بدھ , 19 جون 2019

پیرس کے پولیس سربراہ ‘یلو ویسٹ’ احتجاج روکنے میں ناکامی پر برطرف

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس کی حکومت نے دارالحکومت پیرس کے پولیس سربراہ کو یلو ویسٹ تنظیم کے مظاہرے کے دوران کشیدگی کو روکنے میں ناکامی پر عہدے سے برطرف کر دیا۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یلو ویسٹ تنظیم نے مظاہروں کے ذریعے صدر ایمانوئیل میکرون کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا تھا جبکہ پولیس اس احتجاج کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔

فرانس کے وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘ہفتے کو ہونے والا احتجا اور خاص کر چیمپ الیسز میں ہونے والا مظاہرہ کسی صورت قابل قبول نہیں اور صدر نے حکومت سے اس حوالے سے جواب طلب کیا’۔مظاہرین نمٹنے کے لیے پولیس حکمت عملی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پیرس پولیس کے سربراہ 66 سالہ مائیکل دیل پیوش کا برطرف کردیا گیا ہے اور دو روز میں ان کے متبادل کا اعلان کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی انتظامیہ چیمپ الیسز اور ملک کے دیگر علاقوں میں مظاہروں پر پابندی عائد کرے گی اور اگر وہاں مظاہرین کو جمع کیا گیا تو اس پر جرمانہ 38 سے 135 یورو فی کس بڑھا دیا جائے گا۔خیال رہے کہ دو روز قبل پیرس میں پرتشدد مظاہروں میں دکانوں کو دیگر کاروباری مراکز میں لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق یلو ویسٹ مظاہرین نے مردوں کے پہناوے تیار کرنے والے برانڈ بوس اور مشہور فوکیٹ ریسٹورنٹ کی کھڑکیوں کو توڑ دیا گیا جو یلو ویسٹ کی جانب سے دسمبر میں ہونے والے احتجاج سے بدترین تھا۔

مظاہرین نے ایک اپارٹمنٹ میں قائم بینک کو بھی نذر آتش کردیا تھا جس کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوگئے تھے تاہم فائر سروس نے اپارٹمنٹ کے رہائیشیوں کو نکالا اور آگ بھی بھجا دی۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس آگ سے 2 فائر فائٹر سمیت 11 افراد معمولی زخمی بھی ہوئے تھے۔

فرانس کے وزیر داخلہ کرسٹوفر کیسٹینر نے ایک ٹویٹ میں غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘آگ لگانے والے نہ تو مظاہرین ہیں اور نہ صرف مشکلات کھڑی کرنے والے ہیں بلکہ قاتل ہیں’۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ یلو ویسٹ کے احتجاج میں زور اس وقت آیا جب ایک روز قبل صدر ایمونوئیل میکرون اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسکی کے لیے پہاڑی علاقے پائیرنیز میں پہنچے تھے۔

دوسری جانب پولیس نے بتایا تھا کہ کارروائی کے دوران 44 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ فرانس میں گزشتہ برس نومبر میں ‘یلو ویسٹ تحریک’ شروع ہوئی تھی اور پیٹرولیم مصنوعات کو مہنگا کرنے پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور شہریوں کی بڑی تعداد نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ملک بھر میں تقریباً 28 ہزار افراد نے احتجاج کیا تھا جو حکام کے مطابق 17 نومبر 2018 کو ابتدائی طور پر باہر نکلنے والے عوام کے مقابلے میں 10 گنا سے بھی کم ہیں۔یلوویسٹ کی جانب سے 4 دسمبر کو احتجاج کے دوران 80 سالہ بزرگ خاتون ہلاک ہوئی تھیں اور کئی افراد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد ایک شخص اپنے بازو سے محروم ہوگیا تھا جو پولیس سے تصادم کے نتیجے میں ہوا تھا۔رواں سال کے اوائل 13 جنوری کو احتجاج کے دوران صحافیوں پر بھی حملے کیے گئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے مفرور صدرمنصور ہادی ریاض سے امریکہ فرار

صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی اپنے گھر والوں کے ہمراہ ریاض …