جمعہ , 19 اپریل 2019

نیوزی لینڈ دہشت گردانہ حملہ، اسلام مخالف مغربی پروپیگنڈے کا شاخسانہ

(تحریر: سید رحیم نعمتی)

نیوزی لینڈ بحر الکاہل کے جنوب مغرب میں واقع ملک ہے جو دو بڑی جزیروں اور چند چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ سمندر میں اس کے قریب ترین واقع خشکی آسٹریلیا ہے جس سے اس کا فاصلہ دو ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ دور افتادگی اس ملک میں موجود امن و امان اور سکون کی بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے لیکن جمعہ کے روز مسلمانوں کے خلاف ہونے والے دہشت گردانہ حملوں نے ثابت کر دیا کہ یہ دور دراز علاقہ بھی دنیا پر موجود فضا سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ یاد رہے جمعہ کی صبح نیوزی لینڈ کے دوسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد پر چند دہشت گرد عناصر نے دھاوا بول دیا جس کے نیجے میں 49 افراد شہید اور 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ آسٹریلوی شہری ہے جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس ناگوار واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ بھی اس اسلام فوبیا کا شکار ہو چکا ہے جس کے کالے بادل امریکہ اور یورپ میں چھائے ہوئے ہیں۔ آسٹریلوی دہشٹ گرد نے اپنی بندوق پر صلیبی جنگوں میں حصہ لینے والے مغربی کمانڈرز کے نام لکھے ہوئے تھے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ناروے کے مشہور مجرم اینڈریاس برایویک سے متاثر تھا۔

اینڈریاس برایویک نے 22 جولائی 2011ء کے دن بارود سے بھری گاڑی ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے مرکز میں دھماکے سے اڑا دی۔ اس کے بعد وہ آٹومیٹک گن کے ہمراہ اوٹایا جزیرہ چلا گیا جہاں ناروے کی لیبر پارٹی کے حامی جوانوں کا اجتماع منعقد ہونا تھا۔ برایویک نے اس اجتماع میں شریک جوانوں پر فائرنگ کر کے 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس نے اس دہشت گردانہ اقدام سے قبل پندرہ یا سولہ صفحات پر مشتمل ایک طویل بیانیہ بھی جاری کیا جس میں اپنے خیالات کا تفصیلی اظہار کیا۔ نیوزی لینڈ کے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ برینٹن ٹیرنٹ نے بھی برایویک کی تقلید کرتے ہوئے نہ صرف 76 صفحات پر مشتمل بیانیہ جاری کیا بلکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید نفرت کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مسلمانوں کی نقل مکانی کو روکنا ہے۔ ان دو دہشت گردوں کے بیانیوں کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں ایک مشترکہ نکتہ پایا جاتا ہے جو "اسلام فوبیا” ہے۔ اسی مشترکہ نکتے کے باعث یہ افراد مغربی دنیا کے دائیں بازو والی شدت پسند جماعتوں اور سیاست دانوں سے وابستہ تصور کئے جا رہے ہیں۔

اس بارے میں ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے کچھ دیر بعد ہی آسٹریلیا کے ایک سینیٹر نے بیان دیتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کرنے کی بجائے ان کی توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ فریز ایننگ نے اپنے بیانیے میں اسلام اور مسلمان برادری کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور حقائق کو ایسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گویا ان دہشت گردانہ حملوں کا اصلی قصور وار مسلمان ہی ہیں اور برایویک اور ٹیرنٹ جیسے قاتل افراد مسلمان مہاجرین کے حملوں کے مقابلے میں اپنے ملک کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ آسٹریلوی سینیٹر ایسے وقت کرائسٹ چرچ دہشت گردانہ حملوں کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا صرف 2.1 فیصد ہے۔ اسی طرح ناروے کی کل آبادی 50 لاکھ افراد ہے جس میں سے مسلمانوں کی آبادی دو لاکھ سے بھی کم ہے۔ ان دو یورپی ممالک میں مہاجر مسلمانوں کی آبادی اتنی زیاد نہیں کہ اسے اس قسم کے دہشت گردانہ واقعات کا حقیقی عامل قرار دیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ برایویک، ٹیرنٹ اور اس آسٹریلوی سینیٹر کے نظریات حقائق پر استوار ہونے کی بجائے ان کے نسل پرستانہ تنگ نظر نظریات اور سوچ پر استوار ہیں۔

مغربی دنیا میں یہ نسل پرستانہ اور متعصبانہ سوچ دائیں بازو کی جماعتوں میں کثرت سے ملتی ہے۔ ان میں سے بعض سیاسی جماعتیں اور گروہ تو بھرپور پراپیگنڈے کے ذریعے حکومتی سطح تک اوپر آنے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔ لہذا توقع کی جا رہی ہے کہ مغربی ممالک میں مہاجرین کے خلاف متعصبانہ پالیسیاں اور اسلام فوبیا پر مبنی اقدامات میں کمی ہونے کی بجائے مزید اضافہ ہو گا۔ گذشتہ سال جون میں آسٹریا کے صدر سیبسٹائن کورٹس نے سات مساجد بند کر کے 60 پیش امام ملک سے نکال باہر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح ڈنمارک کی پیپلز پارٹی کے ترجمان مارٹن ہینرکسن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگ کی تمام مساجد بند کر کے مسمار کر دینی چاہئیں۔ انہوں نے شدت پسندی کی انتہا کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ کام میں خود ذاتی طور پر انجام دوں۔ مغربی میں ابھرتی ہوئی نسل پرستانہ سوچ اور اسلام مخالف افکار میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ انہوں نے گذشتہ دو برس کے دوران یورپی ممالک میں سرگرم دائیں بازو کی نسل پرستانہ جماعتوں اور گروہوں کی حمایت کی ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ ہمیشہ کی طرح برایویک، ٹیرنٹ اور مسلمانوں پر حملہ کرنے والے ہر دہشت گرد کو "تنہا بھیڑیا” (Alone wolf) قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ تاثر دے سکیں کہ یہ اقدامات ان کے ذاتی ہیں اور اس کے پیچھے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں پائی جاتی۔ لیکن زمینی حقائق کا بغور جائزہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمان برادری پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد مغربی ذرائع ابلاغ اور سیاست دانوں کی جانب سے جاری اس غلیظ پراپیگنڈے سے شدید متاثر ہوتے ہیں جس میں اسلام اور مسلمانوں کو مغربی معاشروں کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...