جمعہ , 19 اپریل 2019

تیزی سے زوال پذیری کا شکار موجودہ ورلڈ آرڈر

تحریر: ڈگلس شوین (امریکی صحافی اور تجزیہ کار)

گذشتہ چند ماہ کے دوران ہم نے وینزویلا کے حالات خراب ہونے، کریملن کی جانب سے سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیداروں کی توہین کرنے والے افراد کو جیل بھیجے جانے پر مبنی نئے قانون کی منظوری اور شمالی کوریا کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات میں ناکامی کا مشاہدہ کیا ہے۔ شمالی کوریا نے اپنی جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ واضح ہے کہ عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے اور اس عدم استحکام کا تسلسل جوہری تناو، شدت پسندی سے درپیش خطرات، مسلسل غربت اور تیسری دنیا میں بدامنی اور سیاسی بحران کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر حکمفرما یہ عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضا امریکہ اور بعض یورپی ممالک سمیت مغرب میں قوم پرست تحریکوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باعث مزید پیچیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔

جیسا کہ میں نے اپنی کتا "سقوط” میں لکھا ہے ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ جمہوریت کی خاطر پیدا ہونے والا بحران ہے جس نے نہ صرف پوری دنیا بلکہ امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو کسی زمانے میں خود کو دنیا کیلئے جمہوریت کا معیار قرار دیتا تھا۔ درحقیقت ہم جس حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ موجودہ ورلڈ آرڈر کا زوال ہے۔ اس زوال کی مختلف وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں حکمفرما اداروں کی ناکامی اور 2008ء میں عالمی سطح پر اقتصادی بحران کے بعد عوام کا ان سے بدبین ہو جانا شامل ہیں۔ اس اقتصادی بحران نے دنیا کی تمام حکومتوں کو اقتصادی اور سیاسی چیلنجز سے روبرو کر دیا جس کے باعث امریکہ اور عالمی سطح پر بین الاقوامی اداروں پر اعتماد میں شدید کمی واقع ہوئی۔

عالمی سطح پر رونما ہونے والے اس اقتصادی بحران کی کئی علامات ہیں جن میں دنیا بھر میں خودسر حکومتوں کا ظاہر ہونا شامل ہے۔ اسی طرح لاطینی امریکہ اور افریقہ میں حکومتوں کی طاقت میں کمی اور براک اوباما کے دورہ حکومت میں امریکہ میں سیاسی اور سماجی سطح پر طبقاتی فاصلوں میں اضافہ بھی اسی بحران کے نتائج میں سے ہے۔ ہمیں سب سے پہلے موجودہ ناگوار صورتحال کی وجوہات اور نتائج کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آخرکار اداروں کی ناکامی، حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور گذشتہ آٹھ برس سے عالمی امن کی حفاظت کرنے والے نظام کا زوال اس بحران کا باعث بنا ہے جسے ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں۔ یہ اسباب مل کر نہ صرف عوام کا اعتماد بلکہ حکومتوں کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

پاگل شخص” پر مبنی ڈاکٹرائن سابق امریکی صدر نکسن کے دور میں بھی آزمائی جا چکی ہے۔ اس ڈاکٹرائن کا مقصد سابق سوویت یونین کے رہنماوں کو یہ تاثر دینا تھا کہ امریکی رویہ انتہائی غیر متوقع اور حتی غیر منطقی بھی ہو سکتا ہے۔ اس نظریے کے ذریعے سوویت رہنماوں کو یہ پیغام ارسال کرنا تھا کہ وہ کسی قسم کا جارحانہ اقدام انجام نہ دیں۔ یہ ڈاکٹرائن اپنے زمانے میں موثر ثابت ہوئی تھی لہذا آج بھی امریکہ اس "پاگل شخص” کی واپسی کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں اپنی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے۔ لیکن اس ڈاکٹرائن کے نام کے برعکس نہ تو نیکسن پاگل تھا اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ پاگل ہے بلکہ یہ دونوں اس اسٹریٹجی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے چنے گئے افراد ہیں جس کا مقصد عالمی سطح پر امریکہ کی شان و شوکت واپس لا کر اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

امریکہ کی اس ڈاکٹرائن کی بدولت موجودہ ورلڈ آرڈر کو شدید دھچکے لگ رہے ہیں۔ آج بھی امریکہ ماضی کی طرح عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے درپے ہے۔ جب امریکہ نے دیکھا کہ عالمی سطح پر حالات اس کے حق میں نہیں تو اس نے زمینی حقائق تبدیل کرنے کیلئے ہر قسم کا ہتھکنڈہ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا جس میں سے ایک "پاگل شخص” والی ڈاکٹرائن اپنانا تھا۔ لیکن امریکہ کے ان خودسرانہ اور یکطرفہ اقدامات کے باعث موجودہ ورلڈ آرڈر اپنی افادیت اور قانونی مشروعیت کھوتا جا رہا ہے اور دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس میں نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر نئی قوتیں ابھر کر سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس میں زیادہ اہم کردار علاقائی سطح کے اتحاد ادا کریں گے اور موجودہ بین الاقوامی اداروں کی گرفت روز بروز کمزور پڑتی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...