اتوار , 9 مئی 2021

ملائیشیا کے وزیراعظم کیلئے ‘نشان پاکستان’ کا اعزاز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت عارف علوی نے دورہ پاکستان پر آئے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ’ نشان پاکستان‘ سے نواز دیا۔ملائیشیا کے وزیراعظم کے اعزاز میں ایوان صدر میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی،جس میں صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان بھی تقریب میں موجود تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل صدر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ‘نشان پاکستان‘ سے نوازا گیا تھا۔صدر ڈاکٹر عارف نے ایوان صدر میں مہاتیر محمد کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 30 برس میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا،قوم کی قربانیوں سے دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کی منفرد میزبانی کی۔ان کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی معاشرے میں متعدد مسائل کو جنم دیتی ہے،پاکستان جن تجربات سے گزرا دیگر اقوام کو اب اس کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے منصب سنبھالتے ہی سب کو امن کا پیغام دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کےساتھ حالیہ کشیدگی کے باوجودضبط و تحمل کامظاہرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کو مل کر اسلام فوبیا کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خلاف مسلم امہ پاکستان اور ملائیشیا کی طرف دیکھ رہی ہے۔عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’نشان پاکستان‘ دینےپرشکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ یوم پاکستان پر مدعو کرنے پر حکومت پاکستان کا شکرگزار ہوں۔مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان کےساتھ تمام شعبوں میں تعاون کوفروغ دیناچاہتے ہیں،دونوں ملکوں کےدرمیان سرمایہ کاری سےتعلقات مزیدمستحکم ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا، پاکستان کےعوام ایک دوسرےسےبخوبی واقف ہیں، پاکستان کےساتھ برادرانہ،دوستانہ تعلقات کئی دہائیوں پرمحیط ہیں۔ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ عصرحاضر کےتقاضے پورے کرنےکے لیے جدیدٹیکنالوجی سےاستفادہ کرناہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کےفروغ سے معاشی ترقی ہوگی،انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی انقلاب سے طرززندگی میں تبدیلی آتی ہے۔اس سے قبل مہاتیر محمد اور وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ملائیشیا سرمایہ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ملائیشین سرمایہ کارپاکستان میں کارسازی کی صنعت میں اشتراک چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، وہ 23 مارچ کو ‘یوم پاکستان’ کی پریڈ میں مہمان اعزازی ہوں گے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ساتھ اعلی سطح وفد اور بڑے کاروباری افراد بھی ساتھ ہیں ہیں اور اسی سلسلے میں آج ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کے ساتھ 80 سے 90 کروڑ ڈالر کی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یوز) پر دستخط کیے جائیں گے، جس میں آئی ٹی، ٹیلی کام، پاور جنریشن، ٹیکسٹائل، زراعت اور حلال اشیا کی صنعتوں میں معاہدے شامل ہیں۔اس دورے کے دوران 25 سے زائد ملائیشن کمپنیوں کے سربراہان مہاتیر محمد کے ہمراہ ہیں۔

ملائیشیا کا ‘ایڈیٹ کو گروپ’ جو ایشیا میں معروف اور پہلی مربوط ٹیلی کمیونکیشن انفرااسٹرکچر سروسز کمپنی ہے، جو ٹاور سروسز میں اینڈ ٹو اینڈ سولیوشنز میں خصوصیات رکھتی ہے اور وہ ٹیلی نار، زونگ اور موبی لنک کے ساتھ معاہدے کرے گی جبکہ پاکستان میں الیکٹرک کاریں تیار کرنے لیے پروٹون ہولڈنگ الحاج ایف اے ڈبلیو کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرے گی۔اسی طرح ایک اور ملائیشن کمپنی پاکستان سے حلال گوشت کی برآمدات کے لیے پاکستان میں حلال گوشت کی سہولت فراہم کرنے والی معروف کمپنی فوجی میٹ کے ساتھ معاہدہ کرے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ مہاتیر محمد کے دورے میں دونوں ممالک کے عوام کے باہمی مفاد کے لیے معاشی، تجارتی، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …