین لیا جائے، اسی طرح کروڑوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرکے معاشی ہلاکت میں ڈال دیا جائے، تاہم مغربی دنیا بالخصوص عیسائی معاشروں کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے معاشرے کو نفرت، انتہا پسندی اور شدت پسندی جیسے عفریتوں سے پاک کرنے کے لیے مزید سنجیدہ اقدام کریں۔

تہذیب یافتہ دنیا میں شدت پسندی کے یہ واقعات نئے نہیں ہیں، تاہم ایک طویل عرصے سے مغربی معاشرہ رواداری اور ہم آہنگی کی مثال بنا ہوا تھا۔ یہ تاثر اب آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگا ہے۔ یورپی ممالک میں مسلمانوں کی مساجد، میناروں، اسلامی شعائر پر حکومتی پابندی کے لیے بل، مسلمانوں کے مذہبی مقدسات کے خلاف اراکین پارلیمنٹ نیز فرقہ وارانہ شخصیات کی جانب سے نفرت انگیز اقدامات، نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں پر قاتلانہ حملے مغربی معاشرے میں روز کا معمول بن چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ جو دنیا میں پرامن ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھا، اب محفوظ نہیں رہا۔ اس سب کے پیچھے یقیناً 9/11 کے بعد کی گئی سرمایہ کاری اور پراپیگنڈہ کار فرما ہے، تاہم جس بری طرح سے اس لہر نے مغربی معاشرے کو زک پہنچائی ہے، اس کی مثال گذشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔

اگر فرقہ پرستی اور مذہبی جنونیت کی یہ لہر حکومتی ایوانوں تک پہنچ جائے، جو کہ آہستہ آہستہ پہنچ رہی ہے تو یہ دنیا تباہی کے وہ مناظر مشاہدہ کرے گی، جن کی تاریخ انسانیت میں کوئی نظیر نہیں ملتی، آج کا انسان سولہویں صدی کے انسان جیسا نہیں رہا۔ اب سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہتھیاروں کے وہ انبار لگا دیئے ہیں، جو کسی بھی عجلت یا غلطی کے متحمل نہیں ہیں۔ دنیا کے ساتھ ساتھ یہ شدت پسندی اور تعصب مغربی معاشرے کے لیے بھی نہایت مہلک ہے۔ اس معاشرے کی ترقی، پیشرفت اور بقاء اسی بقائے باہمی، ہم آہنگی اور رواداری سے ممکن ہوئی، تاہم جس معاشرے میں نفرت، تعصب اور شدت پسندی اپنی جڑیں مضبوط کرلے، وہاں ترقی کے پہیے کو روکنے کے لیے کسی اور عامل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

نیوزی لینڈ کے حملے نیز مغربی دنیا میں ہونے والے اسی طرح کے واقعات نے ایک اور چیز عیاں کی ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی فقط مسلمانوں کا ہی پیشہ نہیں بلکہ مسلمان بھی اس دہشت گردی کا نشانہ ہیں۔ شدت پسندی اور دہشت گردی ایک انسانی مسئلہ ہے، جس کو ایک انسانی مسئلہ کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیئے۔ پوری دنیا کو ان عوامل کی جانب توجہ کرنے کی ضرورت ہے، جو کسی انسان کو انسانیت سے خارج کرکے درندہ بنا دیتے ہیں۔ یہ عوامل کسی بھی معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاسکتے ہیں۔ دہشت گردی کسی خاص مذہب کا وطیرہ بھی نہیں ہے بلکہ ایک انسانی کیفیت کا نام ہے، جو کسی بھی انسان پر عارض ہوسکتی ہے۔ جس معاشرے میں بھی وہ عوامل موجود ہوں، جو دہشت گردی کے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں تو اس معاشرے میں دہشت گردی کا جنم لینا بدیہی ہے۔

