جمعرات , 18 اپریل 2019

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کا تاریخی پس منظر

کرائسٹ چرچ (مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد میں 3 دن قبل 15 مارچ کو فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید اور متعدد کو زخمی کرنے والے دہشت گرد سے متعلق یہ بات تو پہلے ہی سامنے آ چکی تھی کہ وہ آسٹریلوی نژاد ہیں۔تاہم ہر گزرتے دن دہشت گرد سے متعلق اہم معلومات سامنے آ رہی ہیں جو سب کے لیے حیران کن ہے۔

فائرنگ کرکے نمازیوں کو جاں بحق کرنے والے 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کے آباؤ اجداد کا تعلق یورپ سے تھا جو کئی سال قبل ہجرت کرکے آسٹریلیا پہنچے تھے۔برینٹن ٹیرنٹ کے والدین آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں مقیم تھے۔بنیادی طور پر برینٹن ٹیرنٹ فٹنس اور جم ٹرینر ہے اور حیران کن طور پر اس کا کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

دہشت گرد کے آباؤ اجداد کے مذہب کے حوالے سے اگرچہ کوئی تصدیقی بات سامنے نہیں آ سکی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ مسیحی ہے۔برینٹن ٹیرنٹ کے مذہب اور نظریات پر بحث نے اس وقت زور پکڑا جب انہیں نیوزی لینڈ پولیس نے 16 مارچ کو عدالت میں پیش کیا۔

کیوں کہ جب دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ پشیمان ہونے کے بجائے خاص طرح کے نشانات دکھاتے نظر آئے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کے نظریات پر باتیں ہونے لگیں۔برینٹن ٹیرنٹ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ ہاتھ سے خاص طرح کا ’اوکے‘ کا نشان دکھاتے نظر آئے۔

دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ ’اوکے‘ کے جس نشان کو دکھاتے نظر آئے،تاریخی اعتبار سے اس نشان کو ’اوکے جیسچر‘ کہا جاتا ہے، جو کئی صدیوں قبل بدھ مت اور ہندو مذہب کے مجسموں میں استعمال کیا جاتا تھا۔تاہم حالیہ چند سالوں میں اس نشان کو ’وائٹ سپرمیسی‘ یعنی ’سفید فام لوگوں کی بالادستی‘ کے نشان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ’اوکے‘ کے اس خاص نشان کو دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم گزشتہ تین سال سے تیزی سے یہ نشان ’سفید فام لوگوں کی بالادستی‘ کا نشان بنتا جا رہا ہے۔

اسی نشان اور ’وائٹ سپرمیسی‘ کے معاملات پر ہولی وڈ کی کم سے کم 6 فلمیں بھی ریلیز ہوچکی ہیں۔جن میں ’دی برتھ آف نیشن، امریکن ہسٹوری ایکس، ویلکم ٹو لیتھ، امپیریم اور بلیک لانس مین‘ شامل ہیں۔

کچھ عرب اور یورپی ممالک میں ’اوکے‘ کے اس نشان کو فحش نشان کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔’اوکے‘ کا یہ خاص نشان انگوٹھے اور پہلی انگلی کو آپس میں ملانے اور باقی تینوں انگلیوں کو سیدھا آرام دہ چھوڑ کر بنایا جاتا ہے۔اس نشان کو بعض افراد اور سیاستدان ‘اوکے‘ یعنی سب کچھ ٹھیک ہے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

اسی نشان کا استعمال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مد مقابل انتخابات لڑنے والی ہلیری کلنٹن کی جانب سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔اس نشان کو ’وائٹ سپرمیسی‘ یعنی ’سفید فام لوگوں کی بالادستی‘ کے لیے ابتدائی طور پر 2016 میں استعمال کیا جانے لگا۔

2016 میں اس نشان کو سب سے پہلے سابق برطانوی صحافی، تنگ نظر سیاستدان، نام نہاد سماجی کارکن, وائٹ سپرمیسی اور تنگ نظر نظریات کی تشہیر کرنے والی ویب سائٹ ’ڈینجرز‘ کے بانی 34 سالہ مینو یانوپولس نے استعمال کیا تھا۔انہوں نے امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس کے سامنے جاکر اس نشان کے ساتھ اپنی تصویر بنوائی تھی اور ’وائٹ سپرمیسیٓ‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔

