جمعرات , 20 جون 2019

کرائسٹ چرچ قتلِ عام اور کرپٹوکرنسی: حقیقت کیا ہے؟؟؟

کرائسٹ چرچ (مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسجد میں گھس کر فائرنگ کر کے 50افراد کو شہید کرنے والے نیو نازی (نازیوں کا نیادھڑا) دہشتگرد منشور جاری کیا۔ اس منشور میں ایک دعویٰ یہ کیا گیا تھا کہ اس نے کرپٹو کرنسی میں بڑی زبردست سرمایہ کاری کی تھی، بالخصوص بِٹ کنیکٹ نامی ایک ڈوب جانے والی فراڈ اسکیم میں۔

قاتل کے منشور کے دیگر دعووں کی طرح کرپٹوکرنسی کے متعلق دعویٰ یقیناً بے معنی ہے۔ یہ چٹکلہ اس موقع پر اس لیے چھوڑا گیا تاکہ میڈیا اس مدعے کے پیچھے لگے اور دائیں بازو کے انتہاء پسند اور نیو نازی گروپس میڈیا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق اور تگ و دو کا مذاق اڑا سکیں۔

یہ ان کیلئے اس وجہ سے کارگر ہے کیوں کہ کرپٹو کرنسیز دائیں بازو کے انتہا پسند دھڑوں کا پسندیدہ زریعہ بن چکی ہیں۔ 2017 کے بِٹ کوائن ببل کے دوران سفید فام قوم پرست کرپٹوکرنسیز کا حصہ بن رہے تھے کیوں کہ پےپال انہیں اپنے پاس سے نکال رہا تھا۔ مزید مضحکہ بات یہ ہے کہ بِٹ کنیکٹ 2016میں شروع ہوئی لیکن قاتل کا یہ کہنا ہے کہ اس نے پیسہ 2010میں سفر کرنے سے پہلے بنایا۔

بِٹ کوائن ایک ایسا پے منٹ سسٹم ہے جس کی اپنی ڈیجیٹل کرنسی ہے اور اس کا ریاستی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ کرنسی کی قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 2017 دسمبر میں ایک بِٹ کوائن کی قیمت 20 ہزار ڈالرز سے زرا کم، اپنے عروج پر تھی جبکہ مارچ 2019 میں ایک بِٹ کوائن کی قیمت چار ہزار ڈالرز ہے۔ لیکن آپ بِٹ کوائن پے منٹس کاسی کو بھی بھیج سکتے ہیں اور آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔

دائیں بازو کے انتہاء پسند گروپس کی بِٹ کوائن میں دلچسپی کی وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں روایتی پےمنٹ زرائع سے ہٹایا جارہا تھا۔ اگست 2017 میں امریکا بھر سے نیو نازیوں کے ورجینیا میں خونزیز اور پُرتشدد ریلی کیلئے جمع ہونے کے بعد پے پال اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں نے کئی دائیں بازو کے انتہاء پسندوں کو نکالا۔ جس کے بعد انہوں نے بِٹ کوائن کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، جس میں ان کی مدد کرپٹو کرسنی ببل نے کی۔ سفید فام نسل پرست رچرڈ اسپنسر نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ بِٹ کوائن ان انتہاء پسندوں کی کرنسی ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ بات مانی کے یہ کرنسی انہوں نے نہیں خریدی ہے۔

نظریاتی اعتبار اگرچہ بِٹ کوائن نے نیو نازیوں کو اپنی جانب آنے میں شاید مدد دی ہو۔ بٹ کوائن ان کی وکالت کرتا ہے جو کرپٹوکرنسیز سے نظریاتی سطح پر مخلص ہوں۔ لیکن گزشتہ ہفتے ہونے والے اسلام مخالف اور نسل پرستانہ قتلِ عام کے بعد کسی بھی باشعور انسان کی طرح اس کے پاس بھی نیو نازیوں کیلئے توہین و تحقیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

بِٹ کوائن کا نطریہ نیوز نازی نظریہ نہیں ہے۔ تاہم بٹ کوائن کا رائٹ لبرٹیرین انارکو کیپٹل ازم(وہ سیاسی فلسفہ جو مارکیٹ سے ریاست کی دخل اندازی کو یکسر ختم کرنے کا مدعی ہے) طبقہ کافی حد تک دائیں بازو کے انتہاء پسندوں کے دائرے میں آتا ہے۔

ڈیوڈ گولمبیا نے انے اپنی کتاب ‘دی پولیٹکس آف بٹ کوائن’ میں انتہاء پسند خیالات کی تاریخ کو جمع کیا ہے جیسے کہ یہودیوں کےخلاف چلنے والی کانسپریسی تھیوریز اور کیسے یہ انتہاء پسند خیالات پھیلے۔

انہوں نے فارن پالیسی کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ کرپٹوکرنسی صارفین میں بہت تھوڑی تعداد میں مکمل طور پر فاشسٹ یا نازی موجود ہوں گے۔ لیکن انہیں یہ تشویش ہے کہ فاشسٹ افراد کا وہ حصہ جو اس دائرے میں موجود ہے عام آبادی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ یہ کرپٹو کرسنی کمیونیٹیز میں سازشی خیالات موجود ہونے کے سبب ہے۔ کرپٹوکرنسی میں کئی لوگ دنیا کے متعلق ایسی باتیں پھیلا رہے ہیں جنہیں غیر متنازعہ ہونا چاہیئے۔

سال 2017 کے بٹ کوائن ببل کے عروج پر کوئی لوگوں کے یہ فکر لاحق تھی کہ وہ نیو نازی جنہوں نے بٹ کوائن خریدے تھے اب وہ امیر اور خود کفیل ہوگئے ہوں گے۔

تاہم وہ دولت نہ دِکھنے والی نہیں تھی۔ بٹ کوائن ایک فرضی نام ضروری ہے لیکن نامعلوم نہیں ہے اور اس کی تمام ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ ایسی کئی سائٹس ہیں جو دائیں بازو کے انتہاء پسند گروپس کے معلوم بٹ کوائن ایڈریسز کو دیکھتی ہیں۔ جان بیم بینک ٹوئٹر پر نیو نازی بی ٹی سی ٹریکر نامی اکاؤنٹ چلاتے ہیں اور سفید فام نسل پرستوں کے پاس آنے والے کرپٹو کرنسی فنڈز کا ریکارڈ بناتے ہیں۔ بیمبینیک نے ان گروپس پر نظر رکھنے کیلئے سدرن پوورٹی لا سینٹر کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ بٹ کوائن ان نیو نازیوں کے دہشتگرد گروپس کوپیسہ بنانے اور خرچ کرنے سلاحیت فراہم کرتا ہے۔ لیکن یہ مجھ جیسے انٹیلیجنس تجزیہ کار کو ان لوگوں کی نگرانی کرنے کی لامحدود سلاحیت دیتا ہے کیوں کہ وہ بٹ کوائن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تمام پرائیویسی حقوق سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں چند ہی بھروسہ مند ایکسچینج ہیں۔ امریکا کے مشہور بٹ کوائن ایکسچینج کوائن بیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے تشدد پسندوں اور انتہاء پسندوں کو ہٹانے میں فعال ہے۔ کوائن بیس نے ان انتہاء پسندوں کے زیر استعمال پلیٹ فارمز کو بھی ختم کیا ہے۔ انہوں نے پٹس برگ میں یہودیوں کی عبادت گاہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد انتہاء پسند کا ٹوئٹر کلون گیب(ایک سافٹ ویئر) ختم کیا تھا۔ ملزم نے مبینہ طور پر قتل عام کا منصوبہ وہیں بنایا تھا۔

نیو نازی اپنی شناخت کو چھُپا کر نہیں رکھ پاتے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک حالیہ ٹرانزیکشن ہے جس میں 0.001488 بٹ کوائنز ڈیلی اسٹارمر کو بھیجے گئے۔1488 کا ہندسہ نیو نازیوں کے درمیان استعمال ہونے والا ایک اشارہ ہے۔ جس میں 14 سفید فام بالادستی کا ایک نعرہ ہے جسے ‘دی فورٹین ورڈز کہا جاتا ہے

(“We must secure the existence of our people and future for white children”)

اور 88 ‘ہیل ہٹلر’ کیلئے ہے۔

بیم بینیک کا کہناتھا یہ لوگ اپنی شناخت کرانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ یہ غرور اور نااہلیت کا کتنا عجیب مرکب ہیں۔

آن لائن دائیں بازوں کے متشددگروہ اور سفید فام نسل پرستوں کو دیکھنے والے ڈینیئل ہارپر نے کہا کہ 2019 میں ان گروہوں کی دلچسپی بٹ کوائن میں کم ہوئی ہے۔ اس کے سراغ کا لگ جاناایک طرف پر بٹ کوائن ایک اچھا پے منٹ نیٹورک نہیں ہے۔

ہارپر کا کہنا تھا کہ بٹ کوائن کا ہمیشہ سے ایک مقصدتھا۔ یہ بغیر کسی پوچھ گچھ کے کیش کو کہیں اور منتقل کرنے کا ایک طریقہ تھا۔روایتی فنانشل سسٹم سے ہٹائے جانے بعد سفید فام نسل پرس پوڈکاسٹ نیٹورک ایک فنڈنگ چینل کیلئے بے تاب تھا، جس کی 2017 مین بٹ کوائن نے اور کرپٹوکرنسی نے زبردست مدد کی۔

بِٹ کوائن نیو نازیوں کیلئے بطور فنڈنگ چینل بھی ناکام ہوئی کیوں کہ کرپٹوکرنسی کا استعمال اب بھی بہت مشکل ہے۔سال 2019 سفید فام نسل پرست پوڈکاسٹس بمشکل ہی بٹ کوائن کا ذکر کرتے ہیں۔ ہارپر کے مطابق یہاں قیمتیں نہیں بڑھ رہی ہیں اس لیے وہ لوگوں کو اس میں سرمایہ کاری کرنے کا نہیں کررہے۔

یہ بھی دیکھیں

ن لیگ اور پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر متفق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ن لیگ اور پیپلزپارٹی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدے …