منگل , 11 مئی 2021

پی آئی اے کی واجب الادا رقم منجمد، وزیر اعظم کے طیارے کیلئے گرانٹ منظور

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے سول ایوایشن اتھارٹی کو واجب الادا 96 ارب روپے منجمد کر دیے جبکہ قومی ایئر لائن کو وزیراعظم کے طیارے کی مرمت کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی گرانٹ کی منظوری دے دی۔ مذکورہ فیصلہ وزیرِ خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔اجلاس کے دوران ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی قومی ایئر لائن کی کمزور مالی صورتحال پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ پی آئی اے اس وقت سی اے اے کا 96 ارب روپے کا مقروض ہے۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی اپنی گارنٹی حد سے تجاوز کر چکی ہے اسی لیے اس نے رواں مالی سال کے اختتام تک جرمانہ سمیت پی آئی اے کو سی اے اے کے واجبات کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔اس دوران پی آئی اے کے لیے مالیاتی امداد پیکیج تیار کیا جائے گا جو وفاقی حکومت کو بجٹ سپورٹ یا نئے مالی سال کے آغاز پر نئے قرض کے اجرا کے قابل بنائے گا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ بجلی کے نرخ اور پانی کے استعمال کے لیے مجوزہ انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر مکمل بات چیت ہوچکی ہے جبکہ اس حوالے سے انتظامات بھی طے پاچکے ہیں جس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کو صوبوں کی طرح پانی کی تقسیم کی جائے گی۔

اس حوالے سے وفاقی اور آزاد جموں کشمیر کی حکومت کے درمیان آئندہ چند روز میں ایک معاہدے طے ہوگا جس کے بعد آزاد جموں و کشمیر صوبوں کی طرح اپنی بجلی کی ترسیل کار کمپنی بنائے گی جس سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے الیکٹرک کی طرح 6 روپے فی یونٹ وصول کرے گی۔

ادھر وزارت آبی وسائل اور وزارت توانائی و پاور ڈویژن کے حکام ابہام کا شکار ہیں کہ آخر یہ بجلی کی ترسیل کار کمپنی کس طرح ترتیب دی جائے گی کیونکہ بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے لائسنس کا اجرا ہوتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

تاہم پاور ڈویژن کے ایک سینئر حکام کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نیپرا کی جانب سے طے شدہ خصوصی نرخ کو پہلے اندرونی طور پر طے کرے گی۔ان انتظامات کے نفاذ سے قبل انہیں پہلے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کے بعد حکومتِ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے بعد بجلی کی ترسیل میں 10 ارب روپے کی اضافی لاگت آئے گی جو ملک بھر کے صارفین سے وصول کی جائے گی۔باوثوق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ای سی سی نے وزارت داخلہ کی درخواست پر وزیرِاعظم کے طیارے کی مرمت کے لیے 30 لاکھ ڈالر گرانٹ کی منظوری بھی دے دی۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …