پیر , 17 مئی 2021

عوام کو مطمئن کرنے کیلئے ’سنگین مقدمات اے ٹی سی میں بھیج دیے جاتے ہیں‘ چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سے سنگین نوعیت کے مقدمات میڈیا اور معاشرے کی وجہ سے پیدا ہونے والے عوام کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے فوجی عدالتوں اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں (اے ٹی سی) میں منتقل کیے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر جرم کی نوعیت وہی ہو جس طرح کے مقدمات میں عام عدالتوں میں پاکستان پینل کوڈ(پی پی سی) اور کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر سی پی) کے تحت سنے جاتے ہیں ہیں تب بھی ان پر غلغلہ اٹھنے پر صرف عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بات اس وقت کہی جب ایک وکیل برہان معظم ملک سے 7 رکنی بینچ کی توجہ اس بگڑی ہوئی صورتحال کی جانب مبذول کروائی کہ جہاں دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں کو ریفر کیے گئے تھے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہیں دیکھا کہ لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت, دہشت گردی کے زمرے میں آنے والے مقدمات کی سماعت کررہی ہو۔تاہم بینچ نے چیف جسٹس کے حکم پر دہشت گردی کی تشریح اور دہشت گردی کے مقدمات میں فریقین کے درمیان سمجھوتے کی طرح کے کئی معاملات پر اکٹھا فیصلہ محفوط کرلیا۔

اس حوالے سے چیف جسٹس نے متعدد وکلا سے ایسے افراد کے حوالے سے معاونت طلب کی جن کی سزائے موت کے عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے پر اس لیے غور کررہے ہیں کیوں کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے‘۔انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ابہام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حکومت اور مقننہ کے لیے بھی غور طلب ہونا چاہیے تا کہ اس میں موجود الجھن کا خاتمہ ہوسکے۔

اس میں چیف جسٹس نے ہمسایہ ممالک کا بھی حوالہ دیا کہ جہاں دہشت گردی کی روک تھام کا قانون، اور دہشت گردی اور تخریب کارروائیوں کو روکنے والا قانون متعارف کروایا گیا تھا لیکن بعد میں اسے واپس لے کر عام عدالتوں میں بھیج دیا گیا تھا کیوں کہ خصوصی عدالتوں کے ذریعے خصوصی طریقہ کار سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے اور مساویت کے تصور کی نفی ہوتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے 19 فیصلوں میں یہ بات کہی گئی کہ معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لیے خاس طور پر کی گئی کارروائیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں ہی بہت سے ایسے مقدمات موجود ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جرم کا نتیجہ اس بات تعین کرے گا کہ یہ دہشت گردی کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اقوامِ متحدہ اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ بھی دہشت گردی کی تشریح نہیں کرسکے اور اس حوالے سے کوئی باہمی اتفاقِ رائے بھی نہ ہوسکا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کبھی بھی نشانہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان (کولیٹرل ڈیمیج) کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔اور اس کارروائی کا مقصد معاشرے میں افراتفری اور عدم تحفظ کا احساس پھیلانا ہے یا دوسرے معنی میں عوامی پالیسی میں تشدد یا طاقت کا استعمال دہشت گردی کی تعریف میں شمار ہوتا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حوالے سے مقدمات کی اپنی حیثیت ہے لیکن اغوا برائے تاوان، اجتماعی زیادتی، بچوں کا استحصال یا مختلف اقسام کا آتشیں اسلحہ رکھنے کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں صرف لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے چلائے جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

’غزہ کا معاملہ تنازع نہیں، اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کا قتل عام ہے‘: شیریں مزاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ غزہ کا …