منگل , 11 مئی 2021

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی، وجوہات اور جزئیات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

محسن نقوی کا یہ شعر کئی بار اپنے کالم کا حصہ بنایا، جب بھی دہشت گردی ہوئی، جب بھی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ شعر اپنے اندر ایک پوری تاریخ سمویا ہوا ہے۔ جابر حکمران اپنے مخالفین کو دیواروں میں چنوا دیا کرتے تھے۔ اب مگر دنیا کو اور طرح کی تکلیف کا سامنا ہے۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز 2 مساجد النور مسجد اور لِن ووڈ میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ پیش آیا۔ اس دہشت گردانہ واقعہ میں 50 نمازی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا۔ حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی، تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔ بنگلہ دیش نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ مساجد پر دہشت گرد حملے میں شہید پاکستانیوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ ابتدائی طور پر وزارت خارجہ کی جانب سے واقعے میں 6 پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شخص نعیم رشید اگرچہ اپنے بیٹے طلحہ سمیت شہید ہوگئے، مگر دہشت گرد کو روکنے اور اس پر قابو پانے کی ان کی جرات مندی کو عالم انسانیت سلام پیش کر رہی ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کرنے والے مسلح شخص سے متعلق آسٹریلوی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلیا کے جم میں ٹرینر رہ چکا ہے۔ آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں واقع "بگ ریور جم” میں ٹرینر کے طور پر کام کیا تھا۔ جم کی منیجر ٹریسی گرے نے عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کرنے والے مسلح حملہ آور کا نام برینٹن ٹیرنٹ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برینٹن نے 2009ء سے 2011ء تک ان کے جم میں کام کیا، جس کے بعد وہ ایشیا اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوگیا تھا۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹیرینٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یا اطلاعات نہیں تھیں۔ نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق حملہ آور دہشتگردی کی واچ لسٹ میں نہیں تھا، مگر اس نے حملے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی تھی۔ کیوی پولیس کا کہنا ہے کہ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ مساجد پر حملے سے 24 گھنٹے پہلے ہی ایک 74 صفحات پر مبنی آن لائن منشور سامنے آچکا تھا، جس میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس منشور میں لکھا تھا "میں ایک عام سفید فام شخص ہوں، جس نے اپنے لوگوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔” یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نیوزی لینڈ کی آخری مردم شماری 2013ء میں ہوئی تھی، جس کے مطابق وہاں 46 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں، جو کل آبادی کا ایک فیصد ہے۔ نیوزی لینڈ کے ادارہ شماریات (اسٹیٹس این زی) کے مطابق خود کو مسلمان بتانے والے افراد کی تعداد میں 2006ء سے 2013ء کے درمیان 28 فیصد اضافہ ہوا، جن میں سے ایک چوتھائی نیوزی لینڈ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ نیوزی لینڈ میں کئی افراد دیگر مذاہب سے مسلمان ہوئے ہیں اور وہ یا تو وہیں کے مقامی ہیں یا یورپی نژاد ہیں۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ حملے کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہم 200 ذاتوں اور 160 زبانوں سے زائد پر مشتمل قابل فخر قوم ہیں، ہمارے اقدار ایک جیسے ہیں، اس سانحے سے متاثرہ برادری کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، جبکہ سی اے سی آر کا کہنا ہے کہ مسلمان مہاجرین کو نیوزی لینڈ کے مقامی افراد کم ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے نیوزی لینڈ ہجرت کرنے والے مہاجرین کو چین اور فلپائن جیسے دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ منفی رویوں کا سامنا رہا۔ نیوزی لینڈ کے ہیرالڈ نیوز پیپر کی 2015ء میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک گروہ کی صورت میں مسلمان دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں زیادہ اہل اور قابل ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں روزگار تلاش کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے عہد کیا ہے کہ وہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں حملہ کرنے والے حملہ آور کا نام کبھی نہیں لیں گی۔ وزیراعظم نے کہا: ‘اسے (حملہ آور کو) اس دہشت گردانہ عمل سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں، جن میں سے ایک شہرت (بدنامی) بھی تھی، اسی لیے آپ کبھی مجھے اس کا نام لیتے نہیں سنیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "وہ دہشت گرد ہے، وہ مجرم ہے، وہ انتہا پسند ہے، لیکن میں جب بھی اس بارے میں بات کروں گی وہ بے نام رہے گا۔”

عالمی میڈیا پر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے کے بعد شائع ہہونے والی مختلف رپورٹس اور اعداد و شمار کا خلاصہ یہی ہے۔ حملہ آور سفید فارم نسل پرست شخص تھا اور اسے ممکنہ طور پر اپنے گروہ کے دیگر افراد کی مدد حاصل تھی۔ یہ سوال فضول ہے کہ حملہ آور ذہنی مریض تھا یا دہشت گرد؟ دہشت گرد سارے کے سارے ذہنی مریض ہی ہوتے ہیں۔ اپنے آن لائن منشور میں سفید فارم دہشت گرد نے حملہ کرنے کی وجہ بیان کر دی تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ٹارگٹ صرف مسلمان ہی کیوں تھے؟ اس لیے کہ عالمی یہودی میڈیا نے اس تسلسل کے ساتھ مسلم مخالف مہم چلائی، جس کا توڑ کسی بھی مسلم ملک کے نام نہاد ٹیلی ویژن دانشور نہ کرسکے۔ دہشت گردی کسی مذہب کا جزوِ لازم نہیں، نہ ہی کسی بھی الٰہی مذہب نے قتلِ انسانی کو جائز قرار دیا ہے۔ کئی مسلم گروہ اور تنظیمیں عالمی برادری نے دہشت گرد قرار دے رکھی ہیں، اس کا مطلب یہ کبھی بھی نہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا یا اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اسی طرح ہم سفید فارم دہشت گرد کے فعل کو بھی کسی الٰہی مذہب کے ساتھ نتھی نہیں کرسکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دہشت گردی اب صرف پاکستان، افغانستان اور مسلم معاشروں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس عفریت سے دنیا کو بچانے کے لیے پاکستان فرنٹ لائن پر ہے۔ جس طرح نیوزی لینڈ کے سماج اور بالخصوص ان کی وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تعزیت کی، اس چیز نے امید دلائی کہ امن پسند بغیر نسل و مذہب، زبان و رنگ کے اگر ایک دوسرے کا دست و بازو بن جائیں تو مٹھی بھر دہشت گردوں کو شکست دے کر دنیا میں امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ برطانوی حکام نے بھی متنبہ کیا کہ کرائیسٹ چرچ طرز کے حملے برطانیہ میں بھی ہوسکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نفرت انگیز بیانانات اور تحریریں دنیا کے امن کو مزید تباہ کریں گی، ہمیں امن کے راستے کا راہی بننا ہے تو کسی بھی دہشت گرد سے کہیں بھی کوئی رعایت نہیں کی جانی چاہیئے۔ خواہ وہ سفید فارم ہو یا سیاہ فارم، دائیں بازو کا ہو یا بائیں بازو کا۔ دہشت گرد تو بس دہشت گرد ہی ہوتا ہے اور اس کا مقابلہ حسن عمل اور حکمت سے کرنا ہی فتح کی طرف عملی قدم ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …