بدھ , 12 مئی 2021

مہنگائی کا طوفان اور غربت مٹاؤ پروگرام

(تحریر: ثاقب اکبر)

ایک طرف وزیراعظم پاکستان نے 27 مارچ 2019ء کو غربت مٹاؤ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور اس کا نام احساس رکھا ہے اور دوسری طرف مہنگائی کا منہ زور طوفان ہے، جسے وزیراعظم کی اپنی اصطلاح میں مہنگائی کا سونامی کہا جاسکتا ہے۔ غربت مٹاؤ پروگرام پر عملدرآمد ہو توبہت اچھا ہے، لیکن آج پاکستان کے عوام مہنگائی کے جس طوفان بلاخیز کا سامنا کررہے ہیں، اس کی طرف بھی ایک نظر درکار ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غالب کا یہ شعر صادق آجائے:
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

اس غزل کا ایک اور شعر بھی حسب حال معلوم ہوتا ہے:
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

ایران کے عصر حاضر کے مثیلِ غالب عالمی شہرت یافتہ شاعر شہریار کی ایک غزل کا مطلع بھی ہمارے سوز دل کا ترجمان معلوم ہوتا ہے:
آمدی جانم بہ قربانت ولی حالا چرا
بی وفا حالا کہ من افتادہ ام از پا چرا

پاکستان کے ادارہ شماریات نے فروری کے شروع میں اعتراف کیا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اضافے کی شرح ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح پر ہے، جو سات فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ادارے کے مطابق گیس کی قیمت 85 فیصد، بجلی 8.5 فیصد، ڈیزل 18.6 فیصد، سی این جی 28 فیصد، جب کہ مٹی کے تیل میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آمد و رفت کے اخراجات اور کرایوں میں بھی ہوش ربا اضافہ ہو گیا۔ گھروں کے کرایوں میں بھی مجموعی طور پر آٹھ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بسوں کے کرائے میں 50 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں جنوری میں چائے 17 فیصد، گائے کا گوشت 14 فیصد، جب کہ سیگریٹ کی قیمت میں 20.7 اضافہ ہوا۔ جنوری میں ادویات میں مجموعی طور 15 فیصد اضافہ ہوا، ٹماٹر کی قیمت میں 28 فیصد، چینی میں 6 فیصد اور صحت کی سہولیات میں 8.40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ تو وہ قیمتیں ہیں جو سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں جہاں حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، مہنگائی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں کمشنروں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے دفاتر میں روز مرہ اشیاء کی قیمتوں کی جو فہرستیں آویزاں کی جاتی ہیں، ان کے نفاذ کا کوئی قابل اعتماد نظام دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ پنجاب حکومت نے ایک ٹاسک فورس آن پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ کمیٹی کے اوپر کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے اور اس کے نتائج تو دیکھنے میں آ ہی رہے ہیں، لہٰذا اس کے اوپر ایک اور کمیٹی بنا دی جائے تاکہ عوام ایک ہی مرتبہ ساری کمیٹیوں کا بوجھ اٹھا لیں۔ ایک اور پہلو بھی قابل توجہ اور وہ یہ کہ گھٹیا چیزیں ممکن ہے اتوار بازاروں میں سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں، لیکن معیاری اشیاءکے لیے غیر معیاری قیمتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

بات یہیں رکتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، سینے پر ہاتھ رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے لیے اوگرا نے جو تازہ ترین سمری حکومت کو بھیجی ہے، اس کے مطابق یکم اپریل سے پٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے، ڈیزل کی قیمت میں 11 ر وپے 17 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 65 پیسے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اگر اس پر بھی عمل ہو گیا تو پھر ایک شیطانی چکر کی طرح قیمتوں میں بے انتہا اضافے کا ایک نیا سونامی آئے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ غریبوں کو بے چین اور مضطرب کر دے۔ اس ساری صورتحال کو سابقہ حکومت کی ”مصنوعی معیشت“ کا نتیجہ قرار دے کر موجودہ حکومت فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ آخر کار حکومت کو روپے کے مزید تنزل کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ کرنسی کی قیمت میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ تیز رفتار اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔

اس سے پہلے کہ غربت مٹاؤ پروگرام پر عمل شروع ہو اور پھر اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں تبدیلی، معکوس رخ اختیار نہ کر لے۔ اس موقع پر غالب کا ایک اور مصرع یاد یاد آتا ہے:
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

اور کہیں پانچ سال بعد منصوبہ بندی کرنے والے بہادر شاہ ظفر کے شعر میں ترمیم کرکے یوں کہتے ہوئے سنائی نہ دیں:
ہم اقتدار مانگ کے لائے تھے پانچ سال
کچھ آرزو میں کٹ گئے کچھ انتظار میں

آخر میں قارئین کے لیے فیض احمد فیض کے کلام سے بھی چند مصرعے پیش کیے جاتے ہیں:
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
ا ور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …