اتوار , 16 جون 2019

عوام کی چیخیں

(محمد بلال غوری)

جوں جوں وقت بدل رہا ہے، توں توں سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے انداز بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بالشویک انقلاب کے بعد سوویت یونین میں ’’انقلاب دشمنوں‘‘ کی مہلک ترین اصطلاح متعارف کروائی گئی۔ اب بھلا ایسے راندہ درگاہ لوگوں کے حق میں کون آواز اٹھا سکتا تھا۔ جوزف اسٹالن نے ’’تطہیر عظیم‘‘ کے نام سے ملک گیر مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد ’’غداروں‘‘ اور ’’انقلاب دشمنوں‘‘ کو چُن چُن کر ٹھکانے لگانا تھا۔ اِس مہم کے دوران سوویت یونین کی خفیہ پولیس ’’چیکا‘‘ نے واقعتاً سیاسی مخالفین کی چیخیں نکلوا دیں۔ اِس خفیہ پولیس کو بعدازاں NKVDکا نام دیدیا گیا اور آج کل یہ خفیہ ادارہ KGBکہلاتا ہے۔ جو شخص اسٹالن کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز اٹھاتا، اُسے ’’انقلاب دشمن‘‘ کہہ کر سرِبازار گولی مار دی جاتی۔ ملکی سلامتی کی آڑ میں جاری سیاسی انتقام کی اس لہر سے بچنے کے لئے ٹراٹسکی جیسے قابل قدر لوگوں کو جلا وطن ہونا پڑا مگر ’’چیکا‘‘ نے اُنہیں بیرونِ ملک بھی سکون سے نہ رہنے دیا۔ ٹراٹسکی کو قتل کرنے کے لئے بھیجی گئی پہلی ٹیم تو کامیاب نہ ہو سکی تاہم دوسری کوشش کامیاب رہی اور Ramon Mercaderنے میکسیکو میں ٹراٹسکی کو ڈھونڈ نکالنے کے بعد برف کی سِل ماتھے پر مار ہلاک کر ڈالا۔ روس کی طرح شمالی کوریا اور چین سمیت کئی ممالک میں ’’غدار‘‘ اور ’’امریکی ایجنٹ‘‘ کہہ کر سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنے کی روش عام تھی۔ مگرجب عالمی شعور نے انگڑائی لی تو سیاسی مخالفین کے قتل عام پر سوالات اٹھائے جانے لگے اور بنیادی انسانی حقوق کی باتو ں سے ’’تطہیر عظیم‘‘ کی مہم جوئی کا مزہ کرکرا ہونے لگا۔ درپیش صورتحال کے پیشِ نظر دنیا بھر میں سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے نت نئے طریقے سوچے جانے لگے۔ ماضی کی چینی قیادت نے اس اڑچن کا حل یہ نکالا کہ سیاسی مخالفین کو ’’ملک دشمن‘‘ یا ’’غدار‘‘ قرار دینے کے بجائے ’’کرپٹ‘‘ کہہ کر مار دیا۔ چنانچہ بدعنوانی کو ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا اور انسداد بدعنوانی کی مہم شروع کر دی گئی۔ جو شخص مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتا، اُس کے گلے میں ’’کرپٹ‘‘ کا ٹیگ ڈال کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ جب کسی پر کرپشن کا الزام لگ جاتا تو اُس کے قریبی عزیز اور دوست بھی لاتعلقی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ اِس تیر بہدف نسخے پر آج بھی عمل ہو رہا ہے۔ چین میں کرپشن کی سزا موت ہے اور دنیا بھر میں انسدادِ بدعنوانی کے نام پر سب سے زیادہ سخت سزائیں چین میں دی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا کے ہر معتبر سروے کے مطابق چین کا شماردنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب کے نام پر ’’وچ ہنٹنگ‘‘ ہو رہی ہے۔

جانے یہ پاک چین دوستی کا جمال ہے یا پھر کسی مقامی زرخیز ذہن کا کمال کہ ہم بھی کرپشن سے متعلق اس چینی ماڈل کے خمار میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ بتدریج اس بیانیے کو تقویت دی گئی کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور جب تک کرپٹ لوگوں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جاتا، یہ ملک ترقی و خوشحالی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹ لوگوں کے احتساب کو نئے پاکستان میں Signature Tuneکی حیثیت حاصل ہو گئی۔ جب احتساب کے نام پر انتقام کے خلاف شور اُٹھا تو وزیراعظم عمران خان نے شانِ بے نیازی سے کہا ’’کرپٹوں کی چیخیں تو نکلیں گی‘‘۔ جب کبھی مہنگائی کی نئی لہر آتی تو اپنے قائد کی تقلید کرتے ہوئے انصافیے بھی تجاہلِ عارفانہ کے سے انداز میں کہتے ’’اب کرپٹوں کی چیخیں تو نکلیں گی نا‘‘۔ لیکن رفتہ رفتہ چیخ و پُکار کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ معاشی و سماجی اثرات عام افراد تک منتقل ہونے لگے۔ پٹرول، گیس، بجلی اور پانی یہاں تک کہ جان بچانے والی ادویات کے نرخ بھی بڑھ گئے۔ سرمایہ کاری کے جمود اور معاشی سرگرمیاں مفقود ہونے سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے۔ بااثر افراد کی جائیدادیں ریگولرائز ہونے لگیں جبکہ عام افراد کے گھر گرائے جانے لگے لیکن انصافیے اسی دُھن میں مگن رہے کہ ’’کرپٹوں کی چیخیں تو نکلیں گی‘‘۔ اس دوران کرپشن کے خلاف مہم سندھ جا پہنچی اور پیپلز پارٹی کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا۔ جب سندھ حکومت نے ان اقدامات کو صوبائی معاملات میں وفاق کی مداخلت قرار دیا اور احتجاج کیا تو وزیراعظم عمران خان نے کہا ’’اب سندھ سے بھی چیخیں آنا شروع ہو گئی ہیں‘‘۔ چھوٹے صوبوں کی چیخیں نکلوانے کا سلسلہ تو قیامِ پاکستان کے فوری بعد ہی شروع ہو گیا تھا تاہم پہلی بار کسی اعلیٰ ظرف وزیراعظم نے برملا اس بات کا اعتراف کیا۔ گمان یہی تھا کہ چیخیں نکلوانے کی مشقِ سخن محض سیاسی مخالفین تک ہی محدود رہے گی مگر چند روز قبل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام کی چیخیں نکلوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں مہنگائی اور بڑھے گی اور عوام کی مزید چیخیں نکلیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا یہ بیان شائع ہونے کے بعد ردعمل آیا تو انہوں نے کہا کہ میری بات کو توڑ مروڑ کر شائع کیا گیا۔ آنے والے دن مشکل ضرور ہیں لیکن عوام کی چیخیں نہیں نکلیں گی۔ میں نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے متعدد ارکان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بریفنگ کے دوران یہ بات کہی گئی تھی۔ اس بیان کی حقیقت خواہ کچھ بھی ہو مگر عوام کی چیخیں تو نکل رہی ہیں اور وزیر باتدبیر اس سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں۔ اب آپ چاہیں تو چیخ و پُکار کرنے والے عوام کو بھی کرپٹ قرار دیدیں۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار ہی چیخیں نکلوانے کیلئے کافی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ قرض لینے اور سبسڈی ختم کرکے عوام کی چیخیں نکلوانے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت نے مارچ کے پہلے ہفتے میں 100ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ چھاپے ہیں اور زیر گردش نوٹوں کی تعداد 50کھرب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ چیخیں تو نکل رہی ہیں مگراس طرح کے بیانات کی تکرار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو چیخیں نکلوانے کا بہت شوق ہے۔ بات اسی شوق تک محدود رہتی تو اور بات تھی لیکن سچ تو یہ ہے کہ نڈر اور دبنگ حکمران چیخیں نکلوانے کا کریڈٹ لینے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ شاید انہیں معلوم نہیں کہ محکمۂ تحفظِ سیاسی حیات کے مطابق چیخیں نکلوانے کا کریڈٹ لینا مضر صحت ہو سکتا ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

گرفتاریاں۔۔ حکومت اور نیب پر الزام کیوں؟

(مصدق گھمن) پہلا سوال‘ کیا یہ آصف علی زرداری کیخلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کا مقدمہ …