جمعہ , 19 اپریل 2019

سمجھوتا ایکسپریس کیس پر سابق بھارتی جج کا رد عمل

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ سمجھوتا ایکسپریس پر سابق بھارتی جج مرکنڈے کاٹجو نے بھی رد عمل دیا۔ پروگرام تبدیلی کا سفر میں انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنسیز کے پاس سائنٹفیک تحقیقات کا طریقہ کار ہی موجود نہیں۔ ایسے میں اس کیس کا فیصلہ یہی آنا تھا۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے بعد بھارتی عدالت نے بھی انتہا پسند ہندوؤں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کے ملزمان کو بارہ سال بعد بری کردیا۔ مرکزی ملزمان سوامی اسیم آنند اور سنیل جوشی سمیت تمام ملزمان کو کلین چٹ جاری۔

پاکستان کی جانب سے سمجھوتا ایکسپریس کے ملزمان کی بریت کی مذمت کی گئی ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔بھارتی عدالت نے عدم ثبوت پر چاروں کو بری کردیا۔ مجرمان میں لوکیش شرما، کمل چوہان، اسیم آنند، رجیندر چوہدری شامل ہیں۔ جن کے خلاف بیانات بھی ریکارڈ ہوئے اور ثبوت بھی دیے گئے۔

ندیپ ڈانگے، رام چندرا اور سنیل جوشی وہ ملزمان تھے جنہوں نے سہولتکاری میں حصہ لیا۔تاہم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کو 2007 میں قتل کردیا تھا۔ جبکہ رام چندرا اور سندیپ ڈانگے تاحال مفرور ہیں۔ مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند پہلے ہی ضمانت پر رہا ہے۔

پاکستان کو دہشتگردی میں ملوث ملزمان کی لسٹ تھمانے والے بھارت سے یہ سوال ہے کہ سمجھوتا ایکسپریس میں جاں بحق 68 افراد کے قاتل کیا معصوم تھے؟ یا جو لوگ مارے گئے ان کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔یقیناً ہمیشہ کی طرح بھارت کے پاس ہٹ دھرمی کے سوا کوئی جواب نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

جولان پر اسرائیلی حکمرانی ناقابل قبول ہے، یورپی یونین

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ نے کہا ہے کہ شام کے ...