جمعرات , 20 جون 2019

مسعود اظہر! چین آخر کیا چاہتا ہے؟

(عارف بہار)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعوداظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کی تجویز کو ”ٹیکنیکل ہولڈ” کا حق استعمال کرتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین نے چوتھی بار ویٹو کردیا۔ یہ تجویز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267سینکشنز کمیٹی کے تحت دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد پندرہ ہے جن میں پانچ ارکان امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ ویٹو پاور رکھنے والے جبکہ دس غیر مستقل ارکان ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں یہ بات واضح تھی کہ چین امریکہ اور دوسرے ممالک کا دباؤ برداشت نہیں کرسکے گا اور نتیجے کے طور پر مسعوداظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دیا جائے گا۔ اس کے بعد پاکستان پر بھی دہشتگردی کی معاونت کرنے والی ریاست کا ٹھپہ لگ جائیگا۔ بھارت اپنا پورا زور اسی مقصد کیلئے صرف کئے ہوئے تھا اور اس کام میں اسے امریکہ کی پوری شہ حاصل تھی۔ اس محاذ پر فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کیلئے زورآزمائی کرنا تھی اور اس فیصلے سے پاکستان کی معیشت کو نقصان اُٹھانا پڑ سکتا تھا بھارت نے پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے جو تصوراتی اور تخیلاتی تانا بانا بن رکھا تھا یہ اسی کی مرحلہ وار کڑیاں تھیں۔ چینی قیادت نے ایک عالمی مدبر کا کردار ادا کرتے ہوئے چوتھی بار اس تجویز کو ویٹو کر دیا اور کہا کہ اس کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چین کے اس فیصلے نے بھارت میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ چین نے پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی میں بہت ٹھنڈا قسم کا رویہ اپنایا تھا جسے بہت سے لوگ چینی روئیے میں مستقل سردمہری قرار دے رہے تھے۔ چین کے روئیے کو سمجھنے کیلئے اس کی پالیسی کا تجزیہ کرنا لازمی ہے۔ ایسا نہیں کہ چین مولانا مسعوداظہر کو ”مجاہداعظم” اور ”ہیرو” سمجھ کر ان کا دفاع کر رہا ہے۔ چین انہیں ایک مسئلہ ہی سمجھ رہا ہے مگر چین کے پاس اس مسئلے کا ایک الگ اور پائیدار حل ہے۔ وہ بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک ایسے تنازعے میں جس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہوں کسی فرد کو دہشتگرد قرار دینے اور اس طرح کے دیگر اقدامات مسئلے کی قبیح صورتی کیلئے میک اپ کا کام دے سکتے ہیں مگر اس طرح مسئلے کے اصل حل تک پہنچنے کیلئے کئی صدیاں درکار ہوں گی۔

ماضی میں شاید وقت گزاری کی یہ حکمت عملی گوارا تھی کہ چین ایک الگ تھلک علاقائی طاقت تھا اور اس پر بین الاقوامی امن کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری بھی نہیں تھی مگر اب یہ سارا منظر تبدیل ہوگیا۔ چین اب تنہائی پسندی کے دور سے آگے نکل کر ایک عالمی طاقت بن چکا ہے اور وہ اقتصادی ضروریات کے تحت پوری دنیا سے منسلک ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے جھگڑے اسے گھر کی دہلیز پر روکے ہوئے ہیں۔ اس کا پہلا منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری اسی جھگڑے کی زد میں ہے۔ اسی لئے کچھ دن پہلے چینی وزیر خارجہ نے بہت معنی خیز بات کی تھی کہ مسعوداظہر کے مسئلے کا ”ذمہ دارانہ” حل نکالنا چاہئے۔ چین خطے کی اُبھرتی ہوئی وہ طاقت ہے جس کی نظریں آنے والے زمانوں پر ہیں۔ اس نے اپنے مقاصد اور اہداف سالہا سال آگے کیلئے طے کر رکھے ہیں۔ سی پیک سمیت اس کے تمام ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے بھی یہ حکمت اور فلسفہ کارفرما ہے۔ چین علاقے کا ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے جھگڑوں کو سب سے زیادہ بہتر انداز میں جانتا ہے۔ 1951میں جب ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ زوروں پر تھا بھارت کے دورے پر جانیوالے چینی ثقافتی طائفے نے اپنا دورۂ سری نگر کوئی وجہ بتائے منسوخ کر دیا تھا۔ بھارت نے محض چینی روئیے کو جانچنے کیلئے وفد کے پروگرام میں کشمیر کو بھی شامل کیا تھا مگر ہندی چینی بھائی بھائی کے نعروں میں یہ لٹمس ٹیسٹ ناکام ہوگیا اور چینی ثقافتی طائفے نے دورۂ بھارت کے حصے کے طور پرکشمیر جانے سے گریز کرکے آنیوالے ماہ وسال میں چینی پالیسی کا اشارہ دیدیا۔

1959میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاسوں میں طویل مباحثے کے بعد چین نے کشمیر پر بیانات سے تھوڑا آگے نکل کر ایک نئی پوزیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جس میں بھارت کو سبق سکھانے کو مرکزیت حاصل ہو۔ اس کے بعد چین کے مسئلہ کشمیر میں دخیل ہونے کی پوری داستان موجود ہے۔ جب کشمیر پر نئی پوزیشن اپنانے کا فیصلہ ہوا تو یہ ہندی چینی رومانس کے انجام پذیر ہونے کے ابتدائی دن تھے۔ یوں چین اور کشمیر کا معاملہ مسعوداظہر کے گرد گھومتا ہے۔ چین مسعوداظہر، حافظ سعید اور سید صلاح الدین سمیت تمام معاملات کو افراد کی حیثیت میں دیکھنے سے زیادہ وسیع ترتناظرمیں دیکھتا ہے مسعوداظہر اگر عالمی دہشتگرد قرار دئیے جاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ پھر حافظ سعید کی باری آئے گی اس کے بعد کسی کشمیری کا نمبر آئے گا اور یوں باری باری سب دہشتگرد قرار پائیں گے مگر کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟۔ بھارت کی خودفریبی کاتو کوئی علاج نہیں وہ71برس سے خودفریبی کا شکار ہے مگر چین کے پاس ضائع کرنے کو وقت نہیں۔ وہ پاک بھارت کے عارضے کا حل اب اینٹی بائیوٹک کی بجائے عمل جراحی کے ذریعے چاہتا ہے تاکہ کشیدگی کے حقیقی اسباب کا خاتمہ ہوجائے یہ تکلیف دہ مشکل کسی حد تک ناپسندیدہ عمل تو ہے مگر خطے کو آگے بڑھنا ہے تو پھر اسی راستے کے انتخاب کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ چین مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا خواہش مند ہے اور پاکستان اس کردار کو تسلیم کرچکا ہے اب وقت آگیا ہے کہ بھارت بھی مسعوداظہر اور حافظ سعید جیسی علامتوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے حقیقت سے ہاتھ ملائے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

دس سالوں کی انکوائری

(ظہیر اختر بیدری) ’’نالائق‘‘ وزیر اعظم نیازی نے بیٹھے بیٹھے اشرافیہ کو پریشان کردیا کہ …