ہفتہ , 8 مئی 2021

یٰسین ملک کی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی دہلی نے بھارت کے تسلط سے کشمیر کی آزادی کے خواہاں رہنما یٰسین ملک کی تنظیم ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ (جے کے ایل ایف) پر باندی عائد کردی۔ بھارت نے یہ اقدام علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیا۔نئی دہلی سے جاری کردہ بیان میں بھارتی حکومت نے جے کے ایل ایف کو ’غیر قانونی تنظیم‘ قرار دیتے ہوئے اسے علیحدگی پسند تنظیموں کی وجہ سے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کا حصہ بتایا۔واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یٰسین ملک کو 14 فروری کو پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد کی گئی کارروائیوں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے اس ؔحملے کے نتیجے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سے اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف اتھائے جانے والے اقدامات میں ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔یاد رہے کہ 1989 سے متعدد تنظیمیں ہمالیہ کے خطے کی بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی جدو جہد کررہی ہیں۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مطابق کشمیر میں بھارتی فوج اور کشمیری نوجوانوں کے درمیان ہونے والی 3 جھڑپوں کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جس میں ایک 12 سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔

دوسری جانب بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر سیکیورٹی اہلکاروں نے پیلٹ گنز اور گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں تقریباً 5 لاکھ بھارتی فوجی اہلکار موجود ہیں جہاں گزشتہ 30 برسوں سے بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی جدوجہد جاری ہے، نتیجتاً لاکھوں افراد زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ پولیس کی حراست میں ایک کشمیر استاد رضوان اسد پنڈت کے قتل کے بعد سے مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

رضوان اسد کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کی ہڈیاں حتیٰ کہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی جبکہ جسم میں سوراخ اور تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔مذکورہ نوجوان پر تشدد کی تحقیقات جاری ہیں لیکن دوسری جانب پولیس نے ان پر حراست سے مبینہ فرار ہونے کی کوشش کا الزام لگا کر مقدمہ درج کرلیا جس پر کشمیر کے سخت احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …