جمعہ , 14 مئی 2021

فلسطین کے مہاجر اور ان کی گھر واپسی مہم

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

فلسطین وہ مقدس سرزمین ہے، جو دنیا کے تین مذاہب جنہیں الہامی مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے ماننے والوں کے لیے تقدس کا درجہ رکھتی ہے۔ ادیان ابراہیمیؑ کہلانے والے یہ تینوں مذاہب بڑے احترام سے اس سرزمین کا ذکر کرتے ہیں۔ اسلام سے پہلے ہی یہ سرزمین تہذیب و ثقافت کا مرکز تھی، یہ پورا خطہ مذہبی لٹریچر میں بہت اہم ہے کہا جاتا ہے، دمشق دنیا کا قدیم ترین دارالحکومت ہے، جو ہزاروں سالوں سے مرکز حکومت ہے۔ مسلمانوں نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو انہوں نے مقامی لوگوں کو امان دی، یہودی اور مسیحی عبادتگاہیں قائم رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان مذاہب کے پیروکاروں کو اجازت دی کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اپنی عبادات کو انجام دیں۔ وہ سرزمین جو دنیا کے تین بڑے مذاہب کے درمیان مقدس ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ دنیا کی پرامن ترین زمین ہوتی اور دنیا بھر سے ان مذاہب کے ماننے والے یہاں آتے اور اپنے مذاہب کی جڑوں کو دیکھتے۔

مگر طولِ تاریخ میں یہاں بہت کم ایسا ہوا کہ لمبے عرصے کے لیے یہاں امن آیا ہو۔ صلیبیوں کی یلغاروں نے اس شہر کو بار بار تاراج کیا، وہ ہر بار اس شہر میں بسنے والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ مسیحی علم کلام کی روشنی میں خود صلیبیت کی بنیادیں کیا ہیں۔؟ اور کیا یہ حضرت مسیحؑ کی تعلیمات کے مطابق درست تھا۔؟ خود مسیحی دنیا پر صلیبیوں کے مظالم کی ایک تاریخ ہے۔ سردست یہ بتانا مقصود ہے کہ مقدس شہر کو جو امن ملنا چاہیے تھا، وہ تو نہ مل سکا، ہمیشہ استعماری قوتوں نے فلسطین کے بیٹوں کا لہو بہایا۔ صلیبیوں کی وہ تقریریں اور تحریریں جو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں کہ انہوں نے یورپ میں اہل اسلام کے خلاف کس قدر غلط زبان استعمال کی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے تک کافر سمجھا جاتا رہا، یہ سب اسی پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔

۱۹۴۸ء میں اہل فلسطین پر اسرائیل نامی صیہونی ریاست مسلط کی گئی، جس نے اہل فلسطین کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا، ایک کے بعد ایک گاوں مسلمانوں سے خالی کرایا جاتا رہا اور بڑی تعداد میں مسلمان غزہ، مغربی کنارے اور دیگر کئی شہروں میں پناہ گزین ہو گئے۔ پچھلے ستر سال سے یہ لوگ کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کے حالات دگرگوں ہیں۔ بالخصوص غزہ کی پٹی میں دو ملین لوگ بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ان پر مختلف حیلے بہانوں سے عرصہ حیات تنگ کیا جاتا ہے۔ ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ء کو ایک فلسطینی بچے کو اسرائیلی بارڈر پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا، گھر جانے کی خواہش پہلے سے عروج پر تھی، اقوام متحدہ اور مغرب کے وعدوں پر چوتھی نسل کیمپوں میں پیدا ہو چکی ہے، اس واقعہ کے بعد غزہ میں ایک بڑی مہم گھر واپسی، کے نام سے شروع کی گئی۔

جب کہ دنیا ان بے گھروں کو بھول چکی تھی، دنیا کو چھوڑیں خود اہل اسلام ان کو بھول چکے تھے، ایسے میں ان نہتے لوگوں نے دنیا کی فاشسٹ ریاست کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا گیا کہ ہم سب بارڈر پر جائیں گے اور اپنے گھروں کو واپسی کے بنیادی حق کا مطالبہ کریں گے۔ لاکھوں کی تعداد میں بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان گھروں سے نکلے اور بارڈر پر پرامن احتجاج کیا اور دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ خود رکھا۔ اسرائیل نے ان نہتے لوگوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور یوں گھروں کو واپسی کی اس عظیم جدو جہد کا آغاز ہوا۔ پچھلا پورا سال ہر یوم جمعہ کو بڑی تعداد میں اہل غزہ گھروں سے نکلتے اور اسرائیلی بارڈر پر آ کر پرامن احتجاج کرتے اور اسرائیلی گولیوں اور آنسو گیس گولوں کا نشانہ بنتے۔
یہ سلسلہ پورا سال چلتا رہا، اس مہم کا ایک سال مکمل ہونے پر بہت بڑی تعداد میں اہل غزہ گھروں سے نکلے.

انہوں نے اسرائیلی سرحد پر کھڑے ہو کر دنیا سے وہ حق مانگا oy، جو ان سے چھین لیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران ہر جمعہ کو منعقد ہونے والے ان مظاہروں میں ۲۵۰ فلسطینی شہید ہو گئے، ان شہید ہونے والوں میں عورتیں بچے، جوان، صحافنی اور میڈیکل کے لوگ شامل ہیں۔ ۱۲۲ لوگوں کو ایسے انداز میں زخمی کیا گیا کہ ان کا ہاتھ پاوں یا کوئی ایسا جسم کا حصہ متاثر ہو گیا، جس کے بعد اب وہ نارمل زندگی نہیں گذار سکتے، بلکہ ایک اپاہج کی سی زندگی گذاریں گے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے نہتے اور پرامن مظاہریں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور اس میں ایسا اسلحہ استعمال کیا گیا، جس کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔ ایسا کر کے اسرائیل نے جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے، مگر کیا کیا جائے جب پشت پر امریکی استعمار کی سپورٹ ہو، تو دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر واپس جائے یہ حق کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔یہ حق سب کو حاصل ہے، سوائے اہل فلسطین کے۔ کیونکہ یہاں یہ حق دبانے والا اسرائیل ہے، جو امریکہ کا چہیتا ہے، اس کے خلاف کوئی قرارداد پیش ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اقدام کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کو ان مظالم سے باز رکھا جا سکے۔ لیکن اہل فلسطین نے گھروں کو واپسی کی مہم کے ذریعے اپنی تحریک آزادی میں جان ڈال دی ہے، پوری دنیا میں آزاد انسان ان کی بات سن رہے ہیں اور ہر ہفتے اسرائیل کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔ اسرائیل مجبور ہوا ہے، ۱۲سال سے جاری اقتصادی ناکہ بندی میں نرمی کرے اور بہت سی اشیاء جو اسرائیل غزہ میں نہیں جانے دے رہا تھا، کسی حد تک ان کی اجازت ملی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینے میں بھی ایک قدم آگے بڑھے ہیں کہ اسرائیل ایک جارح ملک ہے، جس نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مسلم دنیا اہل فلسطین کو فراموش کر چکی ہے اور بڑے پیمانے پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کی باتیں کو جا رہی ہیں، اہل فلسطین کا اپنے حق کے لیے خود اٹھنا، ان کی جدو جہد کو آگے لے جانے میں مددگار رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …