جمعہ , 19 اپریل 2019

غرب اردن کی صہیونی چیک پوسٹیں فلسطینوں کی قتل گاہیں بن گئیں!

چند روزقبل 22 سالہ فلسطینی نوجوان سلامہ کعابنہ حسب معمول شمالی وادی اردن میں فصائل قصبے سے اپنے کام پر روانہ ہوا۔ تاہم اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔ وہ جب اریحا شہر کے قریب واقع ایک اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ پر پہنچا تو صہیونی فوجیوں نے اس پر گولیاں چلائیں۔ قابض فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا والا نہتا اور معصوم فلسطینی نوجوان سینے میں گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کرگیا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کعابنہ کی شہادت کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں۔ صہیونی فوج نے اسے شہید کرنے کے بعد حسب معمول یہ دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے احکامات تسلیم نہیں کیے۔ اسے چیک پوسٹ پر رکنے کا اشارہ کیاگیا تھا مگر وہ چوکی پر لگی رکاوٹوں سے آگے بڑھ گیا۔ صہیونی فوج نے یہ بھی دعویٰ‌کیا کہ اس کی گاڑی میں دو اور فلسطینی بھی سوار تھے جو اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے بعد گاڑی سے اتر کر فرار ہوگئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کعابنہ کی شہادت کی تصدیق کی اور بتایا اسے محض شبے کی بنیاد پر شہید کیا گیا۔ وہ نہ تو مسلح تھا اور نہ ہی اس کا کوئی مزاحمتی کارروائی کرنے کا ارادہ تھا۔

الزامات کا ڈھونگ
مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی فوج کی چیک پوسٹیں فلسطینیوں کی قتل گاہیں بن چکی ہیں۔ اسرائیلی فوج آئے روز ان چیک پوسٹوں سے گذرنے والے فلسطینیوں کو گولیاں مارتی ہے۔ جس کے نتیجے میں فلسطینی نوجوان شہید ہوجاتے ہیں۔ شہید کرنے کے بعد ان کے قریب کوئی چاقو پھینک دیا جاتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ فلسطینی مزاحمت کی کوشش کے دوران مارا گیا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق صہیونی فوج فلسطینی نوجوانوں کے قتل کے بعد جو دعوے کرتی ہے وہ سراسر بے بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ دعوے اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے قتل میں ملوث صہیونی مجرموں اور قاتلوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق فلسطینی علاقوں میں چپے چپے پر قائم اسرائیلی فوج کی مستقل اور ہنگامی چوکیاں فلسطینیوں کے لیے شکار گاہیں بن چکی ہیں۔

سیکڑوں چوکیاں
مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹیں فلسطینیوں کے قتل کے اڈے بن چکے ہیں۔ یہاں سے گذرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوجی دانستہ طورپر گولیاں مار کر شہید کرتے، یا انہیں زخمی کرنے کے بعد بے یارود مدد گار سڑک پر پھینک دیتےہیں۔ یا انہیں توہین اور تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں اور اور ان کے سامان کی تلاشی کی آڑ میں قیتمی چیزیں تباہ کردی جاتی ہیں۔ چیک پوسٹوں سے گذرنے والے فلسطینیوں پر وحشی کتے چھوڑے جاتے ہیں جو انہیں بری طرح نوچ ڈالتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فلسطین کے لیے انسانی حقوق کے ادوارے’اوچا’ کے مطابق غرب اردن کی سڑکوں پر اسرائیلی فوج کی سیکڑوں چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ ان میں بعض مستقل اور کچھ ہنگامے ناکے ہیں جن کی جگہ بدلتی رہتی ہے۔ یہ چوکیاں فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے اور ان کی تقسیم کے ساتھ فلسطینیوں کی نقل وحرکت میں رکاوٹ، ان کی گرفتاریوں اور بے گناہ شہادتوں کا سبب بن رہی ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

تباہی و بربادی کا فسانہ‎

(ثنا اکبر) انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل جنوبی ...