نیوزی لینڈ حملے کے بعد دنیا بھر میں بالخصوص عیسائی اور یہودی دنیا میں بالعموم پیدا ہونے والا ردعمل نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ فرانس، لندن، امریکا اور دنیا کی دیگر اقوام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی یاد میں شمعیں روشن کی گئی ہیں۔ دعائیہ تقاریب میں تمام مذاہب کے افراد نے شرکت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر میڈیا چینلز کے رویئے پر شدید تنقید کی گئی ہے، جنھوں نے اس جنونی دہشت گرد کو فقط ایک حملہ آور کے طور پر متعارف کروایا۔ زبان خلق کا ایک ہی نعرہ ہے کہ وہ فقط دہشت گرد تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس حملے کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے لواحقین سے کہا ہے کہ میں آپ سے معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کی حفاظت کرنے میں مجھ سے کوتاہی ہوئی۔ یہ تمام اظہارات ایک مثبت انسانی تہذیب کا پتہ دیتے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے پر مزید گہرائی اور سنجیدگی سے غور و خوض کیا جائے۔ وہ غلطیاں جو اس دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہی ہیں، کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

عرب یا دیگر مسلمانوں کی جانب سے مغربی معاشروں میں سول آبادیوں پر کیے گئے حملے کسی طور بھی درست نہیں ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے كہ دنیا ان عوامل اور حالات پر بھی غور کرے، جن سے مجبور ہو کر مسلمان ایسی غلط کارروائیوں پر مجبور ہوئے، جو ان کے دین کی رو سے بھی جائز نہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور دہشت گردی کے صانع کا طعنہ دینا آسان ہے، تاہم اس کے سدباب کے لیے حقیقی کاوش اور کوشش کرنا نہایت دقت طلب کام ہے۔ اس کے لیے یقیناً دنیا کی اقوام کو اپنے اقدامات پر غور کرنا ہوگا۔ مغربی معاشرے کو جلد یا بدیر یہ بات سمجھ آجائے گی کہ 9/11 کے بعد کی پوری کمپین اور اقدامات خود ان کی سوسائٹی کے لیے کس قدر ہلاکت انگیز تھے اور ہوسکتے ہیں۔

پوری دنیا میں اگر کوئی اس نہج پر نہیں سوچ سکتا تو وہ ایک ہے، جس کی بنیاد ہی دہشت گردی، تعصب اور جارحیت پر رکھی گئی ہے۔ دنیا میں اسرائیل کے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں، جس کی بنیاد ان عوامل پر ہو۔ اس اکائی کی بنیادوں میں انبیاء کے لہو کے ساتھ ساتھ لاکھوں انسانوں کا خون ہے، یہ گروہ ہر حال میں دنیا میں اپنے تسلط کا خواہاں ہے اور اپنے نظریات کی بنیاد پر اس ہدف کے لیے کاربند ہے۔ امام خمینی نے اسرائیل کو عالم اسلام کے لیے غدہ سرطانی قرار دیا تھا، میری نظر میں اسرائیل اور اس کو چلانے والی سوچ انسانیت کے لیے غدہ سرطان ہے، جس کا مقصد ہی تخریب ہے۔ دنیا میں لاکھوں یہودی امن کے ساتھ مختلف ممالک میں زندگی گزار رہے ہیں، تاہم ایک خاص گروہ کو تعصب اور تنگ نظری کی بنیاد پر ایک خطہ زمین میں محصور کرکے ان کو زندگی کے وہ حالات مہیا کیے گئے ہیں، جو ایسے اقدامات کے متقاضی ہیں، جو اسرائیلی ریاست لے رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بدامنی، خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے، امت مسلمہ کی مختلف عرب حکومتوں میں تقسیم، عیسائی ریاستوں کو مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار کرنا، فلسطین پر قبضہ، لبنان کے علاقوں کو زیر تسلط لانا، عرب دنیا میں حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں اہم کردار، دنیا پر معاشی تسلط، عالمی میڈیا کے وسائل پر حکمرانی اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا، مسلمان ریاستوں کے وسائل کو لوٹ کر انہیں کمزور کرنے کی کوششیں، مسلمان معاشروں میں تفرقہ اور شدت پسندی کو ہوا دے کر انہیں کھوکھلا کرنا ان سب کے پیچھے ایک ہی شیطان اپنی صلاحیات کو صرف کرنے میں مصروف عمل ہے۔ دنیا کی امن پسند اقوام کو اس شرپسند گروہ کو شناخت کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے، جو دہشت گردی اور شدت پسندی کا ایک اہم سبب ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …