جمعرات , 25 اپریل 2019

بھارتی حکمرانوں کے منفی اشارے؟

پاک بھارت تعلقات میں حالیہ واقعات کے نتیجے میں پڑنے والی دراڑیں روزبروز نئے مسائل کو جنم دینے کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین شکل بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا ڈرون طیارہ تھا جسے پاکستانی فوج نے مار گرا کر ایک بار پھر بھارت کو تنبیہہ کردی ہے کہ اس کی طرف سے ہونے والی کسی بھی تخریبی کارروائی سے ہم غافل نہیں ہیں۔ آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھارتی ڈرون کی تصاویر شیئر کرکے دنیا کو ایک بار پھر ثبوت دے دیا ہے کہ بھارت اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے باجوڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ آنے والے 30دنوں میں کوئی شرارت کر سکتا ہے جس سے ہمیں ہوشیار اور چوکنا رہنا ہوگا اور جمعہ کے روز ملتان میں خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی الیکشن تک الرٹ رہنا ہوگا۔

19مئی تک مودی سرکار سے کچھ بھی بعید نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پلوامہ واقعہ کے بعد جس طرح پاکستان کیخلاف مودی سرکار نے دو رخی لڑائی شروع کی یعنی ایک طرف بھارتی فضائیہ کو پاکستان کیخلاف حملوں کیلئے بھیجا گیا‘ بھارتی بحریہ نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی اور دوسری جانب بھارتی میڈیا کو پاکستان کیخلاف زہرافشانی پر لگا دیا گیا۔ تاہم اللہ کے کرم سے پاکستان نے ہر محاذ پر بھارت کو نیچا دکھا کر اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس سے مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے اور اس کا انتخابات جیتنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ اس صورتحال میں جہاں پاکستان نے حوصلے کا ثبوت دیا اور دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کیخلاف بھارت جس طرح یکطرفہ الزامات لگا کر اسے دہشتگردوں کا حمایتی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں بلکہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی اور خواہشمند رہا ہے وہیں خود بھارت کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی 21سیاسی جماعتوں نے بھی مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیکر اس پر بھارتی افواج کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے سنگین الزامات لگائے۔ ادھر دنیا بھر میں پہلی بار مودی سرکار کے پاکستان مخالف بیانئے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کے جنگی جنون پر مبنی بیانئے کو رد کر دیا گیا۔ ان حالات نے مودی سرکار کو اگرچہ وقتی طور پر پسپائی اختیار کرنے پر ضرور مجبور کر دیا تاہم ایک اردو محاورے کے مطابق کتے کی دم سو سال تک بھی سیدھی رکھنے کی کوششیں رائیگاں ہی جاتی ہیں اس لئے موقع ملتے ہی بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر اپنی معاندانہ پالیسیوں کا آغاز کر دیا ہے اور بھارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اس نے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر چھیڑ چھاڑ کا آغاز کر دیا ہے۔

گزشتہ روز بھارتی ڈرون کا جاسوسی کی غرض سے چکری سیکٹر میں 150 میٹر پاکستان کی حدود میں داخل ہونا اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مودی سرکار بھارت میں انتخابات کے میدان میں اترنے سے پہلے کچھ نہ کچھ معاندانہ کارروائی کرتے ہوئے جہاں اپنی حالیہ خفت مٹانے پر تلی بیٹھی ہے وہیں وہ بھارتی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرکے ان سے بھاری مقدار میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہر حد کو عبور کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ جہاں تک بھارت کے انتخابات کا تعلق ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے پاکستان کا کچھ لینا دینا نہیں تاہم انتخابات کے مسئلے پر بھارتی حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں سے مقابلے کیلئے پاکستان کیخلاف سیاسی فوائد سمیٹنے کی اجازت کسی بھی طور نہیں دی جاسکتی۔ اس حوالے سے حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ بھارتی حزب اختلاف مودی سرکار کی ان چالوں کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور بھارت کے اندرونی سیاسی حالات سے مترشح ہو رہا ہے کہ مودی سرکار کیلئے آنے والے چناؤ میں مخالف سیاسی جماعتوں کیساتھ سخت مقابلہ بلکہ معرکہ ہونے جا رہا ہے جبکہ سیاسی تجزیہ کار بی جے پی کے مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا رہے ہیں اور پیشگوئی کر رہے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے جیتنے کے امکانات خاصے معدوم ہیں۔

بہرحال مودی سرکار واپس اقتدار میں آتی ہے یا نہیں اس سے پاکستان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے مگر اس بات میں ضرور دلچسپی ہے کہ بھارت کی سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی سیاسی معاملات سے بے شک جس طرح چاہیں نمٹیں لیکن اپنے اندرونی معاملات میں پاکستان کو گھسیٹنے کی کوشش کرنے سے باز رہیں کیونکہ پاکستان خطے میں مستقل امن کے قیام کا خواہشمند ہے اور بھارت کیساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم بقول وزیراعظم عمران خان اگلے چند ہفتوں کے دوران ہمیں مودی سرکار کی شرارتوں سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے چوکنا رہنا ہوگا کیونکہ 19مئی تک مودی کوئی بھی ایسی حرکت کرسکتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی ایک بار پھر بڑھ کر خدانخواستہ جنگ کے شعلے بھڑکانے کا باعث بن سکے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایران سے جنگ کی سازش، کہاں ہونے والی ہے یہ جنگ؟ (پہلا حصہ)

روسی ویب سایٹ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دیئے جانے میں …