ہفتہ , 8 مئی 2021

بی جے پی اپنے موجودہ 40 فیصد ارکان کو ٹکٹ نہیں دے گی

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کیساتھ ہی تمام پارٹیاں امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہو گئی ہیں۔نریندر مودی نے جارحانہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے انتخابی نعرے کیلئے ’’میں بھی چوکیدار ہوں‘‘کا نعرہ استعمال کیا۔ بی جے پی اپنے موجودہ 40 فیصد ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہیں دے گی۔ کئی ارکان پارلیمنٹ کی سیٹیں بھی بدلنے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔ کسی سیٹ پر اقتدار مخالف لہر سے نمٹنے کیلئے امیدوار تبدیل کئے جا رہے ہیں تو کہیں ذات پر مبنی امیدوار طے کئے جا رہے ہیں۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کو اوڈیشہ کے پیری لوک سبھا سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ دراصل بی جے پی اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں اپنی بنیاد مضبوط کرنا چاہتی ہے ۔ ایسے میں اس بار مودی گزشتہ انتخاب کی طرح 2 نشستوں سے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ پیلی بھیت سے اس مرتبہ ورون گاندھی لوک سبھا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ مرکزی وزیر مینکا گاندھی اپنے بیٹے کیلئے یہ سیٹ چھوڑ سکتی ہیں۔ مینکا ہریانہ کے کرنال سیٹ سے انتخاب لڑنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔اس وقت ورون گاندھی سلطان پور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی سیٹ ایک بار پھر بدلی جا سکتی ہے ۔ انہیں لکھنو کی جگہ گوتم بدھ نگر سے انتخابی میدان میں اتارا جا سکتا ہے ۔اپنے بیانات پر موضوعِ بحث رہنے والے شعلہ بیان لیڈر ساکشی مہاراج کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے ۔ ساکشی مہاراج فی الحال اناو سیٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔بھارتی باہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے وزیراعظم مودی کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ذاتی شہرت کے لئے نریندر مودی نے اشتہارات پر قومی خزانے کے 3ہزار 44کروڑ روپے خرچ کردیئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …