جمعہ , 19 جولائی 2019

ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں

(مشتاق احمد شباب) 

تاویلات پیش کی جارہی ہیں، مقصد کیا ہے؟صرف اتنا ہی کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کر کے 50سے زائد مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے برینٹن ٹیرنٹ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج نہ ہوسکے، ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر اس پر صرف قتل کا مقدمہ درج ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی جلد سامنے آجائے گااور زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزا ہوگی جبکہ دہشت گردی کے مقدمے کے طول پکڑجانے کے امکانات ہیں اور سزا کے حوالے سے بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ،گویا ضروری نہیں کہ دس سال قید بھی ہوسکے، ادھر حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے لئے وکیل لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ خود لڑے گا اور اب تک یعنی ابتدائی طور پر اس کے مقدمے سے جڑے رضا کاروکیل رچرڈز پیٹرز نے حملہ آور کے خود مقدمہ لڑنے کے فیصلے کے بعد ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کے برتائو سے لگ رہا ہے کہ وہ ذہنی طور پرتندرست ہے اور ایک ایسا شخص ہے جو کسی دماغی معذوری کا شکار نہیں ہے، ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ ہونے والی چیزوں کو سمجھتاہے۔

رضا کار وکیل کے اس بیان کے بعد امریکہ ،بھارت،اسرائیل اور وہ دوسرے ممالک جو اسے ذہنی مریض قرار دے رہے ہیں ان کے موقف کی کوئی اہمیت نہیں رہی، تاہم یہ جو ماہرین قانون نے بیچ میں سادہ قتل اور دہشت گردی کے حوالے سے پخ نکال دی ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اپنی پارلیمنٹ میں بیان سے البتہ کچھ کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ نیوزی لینڈ کے قوانین میں تبدیلی پر غور کیا جائے گا، لیکن یہ ایک موہوم سی امید کہلائی جا سکتی ہے اس لئے کہ قوانین میں تبدیلی اور وہ بھی کسی مغربی ملک میں اتنی آسان بات ہر گز نہیں ہے کیونکہ ان ممالک میں سزائے موت کے خاتمے کیلئے پاپڑ بیلنے کی تاریخ بھی اتنی سادہ نہیں ہے ، اس کیلئے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے خاصی جدوجہدکی ہے اور وہ اتنی آسانی سے اس قسم کے قوانین کو رول بیک کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گی، اگرچہ یہ تو ہمارا خیال ہوسکتا ہے نہ کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ایسا کوئی عندیہ دیا ہے ، انہوں نے تو قوانین بدلنے یاسخت کرنے کی بات کی ہے جو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے۔

ادھرکینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ذرائع ابلاغ کی کارستانی ہے اور اسلام کے خلاف مواد شائع ہوتا رہا ہے جس میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے اس لئے اس قسم کا لٹریچر ہٹانا پڑے گا جو لوگوں کے ذہنوں میں نفرت پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے ذرائع ابلاغ نے مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف جس قسم کی نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے اس ضمن میںبلا سفیمی یعنی توہین رسالت کے بارے میں انتہائی نامناسب کارٹون شائع کرنے کی کمینگی کئی ممالک میں کی گئی،یہاں تک کہ ان شرمناک کارٹونوں کے مقابلے منعقد کرنے کے اعلانات کئے گئے اور نیٹ پر گوگل اور یوٹیوب پر یہ کارٹون اپ لوڈ کئے جاتے رہے مگر جب عالم اسلام میں اس پر شدید ردعمل آیا تو بھی مقابلے منعقد کرنے والے بد بخت اپنی کمینگی سے باز نہیں آئے اور گوگل اور یوٹیوب نے انہیں ہٹایا لیکن مغربی ممالک کے بعض اخبارات اور رسائل پھر بھی بہ ضد رہے ،جبکہ ان کے خلاف پاکستان نے سرکاری طور پر احتجاج کیا تو اس رذالت کو لگام دینے پر متعلقہ حکومتیں راضی ہوئیں، یہ الگ بات ہے کہ ایسی حرکتیں اب بھی کہیں نہ کہیں کی جاتی ہیںخبروں میں اس بات کو بہت نمایاں کیا جارہا ہے کہ حملہ آور دہشت گرد کے پاس موجود پانچوں بندوقوں کا لائسنس تھا، خدا جانے یہ لائسنس ہونے کے تذکرے کو کیوں اتنی اہمیت دی جارہی ہے اور کیا اس کے پاس اسلحہ بلا لائسنس ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی؟ یا وہ کوئی جیمز بانڈ ایجنٹ زیروزیروسیون تھاجسے تصوراتی عالمی قانون کے تحت ایک وقت میں سات قتل کرنے کا لائسنس(License to Kill)دیا گیا تھا اس پر ایک لطیفہ نما واقعہ یاد آگیا، کہتے ہیں جب برصغیر تقسیم ہوا تو ایک شخص اپنی تھری ناٹ تھری رائفل اٹھائے جارہا تھا۔ اس وقت سب سے اہم رائفل یہی ہوتی تھی جس میں بیک وقت گیارہ گولیوں کا میگزین ڈال کر یکے بعد دیگرے گیارہ فائرکرنے کی صلاحیت تھی، رائفل والے کو راستے میں سپاہی نے کھڑا کر کے پوچھا اس کا لائسنس ہے؟ رائفل والے نے کہا، کیوں نہیں،ہے نا۔ کہوتو دکھائوں! سپاہی نے کہا ہاں دکھائو۔

رائفل بردار نے رائفل کی نالی اس کی طرف کرتے ہوئے کہا، اس کا لائسنس اس کی نالی میں ہے،کہو تو ٹریگر دبا کر دکھائوں؟بے چارے سپاہی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور اس نے گھبراتے ہوئے کہا،بس بھائی، جائو مجھے نہیں دیکھنالائسنس۔ تو جن لوگوں نے حملہ آور کی پانچوں بندوقوں کو لائسنس یافتہ قرار دیا ہے ان سے پوچھئے،حضور اگر لائسنس بردار اسلحے کا مصرف یہ تھا تو پھر بغیر لائسنس کے بندوقوں سے کیا مقاصد حاصل کرنے تھے اس شخص نے، ایک سوال البتہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا کسی شخص کو اپنے ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک جاکر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے کردار اور رجحانات کا پتہ چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی یعنی خاص طور پر مغربی ممالک میں غیر ملکیوں پر کوئی بھی پابندی نہیں ہے اور جس کا جب جی چاہے ایک چھوڑپا نچ خود کار ہتھیار حاصل کر لے؟ لائسنس جاری کرنے والے ادارے اور اسلحہ ڈیلر ہتھیار فروخت کرتے وقت مقامی سیکورٹی اداروں کو الرٹ کیوں نہیں کرلیتے، یہ کیسے ملک ہیں جہاں جو چاہے اسلحہ لیکر دندنا تا پھرے،یہاں تک کہ حملہ کرنے سے پہلے اپنا’’منشور‘‘ بھی سوشل میڈیا پر ڈال دے اور سیکورٹی ادارے پھر بھی خاموش تماشائی بن کر اسے قتل وغارت گری کرتے دیکھتے رہیں۔بقول فضل احمد خسرو

مرنے والوں کیلئے ماتم میں سب مصروف ہیں
ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں
(بشکریہ مشرق نیوز)

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …