جمعرات , 19 ستمبر 2019

روس کے بعد ترکی کا بھی وینزویلا کے صدر کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے بعد ترک حکام نے بھی وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق روس نے وینزویلا حکام کی مدد کے لیے اپنی فوج بھی اتار دی ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ترک حکام کو نکولاس کی حمایت کرنے پر امریکی دباؤ کا سامنا ہے، یہی صورت حال روس کے ساتھ بھی ہے۔ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ترکی کے علاوہ روس، چین اور کیوبا بھی صدر مادورو کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا کے شدید دباؤ کے باوجود انقرہ حکومت وینزویلا کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ترک وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وینزویلا پر امریکی پابندیاں ناقبل قبول ہیں۔انہوں نے مذکورہ پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب کراکس حکام کی جانب سے جون گائیڈو پر نئی پابندی عائد کی جاچکی ہے، جس کے تحت وہ اگلے 15 سالوں تک کوئی بھی سیاسی یاحکومتی عہدہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ وینزویلا میں 23 جنوری کو اپوزیشن لیڈر اور پارلیمںٹ کے اسپیکر جون گائیڈو نے خود کو عبوری صدر قرار دیا تھا جس کے بعد امریکا اور بعض دوسرے علاقائی ممالک نے صدر نکولس مادورو کی جگہ گائیڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کرلیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

صیہونی وزیر اعظم کی ایک اور نازیبا حرکت !کتاب کا فوٹ ریسٹ کے طور پر استعمال

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)صیہونی وزیر اعظم نے ایک کتاب کو فوٹ ریسٹ کے طور پر استعمال …