جمعرات , 18 اپریل 2019

اراکین نے ساتھ نہیں دیا تو بریگزٹ طویل ہوگا، برطانوی وزیراعظم

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اراکین پارلیمنٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے معاہدے کی حمایت نہیں کی گئی تو بریگزٹ کاعمل طویل ہوسکتا ہے۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تھریسامے کا کہنا تھا کہ ‘اگر ان کے معاہدے کا ساتھ نہیں دیا گیا تو یورپی یونین سے نکلنے میں کئی مہینے لگیں گے’۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف میں ایک مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپی یونین کونسل کے سربراہی اجلاس سے قبل اراکین پارلیمنٹ نے ان کے معاہدے کا ساتھ دیا تو یورپی یونین سے باہر آنے کے لیے 29 مارچ کے بعد ایک مختصر ٹیکنیکل توسیع ملے گی۔تھریسامے نے اعتراف کیا کہ ‘یہ ایک مثالی معاہدہ نہیں ہے، اگر بریگزٹ معمول کے مطابق مکمل ہوگیا تو برطانوی عوام اس کو قبول کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر اراکین پارلیمنٹ نے معاہدے پر اتفاق نہیں کیا تو متبادل کے لیے اس وقت حالات مزید گھمبیر ہوں گے’ اور برطانیہ کو مئی میں ہونے والے یورپی یونین کے انتخابات میں بھی حصہ لینا پڑے گا۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ‘یورپی یونین سے اخراج کے صرف تین سال بعد برطانوی عوام کو یورپی یونین کے انتخابات میں جانا مشکل سے تسلیم کیا جائے گا’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ پارلیمنٹ کی مشترکہ سیاسی ناکامی کی علامت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا ہے’۔تھریسامے نے اراکین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یورپین کونسل کے اجلاس سے قبل معاہدے کی حمایت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر ‘ہم کئی مہینوں تک یورپی یونین نہیں چھوڑیں گے’۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو گزشتہ برس نومبر میں بریگزٹ معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ کے اندر مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے اور دو مرتبہ بریگزٹ معاہدے کے خلاف بھارتی اکثریت سے قرار داد منظور کی جاچکی ہے۔

برطانیہ میں یورپی یونین سے اخراج کے لیے طویل تھکادینے والے مذاکرات کے بعد جون 2016 میں ریفرنڈم ہوا تھا لیکن معاہدے کی منظوری پارلیمنٹ میں اٹک کر رہ گئی تھی۔اراکین پارلیمنٹ نے 12 مارچ کو بھی ایوان میں بریگزٹ معاہدے کے خلاف ووٹ دیا تھا اور اس کے اگلے روز بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین چھوڑنے کی مخالفت میں بھی ووٹ دیا تھا۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے بریگزٹ کے حوالے سے دوسری مرتبہ ریفرنڈم کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا تھا، ان تمام اقدامات اور صورت حال کے باعث اپنی یورپی شناخت کو برقرار رکھنے کے خواہاں کئی برطانوی شہریوں کی امیدوں کو ایک دھچکا لگا ہے۔

تھریسامے کو نہ صرف حزب مخالف بلکہ اپنی جماعت کے اندر اور شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے بھی اس معاہدے کی مخالفت کا سامنا ہے۔یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتدا میں معاشی مشکلات ضرور ہوں گی لیکن مستقبل میں اس کا فائدہ ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں ہی خرچ ہوسکے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایکواڈور میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حق میں مظاہرہ، پولیس کا لاٹھی چارج

کیوٹو(مانیٹرنگ ڈیسک)ایکواڈور میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں ...