جمعرات , 18 اپریل 2019

ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں ٹرام پر فائرنگ، 3 افراد ہلاک، متعدد زخمی

یوتریخت (مانیٹرنگ ڈیسک)ہالینڈ کے شہر یوتریخت کے میئر کا کہنا ہے کہ ٹرام پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یوتریخت پولیس کے سربراہ نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔قبل ازیں پولیس نے 37 سالہ ترک نژاد مشتبہ ملزم گوکمین تانِس کی تصویر جاری کی تھی اور عوام کو تنبیہ کی تھی وہ ملزم سے دور رہیں۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘اناطولو’ نے ملزم کے عزیزوں کے حوالے سے کہا کہ ‘مشتبہ شخص نے خاندانی تنازع پر رشتہ دار اور ان کی مدد کرنے والوں پر فائرنگ کی۔’پولیس کی جانب سے قبل ازیں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 9 بتائی گئی تھی۔تاہم یوتریخت پولیس نے بعد ازاں زخمیوں کی تعداد 5 بتائی۔

قبل ازایں یوتریخت کے میئر جان وین زانین نے ‘ٹویٹر’ پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ‘اس مرحلے پر ہم فائرنگ سے 3 افراد کے ہلاک اور 9 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں، جن میں سے 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم واقعے کو دہشت گردی کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسی کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں۔’دوسری جانب انسداد دہشت گردی پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا تھا۔شہر کے میئر کی جانب سے واقعے پر شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی جو بعد میں واپس لے لی گئی۔

یوتریخت میونسپلٹی کے ویڈیو پیغام میں میئر نے کہا کہ گھروں میں رہنے کی ہدایت اس خوف کی بنیاد پر جاری کی گئی تھی کہ فائرنگ کے واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے۔’تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘اب تک ہم جو جانتے ہیں اس کے مطابق ایسا نہیں ہے۔’ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں مسلح شخص ٹرام میں سوار مسافروں پر فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا تھا۔

فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروس سمیت ریسکیو ادارے نے یوتریخت کے مغربی حصے میں ٹرام اسٹیشن کے قریب واقع اسکوائر کو گھیرے میں لے لیا۔ڈچ انسداد دہشت گردی سروس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہالینڈ کے شہر یوتریخت میں ٹرام پر فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر میں کئی مقامات پر فائرنگ ہوئی۔

بعد ازاں انسداد دہشت گردی چیف پیٹر جاپ آل برسبرگ نے ہیگ میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’ آج صبح یوتریخت میں مختلف مقامات پر فائرنگ ہوئی‘۔انہوں نے کہا کہ ’مسلح شخص کی گرفتاری کے لیے پولیس آپریشن جاری ہے‘۔ڈچ قومی انسداد دہشت گردی سروس کے سرابرہ نے کہا کہ ’این سی ٹی وی یوتریخت کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، ہم دہشت گردانہ مقاصد کو مسترد نہیں کرسکتے، کرائسز ٹیم متحرک ہے‘۔

یوتریخت کی پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا واقعہ 24 اوکٹو برپلین کے علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10بجکر 45 منٹ پر پیش آیا اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے تین ہیلی کاپٹر بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔

ہالینڈ کے میڈیا کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں ہلاک افراد میں سے ایک کی لاش پولیس کو چادر میں لپٹی ہوئی ملی۔جرمن پولیس نے کہا کہ انہوں نے ہالینڈ سے ملحقہ سرحد کی نگرانی بڑھا دی اور یوتریخت میں فائرنگ میں ملوث مسلح شخص کی تلاش میں ہیں۔

سرکاری عمارتوں، ایئرپورٹ کی سیکیورٹی سخت، مساجد و اسکول بند
ڈچ ملٹری پولیس کا کہنا تھا کہ فوری طور پر سرکاری عمارتوں، ایئر پورٹ اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ملٹری پولیس کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’یوتریخت میں جاری صورتحال کے پیش نظر ہالینڈ کے تمام ایئرپورٹ اور اہم سرکاری عمارتوں پر رائیل ملٹری پولیس ہائی الرٹ ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جائے وقوع کے اطراف قائم مساجد اور اسکولوں کو بند کردیا گیا جبکہ حکام نے یوتریخت میڈیکل سینٹر کو ہدایت جاری کی کہ وہ ایمرجنسی سینٹر کو مکمل فعال رکھیں اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کریں۔

کابینہ کا اجلاس ملتوی
برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے نے ہفتہ وار کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا۔ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے کہا کہ مقامی انتخابات سے چند روز قبل یہ حادثہ انتہائی پریشان کن ہے۔انہوں نے کہا کہ مساجد اور ایئرپورٹ کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ہالینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ یوتریخت میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، اس واقعے کو دہشت گرد حملے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہالینڈ کبھی بھی عدم برداشت کو ملک میں جگہ نہیں دے گا‘۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح حملہ آور نے ٹرام پر بلااشتعال فائرنگ کی جبکہ مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ حملہ آور واردات کے بعد گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ڈچ پبلک براڈ کاسٹر این او ایس کے مطابق ایک مزید عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں نے خون میں لت پت ایک خاتون کو سڑک پر دیکھا جنہیں میں نے اپنی کار میں لٹادیا تھا، خاتون بے ہوش تھیں جنہیں بعد ازاں پولیس نے ہسپتال منتقل کردیا۔مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق واقعے کے بعد ٹرام سروس کو منسوخ کردیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایکواڈور میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حق میں مظاہرہ، پولیس کا لاٹھی چارج

کیوٹو(مانیٹرنگ ڈیسک)ایکواڈور میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں ...