جمعرات , 13 مئی 2021

دمشق میں ایران، عراق اور شام کے اعلیٰ سطحی فوجی سربراہان کا اہم اجلاس

(تحریر: علی احمدی)

حال ہی میں ایران، عراق اور شام کے فوجی سربراہان دمشق میں ایک اہم اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ یہ اجلاس اپنی نوعیت میں بے سابقہ ہے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی اہم پالیسیاں طے کرنا تھا۔ یہ اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی اتحاد شام میں اپنے مشن اختتام پذیر ہونے کا اعلان کر چکا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر شام کے وزیر دفاع علی عبداللہ ایوب، ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل علی باقری اور عراق کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل عثمان الغانمی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ شام کے وزیر دفاع نے اس اجلاس کو "ایک مشن سے ماوراء” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگر قوتیں شام سے نکل جائیں گی۔ انہوں نے کہا: "ان کی شام میں موجودگی غیر قانونی ہے۔ وہ جارح قوتیں ہیں۔ کوئی طاقت ہمیں اپنی مرضی کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے سے نہیں روک سکتی۔”

تینوں ممالک نے سکیورٹی تعاون کیلئے مشترکہ کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔ عراق کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل عثمان الغانمی کے بقول دمشق اور بغداد نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے 2011ء میں شام میں سکیورٹی بحران پیدا ہونے کے بعد پہلی بار آئندہ چند دنوں میں ایک سرحدی گیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شام کے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران، عراق اور شام کا ایک میز پر جمع ہونا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا: "دمشق کی درخواست کے بغیر کسی بھی ملک کی شام میں فوجی موجودگی غیر قانونی اور ناجائز ہے اور شام کو اپنی سکیورٹی اور خودمختاری کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ شام دو طریقوں سے اپنی سرزمین کا بڑا حصہ واپس لینے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ دو طریقے امن و امان کیلئے کوشش اور امن و امان کے دشمن دہشت گرد عناصر سے جنگ تھے۔ ملک کا کوئی حصہ اپنے کنٹرول سے باہر نہیں رہنے دیں گے۔”

عربی زبان نیوز چینل العالم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے جو شام کے صدر بشار اسد کے دورہ ایران اور ایران کے صدر حسن روحانی کے دورہ عراق کے بعد منقعد ہوا ہے جس کا بنیادی مقصد امریکہ کی جانب سے تکفیری دہشت گرد عناصر کو "الباغوز” سے نکال کر عراق یا شام کے دیگر حصوں میں منتقل کئے جانے کے باعث پیدا ہونے والے خطرات اور پریشانیوں پر قابو پانا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ بعض ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ان دہشت گردوں کو افغانستان منتقل کر رہا ہے۔ ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل علی باقری نے کہا ہے اس تین فریقی اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے زیادہ تعاون دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا: "حاصل ہونے والی معلومات اور تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ "داعش” اور "النصرہ فرنٹ” نامی دہشت گرد گروہ درحقیقت امریکہ کی جانب سے تشکیل پائے تھے جن کا مقصد خطے کا نظم تباہ کر کے اسرائیل کے ناجائز قبضے، ظلم اور جارحیت کو وسعت دینا تھا۔”

عراق کے وزیر دفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل عثمان الغانمی نے بھی مشترکہ تعاون کے ذریعے امن و امان کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: "اس وقت دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدوں پر امن و امان کی بحالی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کی سکیورٹی عراق کی سکیورٹی سے جدا نہیں ہے اور شام عراق کی تزویراتی گہرائی جبکہ عراق شام کی تزویراتی گہرائی ہے۔” انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک چار جانبہ مرکز میں تعاون بڑھانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ اس کے امور میں پیشرفت حاصل ہو سکے اور حالیہ اجلاس میں بھی مستقبل قریب میں اس مرکز کی فعالیت مزید بڑھانے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ عراق کے بعض ذرائع ابلاغ نے تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں انجام پانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ میں البنا فرنٹ کے نمائندے حنین قدو نے کہا ہے کہ ایران، عراق اور شام کے درمیان مشترکہ جنگی مشقیں انتہائی ضروری ہیں۔ وہ عراق کی "المعلومہ” نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ جنگی مشقوں کے نتیجے میں امریکہ کی وہ سازش ناکام ہو جائے گی جس کے تحت امریکہ داعش کے ذریعے عراق میں قدم جمانا چاہتا ہے۔

حنین قدو نے کہا: "عراق کی سکیورٹی براہ راست طور پر شام اور ایران کی سکیورٹی سے مربوط ہے اور مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد خطے کے تمام ممالک کے سکیورٹی استحکام اور خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خاتمے کا باعث بنے گا۔” انہوں نے مزید کہا: "عراقی حکومت شام اور ایران کے تعاون سے ان جنگی مشقوں کے انعقاد پر سنجیدگی سے تاکید کر رہی ہے تاکہ اپنی فورسز کو بیرونی ممالک کی مدد کے بغیر اپنی سرحدوں کی حفاظت کے قابل بنا سکے اور عراق اور شام کی مشترکہ سرحد پر موجود سکیورٹی خطرات سے آگاہ ہو سکے۔” دوسری طرف امریکہ کے چیف آف آرمی اسٹاف نے عراق، ایران اور شام کے سہ فریقی فوجی اجلاس کے دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس خبر کی تکذیب کی جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ امریکہ شام میں دس ہزار فوجی باقی رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جوزف ڈنفورڈ نے کہا: "اس بارے میں فروری میں جس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم شام میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر مبنی صدر کے فیصلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔”

اس سے پہلے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ امریکہ شام میں اپنے فوجیوں کی نصف تعداد باقی رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اخبار کے مطابق امریکی فوج شام میں ایک ہزار فوجی باقی رکھے گی۔ دوسری طرف تین ماہ پہلے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تو یہ تعداد بہت کم تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 دسمبر کے دن شام سے دو ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف مکمل کامیابی حاصل کی جا چکی ہے۔ اسی طرح 22 فروری کے دن وائٹ ہاوس نے اعلان کیا کہ امریکی فوجیوں کی محدود تعداد امن و امان برقرار رکھنے کیلئے شام میں باقی رہے گی جو دو سو فوجیوں پر مشتمل ہو گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر مبنی اپنے فیصلے کے اعلان کے کچھ دن بعد کہا تھا کہ چار سو امریکی فوجی شام میں باقی رہیں گے جو شام کے شمال مشرقی علاقے اور عراق، شام اور اردن کی مشترکہ سرحد کے قریب واقع التنف فوجی اڈے میں تعینات کئے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …