اتوار , 9 مئی 2021

آسٹریلیا مسلمان مخالفین کیلئے زرخیز زمین ہے، ماہرین

کرائسٹ چرچ (مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گردی کے اندوہناک واقعات کے بعد آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسَن نے تصدیق کی کہ مرکزی حملہ آور آسٹریلوی شہری ہے اور اسے دائیں بازو کا ‘دہشت گرد’ قرار دیا۔نیوزی لینڈ کی انتظامیہ نے مرکزی دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو گرفتار کرکے اس پر قتل کا الزام عائد کیا۔حملے سے قبل آن لائن شائع کیے گئے اپنے منشور میں دہشت گرد نے خود کو ‘عام سفید فام شخص قرار دیا، جو آسٹریلیا کے ملازمت پیشہ اور کم آمدنی والی خاندان میں پیدا ہوا۔’

آسٹریلیا کی میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ 2009 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے گرافٹن میں ذاتی ٹرینر کی حیثیت سے کام کیا اور دو سال بعد یورپ اور ایشیا سیاحت کے لیے گیا۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس نے انتہائی دائیں بازو کے گروپوں سے روابط قائم کیے تھے یا نہیں تاہم اس طرح کے گروپس آسٹریلیا میں کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں۔

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں دائیں بازو کے میڈیا اداروں میں مسلمان مخالف بیانات شائع کرنا معمول کی بات ہے، جن میں سے کئی ارب پتی روپَرٹ مُردوچ کی ملکیت ہیں۔

میلبورن یونیورسٹی میں لبنانی نژاد آسٹریلوی ٹیچر غاسان ہیج نے کہا کہ ان میڈیا اداروں نے اسلام مخالف خیالات کو پروان چڑھانے کی ترغیب دی، جس سے انتہا پسندوں کو یہ سوچنے میں مدد ملتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف خونریزی قانون کے دائر میں ہے۔’

اگرچہ آسٹریلیا دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے لیے زرخیز زمین ہے لیکن دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کا بیان اور بالخصوص ہدف سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسے حملے کی تحریک، روایتی دائیں بازو کی قوم پرستی سے نہیں ملی بلکہ نئی قسم کی بین الاقوامی، انٹرنیٹ سے متاثرہ انتہا پسندی سے ملی۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں دائیں بازو کے ماہر اوریلین مونڈَن کا کہنا تھا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد نے بہت سوچ سمجھ کر نیوزی لینڈ کا انتخاب کیا، وہ یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ مسلمان کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔’آسٹریلیا میں انتہائی دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے مہاجرین اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی طویل تاریخ رہی ہے۔

20ویں صدی کے آغاز میں ملک نے ایسی کئی پالیسیاں اپنائیں جن سے غیر یورپی ممالک کے مہاجرین کو باہر رکھا گیا تھا۔ان اقدامات کو، جنہیں مجموعی طور پر ‘وائٹ آسٹریلیا پالیسی’ کا نام دیا گیا، 1973 میں ترک کر دیا گیا تھا۔

90 کی دہائی کے وسط میں پاولین ہینسَن کی ‘وَن نیشن’ جیسی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے قومی سیاست میں قدم جمانے کے لیے ایشیائی ممالککے مہاجرین کے خلاف جذبات ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

حالیہ چند سالوں میں ‘ون نیشن’ اور دیگر دائیں بازو کے گروپوں کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسلم مہاجرین کا مسئلہ اٹھانے کی وجہ سے سیاسی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔اگرچہ اس طرح کے بیشتر گروپس آسٹریلیا میں موجود ہیں تاہم جمعہ کے حملے سے قبل جاری منشور میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ، حملہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر نیوزی لینڈ گیا جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمان، دنیا کے دور دراز علاقوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

منشور اور حملے کی ویڈیوز میں آسٹریلیا کا چند ایک جگہ پر ذکر ہے لیکن اس میں دائیں بازو کی تحاریک اور دیگر ممالک بشمول امریکا، فرانس، ناروے اور سربیا میں پیش آنے والے واقعات کے کئی حوالے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے گروپوں سے متعلق آن لائن لطیفوں کے حوالے بھی موجود ہیں۔اوریلین مونڈَن نے کہا کہ یہ حوالے آسٹریلیا میں دائیں بازو کی نئی نسل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

پاولین ہینسن کی ‘ون نیشن’ سمیت منظم دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے واقعے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم کوئنز لینڈ کے آزاد سینیٹر فریسر اینِنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘مسلمان آج بھلے متاثرین رہے ہوں، لیکن عام طور پر یہ قصوروار ہوتے ہیں۔’

اپنے پیغام میں فریسر ایننگ نے کہا کہ ‘نیوزی لینڈ کی سڑکوں پر آج خونریزی کی اصل وجہ ہجرت کا وہ پروگرام ہے جس سے متعصب مسلمان سب سے پہلے نیوزی لینڈ کا رخ کرتے ہیں۔’آسٹریلیا کی پہلی مسلم خاتون سیینٹر مہرین فاروقی نے ہینسن اور ایننگ پر زبان کے ذریعے مسلمانوں پر حملے کا الزام لگایا۔انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘یہ واقعہ اسلام مخالف سوچ اور نسلی نفرت کا نتیجہ ہے۔’

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …