جمعہ , 19 اپریل 2019

پاکستان پر گرے لسٹ کی لٹکتی تلوار

(افشاں ملک) 

عالمی دنیا کیساتھ ملکر بھارت سفارتی محاذ پر یہ کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان پر مالیاتی پابندی لگائی جائے اور اس تاثر کو مضبوط بنایا جائے کہ پاکستان بطور ریاست دہشتگردی کو روکنے میں ناکام ہوا ہے جبکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ستمبر کے اجلاس میں اسے عملی طور پر گرے لسٹ سے نکالا جائے تاکہ وہ کسی بھی طرز کی مالیاتی پابندی کا شکار نہ ہو۔ گزشتہ چند برسوں میں یقینی طور پر پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشتگردی سے نمٹ کر بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کا اعتراف داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ جنگ بدستور جاری ہے اور اس میں ابھی ریاستی، حکومتی اور معاشرتی محاذ پر بہت کچھ کرکے دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہمیں اپنے دشمن سے خبردار رہنا ہے، اس عالمی سازش سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے ریاستی سطح پر دواہم دستاویز جاری کیں، نیشنل ایکشن پلان اور پیغامِ پاکستان۔ 20نکات پر مبنی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تناظر میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو وفاقی سطح پر وزیراعظم اور صوبائی سطح پر وزرائے اعلیٰ کی نگرانی میں کام کریں گی اور اس میں عسکری قیادت سمیت مختلف انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان بھی حصہ دار ہوں گے۔

اسی طرح پیغامِ پاکستان جو فرقہ واریت سے نمٹنے کی دستاویز ہے اور تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام کا اس پر مجموعی اتفاق اور مل کر مذہبی ہم آہنگی کو تقویت دینا غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ہم نے ان اہم دستاویزات کے مختلف نکات پر سنجیدگی سے کام بھی کیا اور اس کے بہت سے اچھے اور مثبت عملی نتائج بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں انتہاپسندی اور دہشتگردی کے وہ مناظر نہیں جو ماضی میں بدترین حالات کی نشاندہی کرتے تھے لیکن یہ اعتراف بھی کیا جانا چاہئے کہ ریاستی، حکومتی اور معاشرتی سطح پر ان اہم دستاویزات پر عمل درآمد کے نظام میں وہ مضبوط کمٹمنٹ اور شفافیت دیکھنے کو نہیں ملی جو قومی ذمہ داری کے زمرے میں آتی ہے۔ حال ہی میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تناظر میں ایک جائزہ رپورٹ وزارتِ داخلہ کو پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات میں سے 6نکات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا جبکہ 9نکات پر مکمل اور 5نکات پر جزوی عمل درآمد ہوسکا۔ اس جائزہ رپورٹ میں جن اہم امور کی خامیوں کے تناظر میں نشاندہی کی گئی ہے ان میں اول، دہشتگرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کا کام غیر تسلی بخش رہا۔ دوم، کالعدم تنظیموں کو نام بدل کر کام سے روکنے کیلئے بہتر اقدامات نہیں کئے گئے۔ سوم، مدارس کی رجسٹریشن کے کام میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا۔

چہارم، فوجداری نظامِ انصاف کی تشکیلِ نو اور اصلاحات کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ پنجم، انسداد دہشتگردی کیلئے قائم اداروں کو مضبوط نہیں کیا گیا۔ ششم، افغان مہاجرین کی واپسی کے تناظر میں دو وزارتوں کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ سے کام مکمل نہیں کیا جاسکا جبکہ مسائل کیساتھ ساتھ اس جائزہ رپورٹ میں کچھ مثبت پہلو بھی اُجاگر کئے گئے ہیں۔ ان میں نفرت انگیز مواد کی تشہیر اور اشاعت کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات، مذہبی فسادات روکنے کے اقدامات، سوشل میڈیا پر انتہاپسندی اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر کیخلاف قانون سازی اور عمل درآمد کا نظام، فوجی عدالتوں کی کارکردگی، دہشتگردوں کو سزاؤں کا ملنا، فرقہ واریت اور مسلح گروپوں کیخلاف مؤثر کارروائی، بعض صوبوں میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے فورس کا قیام، میڈیا کی جانب سے انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کو ہیرو بناکر پیش نہ کرنا، فاٹا اصلاحات اور متاثرین کی واپسی، کراچی میں فوجی آپریشن، بلوچ علیحدگی پسندوں کیساتھ مفاہمتی عمل اور دہشتگردی کے مراکز کا خاتمہ جیسے اقدامات میں مؤثر کارکردگی قابل تعریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ٹاسک فورس کے حالیہ اجلاس میں جو پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے خاصی اہمیت رکھتا تھا، اگرچہ ہم پر پہلے سے عائد پابندی ختم نہیں کی گئی لیکن یہ اعتراف ضرور کیا گیا ہے کہ پاکستان انتہاپسندی اور دہشتگردی سے نمٹنے سمیت مالیاتی شفاف عمل میں مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ایکش پلان پر مؤثر عمل درآمد کیلئے پارلیمانی راہنماؤں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی جو بہتر فیصلہ ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم یا وزیر خارجہ خود کریں گے۔ وزیراعظم کو سوچنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ پہلے سے موجود اپیکس کمیٹیاں مؤثر انداز میں کام نہیں کرسکیں؟ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور نگرانی کے نظام کا نہ ہونا اور قائم کی گئی کمیٹیوں کے تسلسل سے نہ ملنے جیسے امور کی موجودگی میں بہتری ممکن نہ تھی۔ اپیکس کمیٹیوں کی وفاقی اور صوبائی سطح پر فعالیت ضروری ہے۔ اسی طرح پیغام پاکستان جیسی اہم دستاویز پر بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر مؤثر کام کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔ محض حکومتی سطح سے باہر نکال کر سول سوسائٹی کی مدد سے اس کام کے پھیلاؤ اور مؤثر انداز میں اسے آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنا ہوگا کیونکہ نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کے نظام سے ہی ریاست کی بقا اور امن کی ضمانت ممکن ہوسکے گی۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...