مینو یانوپولس کی جانب سے اس نشان کو وائٹ سپرمیسی کے نشان کے طور پر استعمال کیے جانے کے بعد اگست 2017 میں امریکی ریاست میساچوٹس سے شروع ہونے والے سفید فام لوگوں کے مظاہروں میں استعمال کیا جانے لگا۔’آلٹرنیٹو رائٹس‘ مظاہرے جنہیں ’آلٹ-رائٹ‘ مظاہرے بھی کہا جاتا ہے، دراصل سفید فام لوگوں نے خود کو مزید حقوق دلوانے کے لیے شروع کیے۔

ان مظاہروں کو سفید فام لوگوں کے علاوہ دیگر افراد نے ’نیو نازی، نیو فاشسٹ، وائٹ سپرمیسسٹ، اینٹی سمائٹس، ہولوکاسٹ ڈنائرز، نیو کانفیڈریٹس اور کانسپائریسی تھیورسٹس کے مظاہروں کا نام دیا۔

یہ مظاہرے سفید فام لوگوں نے دراصل خود کو مزید حقوق اور بالادست کروانے کے لیے شروع کیے۔ابتدائی طورپر سفید فام لوگوں نے مظاہرے، سیاہ فام لوگوں، اقلیتوں (خصوصی طور پر مسلمانوں) کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے کیے جانے والے مظاہروں کو دیکھ کر کیے۔

ان مظاہروں میں شامل ہونے والے سفید فام لوگوں کا کہنا تھا کہ اس دور میں سیاہ فام اور اقلیتی افراد مظاہرے کرکے ان کی بالادستی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے وہ متبادل کے طور پر مظاہرے کرکے اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان ہی مظاہروں میں ’اوکے‘ کے نشان کو سب سے زیادہ استعمال کیا جانے لگا اور یہیں سے ’اوکے جیسچر‘ کا نشان ’وائٹ سپرمیسی‘ یعنی ’سفید فام لوگوں کی بالادستی‘ کا نشانہ بنا۔

یہی نشان بنا کر نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنے والا دہشت گردی بھی عدالت میں پیش ہوا، جس وجہ سے دنیا بھر میں ان کے نشان پر بحث ہونے لگی۔برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے مساجد پر حملہ کیے جانے سے کچھ دیر قبل جاری کیے گئے ‘مینی فیسٹو’ میں اس نے خود کو ’یورپین‘ اور ’سفید فام‘ قرار دیا۔

انہوں نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ ’ ان کا علاقہ، ان کی زبان، ان کا مذہب، ان کی ثقافت، ان کے سیاسی نظریات، ان کی فلاسفی، ان کی شناخت اور سب سے بڑھ کر ان کا خون‘ سب یورپی ہیں۔انہوں نے اپنے مینی فیسٹو میں پناہ گزین مخالف نظریات کا ذکر بھی کیا۔برینٹن ٹیرنٹ نے یہ منشور حملے سے صرف 9 منٹ قبل نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا ایرڈرن سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی ارکان کو ای میل کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ برینٹن ٹیرنٹ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، تاہم ان کے رشتہ داروں اور ان کے تازہ رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین سال کے دوران کیے گئے یورپی دوروں کے دوران حملے کی منصوبہ بندی کی۔

اس منشور میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک حملہ کرے گا تاکہ یورپی سرزمین پر غیرملکیوں کے باعث ہونے والی لاکھوں اموات کا انتقام لے سکے۔اس دستاویز میں لکھا تھا کہ جب تک ایک بھی سفیدفام زندہ ہے یہ لوگ ہماری زمین کو فتح نہیں کرسکیں اور ہمارے لوگوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے لکھے گئے 74 صفحات پر مشتمل منشور سے یہ اندازا ہوتا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چند سال میں یورپ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہوکر حملے کی منصوبہ بندی کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بظاہر برینٹن ٹیرنٹ یورپ میں پناہ گزینوں کی جانب سے کیے گئے واقعات میں سفید فام لوگوں کے ہلاک ہونے پر نالاں تھے اور انہوں نے اسی لیے ہی ان جیسے حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سےعدالت میں پیشی کے وقت ’وائٹ سپرمیسی‘ کے نشان ’اوکے‘ کے بنائے جانے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ بھی ’سفید فام لوگوں‘ کی بالادستی قائم کرنے کے لیے کیا۔خیال رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ اس وقت ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ہیں، ان پر عدالت نے قتل کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ڈنمارک : فلسطینی اسیران کے حق میں انسانی حقوق گروپ کی ریلی

ڈنمارک (مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی ممالک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کی ...