جمعرات , 25 اپریل 2019

کیا محمد بن سلمان اپنے والد کا تختہ الٹ دیں گے؟

(تحریر: رحمان نعیمی)

سعودی خاندان کا حکومتی نظام نہ تو ایک جانے پہچانے سیاسی سیٹ اپ کی مانند ہے اور نہ ہی آمرانہ اشرافیہ ہے بلکہ زیادہ تر ایک ایسے مافیائی گروہ سے مشابہت رکھتا ہے جس کے تمام امور دوسروں سے خفیہ اور خاندان کے اندر محدود رکھے جاتے ہیں اور بہت ہی نادر مواقع پر خاندان کی اندر کی کوئی خبر منظرعام پر آتی ہے۔ انہیں نادر مواقع پر باہر آنے والی خبروں میں سے ایک برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں سعودی ولیعہد اور وزیر دفاع محمد بن سلمان کے بارے میں چند اہم حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ اس بات کی دلیل گذشتہ کچھ عرصے میں منعقد ہونے والی کابینہ اور سفارتی میٹنگز میں ان کی عدم موجودگی ہے۔ کابینہ کا ایک اجلاس تو ایسا تھا جس میں خود ملک سلمان بن عبدالعزیز بھی شریک تھے اور ان کے حکم کے باوجود ولیعہد محمد بن سلمان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس پر سعودی فرمانروا شدید ناراض بھی ہوئے۔

اس نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے والد ملک سلمان بن عبدالعزیز کے خلاف ممکنہ بغاوت کی خبریں پہلی بار منظرعام پر نہیں آئیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ولیعہدی کا منصب سنبھالتے ہی مختلف ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں جو بعض اوقات رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بھی بنیں۔ آخری بار ایسی خبریں اس وقت سننے میں آئیں جب سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیزی مصر کے علاقے شرم الشیخ گئے ہوئے تھے۔ ملک سلمان عرب لیگ اور یورپی یونین کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے شرم الشیخ گئے تھے۔ اس دورے میں سعودی فرمانروا کے ساتھ سعودی ولیعہد کی عدم ہمراہی اور اس کے بعد سعودی فرمانروا کی سکیورٹی پر مامور ٹیم میں تبدیلیوں پر مبنی خبر اس بات کا بہانہ بن گئی کہ مختلف ذرائع ابلاغ پر شہزادہ محمد بن سلمان اور ملک سلمان کے درمیان اختلافات اور سعودی ولیعہد کی جانب سے ممکنہ بغاوت کی کوشش کے بارے میں خبریں گردش کرنے لگ جائیں۔ ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان کو مصر میں اقامت کے دوران ایسی خبریں موصول ہوئیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان ان کے خلاف بعض مشکوک اقدامات انجام دے رہے ہیں۔

سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے انہی معلومات کی بنیاد پر اپنی حفاظت پر مامور سکیورٹی ٹیم تبدیل کر دی۔ دوسری طرف جب وہ سعودی عرب واپس لوٹے تو شہزادہ محمد بن سلمان ان کا استقبال کرنے نہیں آئے اور ان سے ملاقات کئے بغیر پاکستان، بھارت اور چین کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ مزید برآں، ملک سلمان بن عبدالعزیز اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اختلافات مختلف عہدوں پر اشخاص منصوب کرنے اور مختلف اشخاص کو اپنے عہدوں سے معزول کرنے میں بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ سعودی فرمانروا نے عادل الجبیر کو وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کر کے ان کی جگہ نستباً اعتدال پسند شخصیت کے مالک ابراہیم العساف کو نیا وزیر خارجہ مقرر کیا تھا۔ دوسری طرف شہزادہ محمد بن سلمان نے عادل الجبیر کو خارجہ امور میں اپنے مشیر کا عہدہ عطا کر دیا اور اپنے وفادار ساتھی کے طور پر انہیں خارجہ امور سے لاتعلق نہیں ہونے دیا۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان عادل الجبیر کو پاکستان، بھارت اور چین کے دورے پر بھی اپنے ہمراہ لے گئے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کا عہدہ محض رکھ رکھاو کیلئے نہیں بلکہ وہ بدستور وزیر خارجہ کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے والد ملک سلمان کے دورہ مصر کے دوران ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان کو نائب وزیر دفاع کے عہدے پر فائز کر دیا اور ریما بنت بندر بن سلطان کو بھی امریکہ میں سعودی عرب کا نیا سفیر مقرر کر دیا۔ شاید ان کے یہ خودسرانہ اقدامات تھے یا جمال خاشقجی کے قتل جیسا اقدام تھا یا اقتصادی اور دیگر امور میں ان کی جاہ پرستی تھی جس کے وجہ سے ملک سلمان بن عبدالعزیز ان سے شدید ناراض دکھائی دیے۔ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کے دن منعقد ہونے والی کابینہ میٹنگ میں اپنی ناراضگی کا واضح اظہار کیا اور ملک کو درپیش بے شمار مشکلات پر شدید پریشانی ظاہر کی۔ ان کی جانب سے اس شدید تنقید کا نشانہ ولیعہد محمد بن سلمان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا کیونکہ عملی طور پر ملک کی باگ ڈور مکمل طور پر شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اس وقت ملک سلمان اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان کے درمیان اختلافات کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب انہیں خاندانی حد تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہا اور وہ منظرعام پر آ گئے ہیں۔

لیکن اس وقت زیادہ اہم ایشو یہ اختلافات نہیں بلکہ ان اختلافات کے ممکنہ نتائج ہیں۔ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی فرمانروا اور سعودی ولیعہد میں پیدا ہونے والے اختلافات کی شدت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف بغاوت جیسا اقدام انجام دینے پر اتر آئے گا؟ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی فرمانروا کے دورہ مصر کے دوران ان کے خلاف بغاوت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے لہذا ممکن ہے اب سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز اپنے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان کو سزا دینے پر اتر آئے ہوں اور ان سے ان کے بعض اختیارات واپس لے لئے گئے ہوں۔ اس قسم کے اقدامات بھی ٹھیک ان سازشوں کی مانند ہیں جو ایک مافیائی طرز کے خاندانوں میں انجام پاتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران سے جنگ کی سازش، کہاں ہونے والی ہے یہ جنگ؟ (پہلا حصہ)

روسی ویب سایٹ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دیئے جانے میں …