جمعہ , 19 اپریل 2019

حریت پسندی کسی رنگ و نسل کی قید نہیں

(تحریر: صابر ابو مریم)

یہ کالم امریکی نوجوان لڑکی راشیل کوری کے نام ہے کہ جس نے رہتی دنیا تک تاریخ میں حریت پسندی کی ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے، جسے آج امریکی سامراجی حکومت بھی مسترد کرنے سے قاصر ہے۔ یوں تو امریکی حکومت کی پالیسیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں امریکہ کی ایک سو سال سے بھی زیادہ کی تاریخ ملتی ہے کہ جس میں امریکہ نے دنیا کی دیگر قوموں اور ممالک کو اپنا غلام بنانے کے لئے کوئی کسر باقی نہین رکھی۔ امریکہ نے اپنے ناپاک سیاسی عزائم کے حصول کے لئے دوسرے ممالک میں فوجی چڑھائیوں سے لے کر دہشت گرد گروہوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ فلسطین کی بات کریں تو یہاں بھی امریکہ صہیونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک ہے، کیونکہ امریکی حکومت صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو سالانہ بنیادوں پر اربوں ڈالرز کا اسلحہ امداد کے نام پر دیتی ہے اور یہ اسلحہ صہیونی افواج مقبوضہ فلسطین میں بے گناہ انسانوں یعنی فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ فلسطینیوں پر صہیونیوں کے مظالم کی ستر سالہ سیاہ تاریخ آج بھی نام نہاد مہذب دنیا کا منہ چڑھا رہی ہے اور سوال کر رہی ہے کہ آخر فلسطینیوں کو کیا سمجھا گیا ہے؟ کیا یہ انسان نہیں ہیں؟ کیا دنیا کے بنائے گئے انسانی حقوق کے قوانین اور بنیادی حقوق ان فلسطینیوں کے لئے نہیں ہیں۔؟

اسی طرح کے سوالوں کے جواب تلاش کرنے والی امریکی نوجوان لڑکی راشیل کوری ہے، جس نے فلسطین کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی اور اپنی حکومت کی ناجائز اور مجرمانہ پالیسیوں کے خلاف بھی سراپا احتجاج بنی۔ راشیل کوری امریکی تاریخ میں حریت پسندوں کی تاریخ میں مالکوم ایکس کے بعد کافی شہرت یافتہ ہے، کیونکہ اس نوجوان لڑکی نے مقبوضہ فلسطین میں فلسطینیوں کے حقوق کا عملی طور پر دفاع کیا اور اسی دفاع کی پاداش میں نہتی لڑکی کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ راشیل کوری ایک امریکی لڑکی تھی، جس نے اپنی جان کی قربانی دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ مدافع فلسطین و قدس ہے، راشیل کوری نے سرزمین فلسطین پر فلسطینیوں کا دفاع کرتے ہوئے صیہونیوں کے بلڈوزروں کا تن و تنہا سامنا کیا اور بلڈوزر کے نیچے آکر جام شہادت نوش کیا، یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جسے فلسطینی مزاحمت کی تاریخ میں بلکہ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

راشیل کوری واشنگٹن میں 10 اپریل 1979ء کو پیدا ہوئی، وہ Craig Corrie کے تین بچوں میں سب سے چھوٹی تھی، راشیل کوری کا گھرانہ امریکہ کے متوسط گھرانے میں شمار ہوتا تھا، کیپیٹل ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد راشیل کوری نے اولمپیا کے The Evergreen State College میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم کو جاری رکھا، ایک سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ راشیل کوری نے کالج میں Washington State Conservation Corps میں شمولیت حاصل کر لی، راشیل کوری کالج کی تین سالہ زندگی میں دماغی اسپتال میں مریضوں کی عیادت کے لئے پابندی سے جایا کرتی تھی۔ The Evergreen College میں راشیل کوری کو ‘Olympians for Peace and Solidarity نام سے ایک پروگرام کروانے کے بعد ’’امن کی سرگرم کارکن‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بعد میں راشیل کوری نے ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کی، جس کا نام International Solidarity Movement (ISM) ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی کام فلسطین میں غاصب اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف شعور و آگہی فراہم کرنا تھا اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا تھا۔ یہاں راشیل کوری نے اپنے ابتدائی سالوں میں ہی تنظیم کو ایک آزاد تعلیمی پروگرام فراہم کیا، جو کہ غزہ کے لئے تھا اور اس حوالے سے ISM کے ساتھ مل کر متعدد پروگرام ترتیب دیئے۔ راشیل کوری نے غزہ کے معصوم بچوں کے لئے Pen-Pal کے نام سے ایک پروگرام بھی منعقد کیا، جس میں سینکڑوں فلسطینی بچے شریک ہوئے۔

راشیل کوری 22 جنوری 2003ء کو فلسطین کے علاقے مغربی کنارے پہنچی، جہاں اس نے ISM کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہونے والے پرامن مظاہرے میں شریک ہونا تھا، راشیل کو اس حوالے سے دو روزہ تربیتی کلاس میں شریک ہونا تھا، ان مظاہروں کا مقصد غاصب صیہونی اسرائیل کو فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کرنے سے روکنا تھا اور پوری دنیا کے سامنے صیہونزم کا صلی چہرہ آشکار کرنا تھا۔ جنوری 2003ء میں Gordon Murray کی جانب سے شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق راشیل کوری ان رضا کاروں کے ہمراہ بھرپور خدمات انجام دے رہی تھی جو غاصب صیہونیوں کی جانب سے پانی کی لائن کو تباہ کئے جانے کے بعد اسے دوبارہ بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل تھے۔ Gordon Murray کے مطابق جس وقت ISM کے کارکنان اور دیگر کاریگر پانی کی ٹوٹی ہوئی سپلائی لائنوں کو مرمت کرنے میں مصروف عمل تھے، عین اسی وقت اسرائیلی افواج کے بھاری بلڈوزروں اور ٹینکوں سے کارکنان پر اور مرمت کاروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چند مرمت کار شہید ہوئے۔

راشیل کوری حالانکہ غزہ میں موجود تھی، لیکن 15 فروری 2003ء کو راشیل کوری نے امریکہ کی عراق میں مداخلت کے خلاف مظاہرے میں شرکت کی اور امریکی مداخلت کو عراق میں عراقی عوام پر ظلم قرار دیا، اس موقع پر راشیل کوری نے تاریخی کارنامہ انجام دیا اور بچوں کے ہمراہ مظاہرے میں امریکی جارحیت کے خلاف امریکی پرچم کو بھی نذر آتش کر دیا۔ راشیل کوری ایک امریکی شہریت یافتہ لڑکی تھی کہ جس نے فلسطینیوں کے حقوق کی خاطر سرزمین فلسطین پر پہنچ کر غاصب اسرائیلی دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، راشیل کوری کو 16 مارچ 2003ء میں اسرائیلی درندہ صفت افواج نے شہید کیا، راشیل کوری فلسطینیوں کے گھروں کا دفاع کرتے ہوئے اس بلڈوزر کے تلے دب کر شہید ہوئی، جس بلڈوزر کو فلسطینی گھروں کی مسماری پر معمور کیا گیا تھا۔ راشیل کوری دو ماہ تک غزہ میں مقیم رہی اور آخرکار صیہونیوں کے مقابلے میں تین گھنٹوں کی جدوجہد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئی۔

راشیل ایک فلسطینی نصراللہ کے گھر کے سامنے اپنے ہاتھوں میں میگا فون لئے کھڑی ہوئی تھی اور صیہونیوں کو پکار پکار کر فلسطینیوں کے گھروں مسمار کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی، جس گھر کو راشیل بچانے کی کوشش کر رہی تھی، وہ کئی روز تک اسی گھر میں مہمان بھی رہ چکی تھی۔ وہ استقامت اور پائیداری کے ساتھ اس بلڈوزر کے سامنے سینہ سپر رہی کہ جو فلسطینی گھر کو مسمار کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا اور بالآخر وہ بلڈوزر راشیل کوری کے جسم کو روندتا ہوا اس گھر تک جا پہنچا، جس کو بچانے کی خاطر راشیل کوری نے اپنی جان داؤ پر لگا دی تھی۔ مجھے گذشتہ برس راشیل کوری کے والدین سے بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ملنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ آج بھی اس بہادر بچی کے والدین اسی جذبہ اور جوش کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جو ماضی میں تھا۔

شاید اب یہ جذبہ زیادہ بڑھ چکا ہے، کیونکہ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی امریکی شہر سے نکل کر دنیا بھر کے حریت پسندوں کی صف میں شامل ہوچکی ہے اور قریہ قریہ راشیل کوری کی داستانیں زبان پر ہیں اور اس جدوجہد کے باعث فلسطینی کاز کو تقویت مل رہی ہے، جبکہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے مظالم دنیا پر آشکار ہو رہے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کہ جب کہ ایک طرف ظالم حکومتیں اور غاصب طاقتیں مظلوموں کا استحصال کر رہی ہیں تو وہاں ہی ان کے اندر سے مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کرنے والی قوتیں بھی جنم لے رہی ہیں، جو برائی اور ظلم کے راستے کو روکنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ حریت پسندی کا مکتب ایک ایسا مکتب ہے، جو تمام تر تفریق اور امتیازات سے بالاتر ہے۔ حریت پسندی کا مکتب کسی بھی قسم کے رنگ و نسل اور مذہب و مسلک کا قائل نہیں ہے، اس بات کا ثبوت خود امریکی بہادر نوجوان لڑکی راشیل کوری کی ذات ہے کہ جو آج بھی امریکہ میں ان تمام حریت پسندوں کے لئے مشعل راہ بنی ہوئی ہے کہ جنہوں نے مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کے خلاف علم بلند کر رکھا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...