جمعہ , 19 اپریل 2019

اب مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے

(لیاقت بلوچ)

پلوامہ واقعہ کے بعدپاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے دنیا پر ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی وقت جنگ کی چنگاری الائو کی شکل اختیار کرکے دنیا کیلئے کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ نریندر مودی کی متعصبانہ سیاست اورجارحانہ حکومتی انداز نے مسئلہ کشمیر کو انسانی المیے میں تبدیل کر دیا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت نہتے کشمیریوں کے قتل عام، پیلٹ گن کے استعمال سمیت دیگر ریاستی جرائم نے وادی کشمیر کو حقیقی معنوں میں جیل بنادیا ہے، جس میں ایک کروڑ سے زائد باسیوں کا سانس لینا دشوارہے۔

اگرچہ1947ء کے بعد سے بھارتی جارحیت سے لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد 2لاکھ سے زائد ہے،اور پچھلی تین دہائیوں میں ایک لاکھ36ہزار سے زائدلوگوں کو جیلوں میں قید، اورایک لاکھ سے زائد گھروں اور دکانوں کوتباہ کرکے مصیبت میں گرفتار نہتے کشمیریوں کامعاشرتی و معاشی قتل عام کیاگیا۔ مگر8 جولائی 2016 ء کوبرہان وانی کی شہادت کے بعد ریاستی دہشت گردی اور ظلم و جبر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس عرصے میں نہتے مظاہرین پر 13لاکھ سے زائد مرتبہ پیلٹ گن کا استعمال ہوا جبکہ 9ہزار کے قریب آنسو گیس شیل استعمال کیے گئے۔شہید کیے جانے والوں کی تعداد 5سو سے زائد ہے، 15ہزار سے زائد زخمی ہوئے ، جبکہ 10ہزار سے زائدافراد کو حراست میں لیاگیا۔ مسجدوں ، دکانوں سمیت دیگر 6سو سے زائد شہری املاک تباہ کرکے مذہبی، معاشی اور معاشرتی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ 4سو سے زائد پرامن ریلیوں میں شریک افراد کوتشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ ایمبولینس بھی حملوں سے محفوظ نہ رہیں۔ نقل و حمل کو متاثر کرنے کیلئے 7ہزار سے زائد گاڑیوں کونقصان پہنچایاگیا ، جبکہ 11سو سے زائد بجلی ٹرانسفامرز کو تباہ کرکے بجلی سے محروم کیاگیا۔ صرف 2018ء میں 127مرتبہ انٹرنیٹ کی سہولت معطل کی گئی تاکہ وادی سے باہر دنیا بھارتی دہشت گردی سے کے بارے میں کچھ نہ جان سکے۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے طاقت کے استعمال کاوحشیانہ، غیر دانشمندانہ اور غیر انسانی مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسند اور دہشت گرد ظاہر کرکے بے دردی سے بم دھماکوں اور بے رحمانہ فائرنگ سے شہید کیاگیا اور انکے جسدخاکی کی کھلے عام بے حرمتی کی گئی جس کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت مانگنے کی وجہ سے نشان عبرت بنانا مقصود تھا۔ پاکستان بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہ رہا،صرف 2018ء میں بھارتی افواج نے ورکنگ بائونڈری اور لائن آف کنٹرول پر 2350مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ، 36افراد شہید جبکہ 142سے زائد زخمی ہوئے۔

اس پس منظر کے ساتھ جب پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری فورسز پر حملہ ہوا تو نریندر مودی نے اسکی آڑ میں بالاکوٹ پرجارحیت کرکے اس صورتحال کو اپنی انتخابی کامیابی کیلئے استعمال کرنا چاہا، مگر یہ اللہ تعالی کا خصوصی کرم، افواج پاکستان کا بھرپور عزم اور قوم کا اتحاد تھا جس نے نریندر مودی کے عزائم کو خاک میں ملا دیا، اورکشمیریوں کی بیمثال جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی سازش ناکام بنا دی۔فوج ، ائیرفورس اور نیوی کے کارناموں سے پوری قوم میں نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ قومی قیادت نے یکجان ہو کر مضبوط مو قف اپنایا اور عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ جماعت اسلامی نے بھار ت کیخلاف ہر اقدام کا غیر مشروط ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ جماعت نے ہمیشہ قومی سلامتی اور وطن کی بقا کیلئے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کے ساتھ خون کا کا نذرانہ پیش کیا ہے، جس کے اپنے اور پرائے معترف ہیں۔ وطن عزیز کی حفاظت کیلئے اس تاریخی اور مسلسل کردار کو قائم و دائم رکھا جائے گا۔

