جمعرات , 25 اپریل 2019

23 مارچ پریڈ میں دوست ممالک کی شمولیت

(افشاں ملک) 

پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان کے خلاف عالمی سطح پرسازشیں کر کے پاکستان کو تنہا کرنا چاہتاہے ،پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنا اورمولانا مسعود اظہر کا جواز بنا کر سلامتی کونسل کے ذریعے پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنا بھارت کے اصل مقاصد ہیں ،اس دوران پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا اور بہترین سفارت کاری کے ذریعے دوست ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے ،اسی کا نتیجہ ہے کہ اس بار یوم پاکستان کے موقع پر برادراسلامی ملک ترکی کے ساتھ ساتھ چین کے فائٹر طیارے بھی فوجی پریڈ میں شامل ہو رہے ہیں ، یقیناً یہ پاکستان کی کامیابی اور بھارت کے لئے بہت بڑا پیغام ہوگا ۔ حکومت کی خصوصی کوششوں سے پاکستان کے دوست ممالک چین ،ترکی، ملائیشیا، آذربائیجان اور سعودی عرب نے یوم پاکستان کی پریڈ میں بھرپور انداز میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا کہ یوم پاکستان پریڈ کے خصوصی مہمانوں میں آذربائیجان کے وزیردفاع کرنل جنرل ذاکر حسن عوف، بحرین کی فوج کے کمانڈر جنرل شیر محمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور سلطنت عمان کے سرکاری عہدیداران بھی شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آذر بائیجان اور سعودی عرب کے فوجی دستے پریڈ میں شرکت کریں گے، جبکہ آذر بائیجان، بحرین، سعودی عرب اور سری لنکا کے پیراٹروپرز بھی شریک ہوں گے جو فری فال جمپ کا مظاہرہ کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ترکی کے ایف 16 اور چین کے جے 10 طیارے فضائی کرتب دکھائیں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے یوم پاکستان کی مناسبت سے نیا پرومو جاری کر دیا گیا ہے۔ یوم پاکستان کی پریڈ کا سلوگن ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو داد دینی ہوگی کہ وہ روایتی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں کچھ ایسے نئے امکانات اور سوچ بچار کے بعد ایسے فیصلے کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو مستقبل میں بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش اوربھارت کے ایک قدم چلنے پر دو قدم آگے بڑھنے کا پیغام، بھارتی وزیر اعظم کو خط، کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد،بھارتی پائلٹ کی رہائی، افغان مؤثر حل، امریکا چین، روس سے تعلقات اور جنگوں و تنازعات کے مقابلے میں انسانوں پر سرمایہ کاری کرنے اور غربت سمیت معاشی خوشحالی کوفوقیت دینا اہم نکات ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ سمیت ہماری عسکری قیادت نے جو حالیہ مہینوں میں افغانستان کے پرامن حل کے حوالے سے امریکا، افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان جو ڈپلومیسی کی اورجس طرح سے تمام فریقوں کو ایک میز پر بٹھایا وہ قابل قدر ہے۔ پاکستان کا فوری طور پر گرے لسٹ سے باہر آنا بھی حکومت کی اہم کامیابی ہے۔

امریکا کا پہلے سخت ردعمل اوربعد میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا عندیہ، سعودی عرب، ایران، یو اے ای، ملائیشیا، قطر سمیت چین سے معاشی معاملات ظاہر کرتے ہیں کہ بات آگے بڑھ رہی ہے جو مستقبل میں نئے معاشی امکانات سمیت خارجہ پالیسی میں نئی مثبت جہتوں کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے۔بھارت پلوامہ حملے میں پاکستان کوملوث کرکے عالمی سطح پرپاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرناچاہتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ بھارت نے جس ملک کادروازہ بھی کھٹکھٹایاایک ہی جواب ملاکہ آپ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔دنیا کے زیادہ ترممالک اس بات کوسمجھ گئے ہیں کہ خطے میں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ضروری ہے۔بھارت ،پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے دنیاکی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتارہاہے۔لیکن مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک جس طرح عوامی حمایت اورمقبولیت حاصل کرچکی ہے اسے نظراندازکرناممکن نہیں ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جو کھیل شروع کیا تھا آج خود عالمی تنہائی کاشکارنظرآرہاہے۔کشمیر کے معاملے پرکوئی مہذب ملک بھارت کاساتھ دینے کوتیارنہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے عالمی طاقتوں اوردوست ممالک سے تعلقات روزبروزمضبو ط ہوتے جارہے ہیں ،پاکستان خطے میں اوردنیامیں ایک اہم کھلاڑی کے طورپرابھررہاہے۔مشرق وسطیٰ میںبھی پاکستان کاکردار بڑھ رہاہے۔پاک چین دوستی دنیا کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ایک روشن مستقبل پاکستان کے دروازے پردستک دے رہا ہے۔ سی پیک گیم چینجراورصنعتی انقلاب کی نوید ہے۔امریکہ سے تعلقات میں بھی بہتری آرہی ہے،امریکہ کواحسا س ہورہاہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان اور خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔روس کے ساتھ کئی معاہدے ہوئے ہیں ،روس اورپاکستان کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں بہت خوشگوار ہیں،یہ بات بھارت کوپریشان کررہی ہے۔مسلم ممالک سعودی عرب، ایران، قطر ،یواے ای، ترکی، ملائیشیا آپس کے اختلافات کے باوجود پاکستان کے قابل اعتماد دوست ہیں اور پاکستان پر جب بھی کڑا وقت آیا ہے ان ممالک نے ہر اول دستے کے طور پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایران سے جنگ کی سازش، کہاں ہونے والی ہے یہ جنگ؟ (پہلا حصہ)

روسی ویب سایٹ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دیئے جانے میں …