پیر , 22 اپریل 2019

امام علی علیہ السلام، انسانیت کے علمبردار

(تحریر: عظمت علی)

تخت، تاج، عہدہ، منصب، بادشاہی و سربراہی کی خاطر لوگ اپنے رقیب کے قتل سے دریغ نہیں کرتے، بلکہ اگر رقیب باپ، بھائی اور بیٹے کی شکل میں بھی ہو تو راستہ کا پتھر سمجھ کر اسے ہٹاد یتے ہیں اور منصب کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں، مگر مملکت خداداد کا بےتاج بادشاہ دنیا کی تین چوتھائی پر مطلق العنان حاکم اپنے نعلین کو بخیہ کررہا ہے اور جب شاگرد نے حیرانی سے سوال کیا کہ آپ؟! تو تبسم فرما کر جواب دیا، بہت بوسیدہ ہوگئی ہے اور اب کفاش کے پاس بھجتے ہوئے حیا آتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا تمہاری نظر میں اس کی کیا وقعت ہے؟ ابن عباس نے جواب دیا، آقا! اگر آپ سے منسوب ہے تو قیصر و کسرٰی کے تاج کی زینت ہے اور اگر نسبت ہٹالی جائے تو بس نعلین۔۔۔!!! آپ نے زمین پر دے مارا اور فرمایا، تمہاری دنیا میری نظر میں اس بوسیدہ نعلین سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔ جب آپ کی نگاہ میں دنیا اور حکومت کی کوئی چاہ نہیں تھی تو آپ نے منصب خلافت اختیار کیوں کیا؟ علماء، فضلاء اور صاحبان قلم نے قرآن، حدیث اور علم و عقل کے سایہ میں بہت سے جوابات تحریر فرمائے ہیں اور اس کا متقن و مدلل جواب خود آپ کے کلام گہر بار میں موجود ہے۔

آپ ارشاد فرماتے ہیں، مجھ سے ایک کہنے والے نے کہا اے ابن ابی طالب آپ تو اس خلافت پر للچائے ہوئے ہیں۔ تو میں نے جواب دیا، تم اس پر کہیں زیادہ حریص اور (اس منصب کی اہلیت سے) سے دور ہو اور میں اس کا اہل اور (پیغمبر سے) نزدیک تر ہوں۔ میں نے اپنا حق طلب کیا ہے اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہو اور جب اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں تو تم میرا رخ موڑ دیتے ہو۔ چنانچہ جب بھری محفل میں، میں نے اس دلیل سے اس (کے کان کے پردوں) کو کھٹکھٹایا تو چوکنا ہوا اور اس طرح مبہوت ہوکر رہ گیا کہ اسے کوئی جواب نہ سوجھتا تھا۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۰)۔ آپ دوسرے مقام پر ارشاد فرماتےہیں، بار الہا! تو خوب جانتا ہے کہ جو کچھ بھی ہم سے (جنگ و پیکار کی صورت میں) ظاہر ہوا، اس لئے نہیں تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی یا مال دنیا کی طلب تھی بلکہ یہ اس لئے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر) پلٹائیں اور تیرے شہروں میں امن و بہبودی کی صورت پیدا کریں، تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے اور تیرے وہ احکام (پھر سے) جاری ہو جائیں جنہیں بیکار بنا دیا گیا تھا۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۹) منصب خلافت سنبھالنا اس وجہ سے تھا کہ ۔۔۔ اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا۔ (دوسرے شخص کے حوالہ کردیتا) (نہج البلاغہ خطبہ ۳)۔

آپ کی سیاست عصر حاضر کی سیاست سے بالکل جداگانہ تھی۔ آپ کی سیاست آپ کے معنوی اور اخلاقی عمل سے بالکل ہم آہنگ تھا۔ آپ کی سیاست عین دین تھی اور آپ کی سیاست کو دین میں وہی مقام حاصل ہوچکا تھا جو کیل کو چکی میں ہوتا ہے۔ اسی نظریہ سے آپ نے اپنے برادر دینی اور نوع انسانی کے ساتھ وہ عادلانہ نظام پیش کیا جو دنیا کے لئے اپنی مثال آپ بن گیا۔ دور حاضر کی سیاست میں جھوٹ، مکر و فریب اور انسان کشی جیسے بزرگ جرائم شامل نہ ہوں تو وہ سیاست ہی نہیں مانی جاتی یعنی دین الگ اور سیاست الگ۔ معاویہ کی سیاست کا یہی نظریہ تھا۔ اس کا دین سے کوئی دور دور تک رشتہ و ناطہ نہیں تھا درآنحالیکہ وہ خلیفۃ المسلمین کا دعویدار تھا۔۔۔!!! بعض کوتاہ فکر لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کو سیاست نہیں آتی تھی جبکہ معاویہ سیاستدان تھا۔ یہ بات قابل قبول اس لئے نہیں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی سیاست دین کے اصولوں پر مبنی تھی اور معاویہ کی مکر و فریب پر۔۔۔!! امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے، "لولا التقی لکنت ادھی العرب” اگر خوف خدا نہ ہوتا تو میں عرب میں (مکر و حیلہ) کا ماہر ترین شخص ہوتا! (نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۸) دوسرے مقام پر ارشاد امام علیہ السلام ہوتا ہے: "واللہ ما معاویۃ بادھی منی” قسم بخدا! معاویہ مجھ سے زیادہ چالاک نہیں تھا۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۸)۔ حضرت علی علیہ السلام کی حکومتی وسیا سی تدبیر تھی کہ مظلوم کو اس کا حق اور بشریت کو آزاد زندگی گزارنے کا حق دے سکیں، جبکہ آج کی دنیا میں حقوق بشر کے نام پر بشریت کا خون ہو رہا ہے اور بھوک مٹانے کے بجائے بھوکوں کو درگور کیا جا رہا ہے۔ سچ ہے کہ دنیا آج بھی عدالت علی کی تشنہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان دشمن قوتیں اور ہماری ذمہ داری

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ) معاشرے کیلئے ریاست ضروری ہے، ریاست شہریوں کی آزادیوں، ناموس، جان …