پلوامہ واقعہ کی آڑ میں بھارت نے جماعت اسلامی جموں کشمیر پرپاکستان کی حمایت اور آزادی کے مطالبے کا الزام لگا کر پابندی عائد کر دی ، مرکزی و ضلعی قیادت سمیت سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا اور دفاتر سمیت تعلیمی وفلاحی ادارے ریاستی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ حریت قیادت کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، سید علی گیلانی نظربند ہیں، یاسین ملک اور شبیرشاہ جیلوں میں قید ہیں، جبکہ میرواعظ عمرفاروق کو این آئی اے میں طلبی کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی اور انکی رفیقات کار کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ قائدین حریت کے رشتہ داروں کوبے بنیاد مقدمات میں محض بدنام اور ٹارچر کرنے کیلئے ملوث کیا جارہا ہے۔ سرچ اپریشن کے نام پر بستیوں کی بستیاں اجاڑی جارہی ہیں۔ باغات اور فصلیں تباہ کرتے ہوئے کشمیریوں کو معاشی لحاظ سے بھی مفلوج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے گورنر راج نافذ کرتے ہوئے دیگر اقدامات کے علاوہ سپریم کورٹ کے ذریعے دفعہ 370اور 35 اے کو غیر مو ٔثر بنانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ ریاست کا مسلم تشخص تحلیل کرتے ہوئے وہاں غیر ریاستی ہندوئوںکو بڑے پیمانے پر آباد کیا جاسکے۔صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ بھارت نواز قیادت اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلی بھی بھارتی حکومت کے اقدامات کا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن بلاشبہ ناگزیر ہے لیکن اس خواہش میں مسئلہ کشمیر نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حل کیے بغیر امن عمل آگے بڑھانا پائیدار نہیں ہوگا۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بھارت کی تمام تر ریاستی دہشت گردی اہل کشمیرکا جذبہ آزادی سرد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ تحریک آزادی ماضی کی نسبت زیادہ ہمہ جہت ہے ،اورشہری و دیہی ، خواتین و مرد، بچے و نوجوانوں سمیت شمال و جنوب تک پھیل چکی ہے۔ مزاحمتی قیادت کی بصیرت قابل تحسین ہے۔اسکی دانش مندانہ حکمت عملی سے پوری ریاست میں یکجہتی کی فضا قائم ہوئی اور جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار نوجوانوں نے تحریک آزاد ی کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنا دیا جو بھارت کی سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود نئے عزم کے ساتھ منزل کی جانب گامزن ہے ،انکی استقامت کے نتیجے میں ہی بھارت کے اہل دانش اور بھارتی آرمی چیف سمیت اہم سیاسی شخصیات یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ طاقت سے تحریک ختم نہیں کی جا سکتی، بھارت کشمیر کھو رہا ہے، حکومت بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی راہ نکالے۔شہداء کے جنازوں میں کرفیو توڑکر دسیوں ہزاروں لوگوں کی شرکت اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی سکالرز کاآئے روز اس تحریک کا حصہ بننا بھارت کیلئے نوشتہ دیوار ہے کہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی اور اسلامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے پر متوجہ کرے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کی تائید خود بھی کر چکے ہیں، انھیں بھارتی مظالم بند کرنے اور انہیں موعودہ حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے ، اور اقوام متحدہ چارٹر کے چپٹر7کے تحت اقدامات کرتے ہوئے مسئلہ حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کوبھارت کی طرف سے مستردکیے جانے کے بعدضروری ہے کہ مو ٔثر سفارتکاری کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے اس کا چہرہ بے نقاب کیا جائے اوراسکے جرائم دنیا کے سامنے لائے جائیں۔ پاکستان کی معیشت، دفاع اور زراعت و توانائی کے تمام امور مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہیں، اس لیے اس کو ترجیح اول بناتے ہوئے ایک ہمہ وقتی نائب وزیر خارجہ مقرر کیاجائے جو مسئلہ کشمیر پر فوکس رکھے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نسل ، او آئی سی اوربرطانوی پارلیمنٹ کی آل پارٹی کشمیر گروپ کی سفارشات کی روشنی میں ایک آزاد اور خود مختار کمیشن بنایاجائے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی کاروائیوں کی تحقیق کرے نیز عالمی انسانی حقوق کے نمائندہ اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں دورے کی اجازت دلوائی جائے تاکہ اقوام عالم میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب حقیقی پیش رفت ہو سکے۔

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...