پیر , 22 اپریل 2019

نواز شریف کی نئی اور پرانی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں گے: چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا طبی بنیادوں پر معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نواز شریف کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے، آپ نے ان کی ساری رپورٹس لگائی ہیں۔

وکیل نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ 29 جولائی 2018 سے نواز شریف کی مختلف میڈیکل رپورٹس لگائی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں تمام میڈیکل رپورٹس پڑھنا ہوں گی۔خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس ہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ‘ہمیں معلوم ہے نوازشریف کا علاج لندن میں ہوا تھا، 29 جولائی 2018 کی میڈیکل رپورٹس سے پڑھنا شروع کرتے ہیں اور تمام رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔

کمرہ عدالت نمبر ایک میں محدود نشستوں کے باعث خصوصی سیکیورٹی پاس جاری کیے گئے ہیں جہاں صرف وکلاء، درخواست گزار اور فریقین کو اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، حمزہ شہباز اور راجا ظفرالحق کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

اس سے قبل نواز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جسے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسترد کردیا تھا۔یاد رہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو احتساب عدالت نے 7 سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ یہ سزا لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نجی اسکولز میں کتابیں، یونیفارم اور اسٹیشنری کی فروخت غیرقانونی قرار

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی محکمہ تعلیم نے نجی اسکولز میں کاپیاں، کتابیں، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت …