منگل , 18 مئی 2021

پرویز مشرف 2 مئی کو نہیں آتے تو دفاع کےحق سے محروم ہو جائیں گے ،سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کے ٹرائل سےمتعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا 2مئی کومشرف نہیں آتے تو دفاع کےحق سےمحروم ہوجائیں گے ، اور حکم دیا ٹرائل کورٹ ان کی غیرموجودگی میں ٹرائل مکمل کرکے حتمی فیصلہ جاری کردے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ملزم پرویز مشرف 2مئی کو عدالت میں پیش ہوں گے ؟ جس پر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ پیش ہوں، یقین سے نہیں کہہ سکتا ،ان کی صحت کا معاملہ ہے، ہفتے میں دو مرتبہ انکی کیموتھراپی ہوتی ہے، کیموتھراپی کا عمل مکمل ہوا تو ضرور حاضر ہوں گے۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا سیشن کورٹ ایکٹ کی دفعہ 9کیا کہتی ہے ؟ وکیل استغاثہ نے کہا پرویز مشرف شروع میں عدالت میں پیش ہوئے، پرویزمشرف نےفردجرم سنی اورانکار کیا، پھر استثنیٰ کی درخواست دی اوروعدہ کیا ضرورت ہوگی پیش ہوں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا اب وہ دانستہ طور پر غیر حاضرہیں، غیرحاضری میں ٹرائل اوردانستہ غیر حاضرہونا2مختلف باتیں ہیں، غیرحاضری میں ٹرائل ہوناآئینی طورپردرست نہیں، دانستہ طور پر غیر حاضرہونامختلف معاملہ ہے ، دانستہ طور پرغٖیر حاضری کافائدہ ملزم کو نہیں دیا جاسکتاہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس مرحلے پر ہمیں کوئی فیصلہ نہیں دینا چاہیے، ہوسکتا ہےہمارے سامنے اپیل میں دوبارہ یہ نقطہ اٹھایاجائے، وفقے کے بعد اس پر مزید غورکریں گے کیا کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کےٹرائل سے متعلق فیصلہ سنادیا، جس میں کہا گیا اگر 2 مئی کومشرف نہیں آتے تو دفاع کےحق سےمحروم ہوجائیں گے ، ایسی صورت میں ٹرائل کورٹ استغاثہ کےدلائل سن کر حتمی حکم جاری کردے۔

فیصلہ میں کہا گیا جو ملزم غیر حاضرہوجائے اس کے حقوق معطل ہوجاتے ہیں، دفعہ 342 ملزم کو اپنےدفاع کا موقع فراہم کرتی ہے ، ملزم یہ موقع ہی حاصل نہیں کرنا چاہتاتوپھر اسےدفاع کاحق نہیں رہتا ، دانستہ غیر حاضری کی صورت میں گواہ پیش کرنے کابھی حق نہیں رہتا۔چیف جسٹس نے کہا اگر پرویز مشرف 2مئی آجاتے ہیں تو سارے حقوق بحال ہوں گے، نہیں آتے توچاہےوجہ کچھ ہو، استغاثہ کوسن کر حتمی حکم جاری کیاجائے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔یاد رہے 28 مارچ کوسابق صدر جنرل ( ر) پرویز مشرف کے وکیل نے خصوصی عدالت میں عندیہ دیا ہے کہ ان کے موکل 13 مئی کو وطن واپس آکر عدالت کے روبرو پیش ہوسکتے ہیں۔

گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے سامنے تین آپشنز رکھے تھے، پہلا آپشن پرویز مشرف آئندہ سماعت پر ہوکر بیان ریکارڈ کروائیں، دوسرا آپشن اگر نہیں پیش ہوتے تو اسکائپ پر بیان ریکارڈ کروائیں اور تیسرا آپشن اگر وہ اسکائپ پر بھی بیان ریکارڈ نہیں کرواتے تو ان کے وکیل بیان ریکارڈ کروائیں۔عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سےالتواکی درخواست بھی مسترد کردی تھی، چیف جسٹس نے کہا تھا پرویزمشرف تو مکے شکے دکھاتے تھے، یہ ناہوعدالت کو مکے دکھانا شروع کردیں۔

یہ بھی دیکھیں

کورونا وبا؛ مزید 135 افراد جاں بحق، مجموعی اموات کی تعداد 19 ہزار 752 ہوگئی

اسلام آباد: کوروناوبا کے باعث مزید 135 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ فعال کیسز …