جمعہ , 19 اپریل 2019

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی)

گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر بیک وقت نماز جمعہ کے دوران ایک انسان نما وحشی درندے نے بہیمانہ انداز میں خودکار رائفل سے فائرنگ کرکے 50 مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ مغربی دنیا میں اس اندوہ ناک المیہ کو وہ اہمیت اور توجہ نہیں دی گئی، جو بالعموم غیر مسلموں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو دی جاتی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ مغرب اور مشرق میں تقابل، تناظر، معیار، کسوٹی اور بنیادی قدروں میں جو خلیج پائی جاتی ہے، شاید وہ ناقابل عبور ہوتی جا رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر مغربی میڈیا اس سارے واقعے سے نظریں چرا رہا ہے۔ اس واقعہ کا اثر عالمی میڈیا پر یوں لگتا ہے کہ جیسے لفظ ’’دہشتگردی‘‘ ڈکشنری سے نکال دیا گیا ہے، کیونکہ میڈیا کو گویا باضابطہ ہدایت ملی ہو کہ یہ لفظ فی الحال استعمال نہیں ہوگا، وجہ ظاہر ہے کہ اس اعصاب شکن دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نہ مغربی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی قاتل و خون خوار دہشتگرد مسلمان ہے۔

مساجد میں گھس کر بے قصور نمازیوں پر اندھادھند فائرنگ کے المیہ پر انسانیت اشک بار ہے۔ مغرب کے انسانیت کے بہی خواہ اہل عقل حسرتوں کے عالم میں اپنی تہذیب کو کوس رہے ہیں کہ ہمیں کس حیوانی پٹری پر لگا دیا گیا ہے۔ مغرب میں بے راہ روی کی بڑھتی زہرناک لہر کو ’’روشن خیالی‘‘ اور ’’آزادی نسواں‘‘ کا کتنا بھی خوش نما نام دیا جائے، مگر اُس کے دوزخی تنائج ہمارے سامنے نیوزی لینڈ کی مساجد پر دہشت گردانہ حملے کی صورت میں موجود ہیں۔ مغرب میں آج سماجی ماہرین ایسے ہی واقعات کے پس منظر میں بحث کر رہے ہیں کہ آیا ہماری تہذیب زیادہ دیر تک ٹک سکے گی یا نہیں۔؟ سطح بین لوگ تہذیبوں کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے اسباب میں ناخواندگی، بیماری، موسمی بدلاؤ، سیاسی کشمکش، انسانی خروج، اقتصادی جمود، ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی اور خارجی حملوں کو گنتے ہیں، لیکن کسی تہذیب کے زوال آمادگی کا سبب اس کے اندر ایمان، انسانیت، اخلاق اور روحانیت کا فقدان ہے۔ نیوزی لینڈ کا المیہ اسی امر کا اعلان ہے کہ مغرب دجالیت کی سلطنت ہے اور یہاں کے دجال جمہوریت، انسانی حقوق اور خوش عنوانی کا کتنا بھی بلند بانگ اعلان کریں، لیکن حقیقت اس سے بہت متضاد ہے۔

مغربی دنیا کا ورکنگ مفروضہ یہ ہے کہ ’’دہشتگردی‘‘ صرف مسلمانوں سے منسوب ہے، اگر مغرب کا غیر مسلم کبھی کسی وجہ سے تشدد کی طرف مائل ہو جاتا ہے تو اُسے سزا دینے سے پہلے ان حالات اور عوامل کا جائزہ لیا جانا چاہیئے، جنہوں نے اسے تشدد پر مجبور کر دیا ہو۔ مغربی تجزیہ نگار جارحانہ انداز میں مسلمان ’’دہشتگردوں‘‘ کا محاسبہ کرتے پھرتے ہیں اور اس مسلسل کام میں ان کی زبانیں تھکتی ہیں، نہ منہ بند ہونے کا نام لیتے ہیں بلکہ ان کے منہ سے غصے اور نفرت کی آگ برابر نکلتی رہتی ہے۔ یہ کسی حال میں بھی اس امر کے قائل نہیں ہوسکتے کہ مسلمان بھی گوشت پوست والا انسان ہوتا ہے، وہ بھی اعصابی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے، وہ بھی کسی ہمدردی کا مستحق ہوسکتا ہے۔ ان مواقع پر کوئی داعیانِ مغرب کو کتنی ہی شائستگی کے ساتھ حقیقت حال سمجھائے، یہ حضرات آگ بگولہ ہوکر منہ نوچنے کو دوڑتے ہیں کہ پھر کسی کی یہ مجال نہیں ہوتی کہ وہ یہ کہے کہ ’’دہشت گردی‘‘ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ ملک اور نہ کوئی زبان و رنگ۔

نیوزی لینڈ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں نمازیوں پر جو دہشت گردانہ حملے ہوئے، اس بارے میں ایک طرف جہاں انسان دوست رہنما اس کی مذمت کرتے ہیں اور ملوث مسیحی دہشتگرد کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں ٹرمپ اور نتن یاہو جیسے قبیل کے نام نہاد لیڈر اس سانحہ کو دہشتگردی نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں، جو مسیحی اس واقعے میں ملوث ہے، وہ اسلام سے ڈرا ہوا تھا اور اسی لئے اس نے ایسا کیا۔ تعجب اس بات پر ہے کہ ابھی وہ بدبخت مسجد میں نمازیوں پر گولیاں برسا ہی رہا تھا کہ کئی ملکوں نے اسے اس بناء پر دماغی مریض کہنا شروع کر دیا، تاکہ اس بدبخت کو بچایا جاسکے۔ ٹرمپ اور نتن یاہو کا یہ کہنا کہ وہ اسلام سے ڈرا ہوا تھا، کا یہ مطلب ہے کہ وہ اس کی آڑ میں قتل عام کرتا رہے۔ دراصل مغربی ممالک روز اول سے ہی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر نیوزی لینڈ کا سانحہ رونما ہوا۔ اس سانحے کے پیچھے جو سازشیں کارفرما ہیں، ان کو بے نقاب کرنا مسلم ممالک کا کام ہے، تاکہ آئندہ کوئی بھی بدبخت امت مسلمہ کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...