منگل , 11 مئی 2021

کرائسٹ چرچ کی مسجد النور کا مرثیہ

(ڈاکٹر دوست محمد) 

پوری دنیا کی فضا سوگوار ہے۔ صاحبان ضمیر واحساس بے چین وپریشان ہیں۔میڈیا پر بیٹھکوں سے لیکر چوپالوں اور حجروں اور دفاتر تک میں چند دن یہ سانحہ المناک پر مختلف تبصرے اور بحثیں ہونگی اور زندگی پھر سے رواں دواں ہو جائیگی۔ جن لوگوں کے عزیز واقارب اس سانحہ دل فگار میں شہید ہوئے ہیں،اُن کے ساتھ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم سے لیکر دنیا بھر کے حساس باضمیر لوگوں نے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔وطن عزیز اس لحاظ سے دگنا دردوکرب سے گزررہا ہے کہ9/11کے بعد دہشت گردی نے عالم اسلام کو جو جانی ومالی چرکے لگائے ہیں،اُس میں پاکستان بطور خاص شامل ہے ۔ اور اس حادثہ نابغہ میں بھی راشد نعیم جیسے کڑیل جوان شہادت اور شجاعت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہر نفس کے لئے موت کا ایک لمحہ مقررومعین ہے اُس سے نہ ایک سیکنڈ آگے اور نہ پیچھے ۔لہٰذا ان شہدا کی شہادت کا بھی یہی لمحہ مقرر تھا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ان سب کی شہادت قبول فرمائے۔ جمعۃالمبارک کا دن،مسجد النور کا پرنور ماحول اور باوضو بے گناہ انسان یقیناً شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوچکے ہوں گے۔اب جہاں تک اس واقعہ کے پس منظر اور پیش منظر کا تعلق ہے تو وہ ساری انسانیت اور بالخصوص عالم اسلام کے لئے قابل غور ہے ، اس لئے کہ اس وقت امریکہ اور یورپ میں لاکھوں مسلمان تعلیم ،روزگار اور تجارت وغیرہ کے سلسلے میں وہاں مقیم ہیں۔ ان میں کثیر تعداد کی دوسری اور تیسری نسل ان ممالک میں شہریوں کی حیثیت سے آباد ہے ۔عالم اسلام کے ان مہاجرین نے بڑی صعوبتیں برداشت کر کے وہاں کی شہریت حاصل کی ہے ۔اپنے آبائی علاقوں سے ایک طرح سے رشتے ناتے تقریباً سمیٹ کر اپنا سب کچھ وہاں بنایا ہے۔

لیکن عجیب بات ہے کہ صدیوں بعد بھی ان لوگوں کے ساتھ سفید فام نسل کے بعض سر پھرے نسلی بنیادوں پر حد درجے کا تعصب اور تنگ نظری برتتے ہیں ایشیائی اور افریقی ممالک کے ان لوگوں کو آج بھی ساری جمہورتیوں اور انسانی حقوق کے فلسفے کے باوجود دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری تصور کیا جاتا ہے۔یہاں تک محمد علی کلے اور کولن پائول اور مائیک ٹائی سن(عبدالعزیز) اوراس طرح کے بہت سارے نامعلوم لوگوں نے اس بات کا ریکارڈ پر احتجاج واعتراف کیا ہے لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم پر ایک دفعہ پھر دنیا بھر کے علماء دانشور،صحافی ،فلاسفر اور سیاستدان وغیرہ انسانیت کو درپیش اس اہم موضوع اور سلگتے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر شدومد کے ساتھ جنرل اسمبلی کی میٹنگ بلا کر زیر بحث لائے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ٹھوس سائنٹیفک بنیادوں پرقانون سازی کر کے انسانیت کو شیطانی چالوں سے محفوظ کرائے۔انسانیت کے نام اور بنیاد پر تاریخ انسانی میں پہلی اور آخری دفعہ اگر کوئی قانون سازی بشری حقوق کی حفاظت کے لئے بلا تفریق نسل ومذہب ہوئی ہے تو وہ قرآن کریم اور سنت مبارکہ کی تعلیمات ہیں۔۔۔اگر مغرب آج بھی تعصب کی عینک اتار کر اور مسلمانوں پر اپنے مادی مفادات کے پیش نظر بلاوجہ ودلیل دہشت گردی کے لیبل لگانا بند کر دے اور اخوت وانسانیت کی بنیاد پر مسلمانان عالم کے ساتھ مکالمہ کرے تو ان کو معلوم ہوگا کہ اسلام رحمت ،محبت اور شفقت کا دین ہے ، مغرب کو اسلام کا انسانیت نوازی پر مبنی پہلو صلیبی لڑائیوں کے دوران مسلمانوں میں میل جول سے معلوم ہوا تھا۔ صلاح الدین ایوبی کے شفیق ،با اصول وباحمیت شخصیت کا مغرب پر اتنا اثرہوا تھا کہ وہاں کے ادیبوں نے رچرڈی گریٹ کو صلاح الدین کا تلوار کا تحفہ دینے پر Sala din’s Giftجیسی نظمیں لکھی تھیں۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مغرب میں گزشتہ دوصدیوں سے وقتاًفوقتاً کروسیڈز کی آواز کہیں نہ کہیں بلند ہوتی رہی ہے۔خلافت عثمانیہ کے زوال سے لیکر9/11تک بین السطور اس کی باز گشت بھی سنائی دیتی رہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی آوازیں مغرب سے ہوں یا مشرق اور عالم اسلام کی طرف سے ،بہرحال انسانیت کے لئے نیک شگون نہیں ۔ آج کے عالمی گائوں کا ورلڈ آرڈر امن، سلامتی اور ترقی اور بقائے باہمی ہونا ضروری ہے ۔ اس لئے کہ سائنس کی ترقی انسانی ترقی کے لئے ہی استعمال ہونی چاہیئے ورنہ ہولناک ومہلک ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں ماضی کی یاداشتوں کو تازہ کرنا انسانیت کے لئے بہت تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ایک بہادر اور شفیق خاتون کے طور پر سامنے آئی ہے ، نیوزی لینڈ کے عوام نے مسلمان امت کے دل جیت لئے ہیں اور یہی جذبات اس وقت انسانیت کی اشد ضرورت ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک پاگل متعصب کے بندوق کے نعروں اور ان جیسے لوگوں کے متعصبانہ خیالات کو ہم رد کرتے ہیں اور اس کو انفرادی فعل وفکر سمجھتے ہیں ۔ہمارے ہاں سے ایسی آوازیں اٹھی ہیں کہ کاش ہمارے ہاں کے بعض تنگ نظر ومتعصب لوگوں کو بھی امریکہ اور یورپ ان لوگوں کے انفرادی قتل تصورکرتا اچھی اور صائب بات ہے لیکن اسلام کے خوبصورت پیغام کے ہونے کے سبب ہم آج کے حالات میں کہ اسلام کی اشاعت کا بہترین موقع ہے ہم تعصب کا جواب تعصب سے نہیں دینا چاہتے ۔۔۔البتہ ۔۔۔مسجد النور کے لئے علامہ محمد اقبالؒ کے اشعار کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔

’’مسجدنور‘‘ تو خون مسلمان کا امین ہے
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
پوشیدہ تیری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں
خاموش اذانیں ہیں تیری باد سحر میں
مسجدالنور میں اذانوں کی صدا یونہی بلند رہے ،آمین
(بشکریہ مشرق نیوز)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …