پیر , 20 مئی 2019

عراقی وزیراعظم کا دورہ ایران اور دوطرفہ تعلقات کا روشن مستقبل

(تحریر: رامین حسین آبادیان)

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی ہفتہ 5 اپریل کے دن ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ تہران آئے۔ تہران آنے پر ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران خطے کی سیاسی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے بارے میں گفتگو انجام پائی۔ عراقی وزیراعظم نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے شانداز میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح بعثت نبی اکرم (ص) اور نئے ایرانی سال کی مناسبت سے ایرانی قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ اس وقت ایران میں ہوں۔” انہوں نے ایران کو ایک مسلمان، ہمسایہ اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا: "ایران ایک عظیم تہذیب و تمدن کا حامل ملک ہے جس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ میں نہیں سمجھتا دنیا میں کوئی اور دو ایسے ممالک پائے جاتے ہوں جن کے درمیان ایران اور عراق جیسے تاریخی تعلقات استوار ہوں۔ ایران اور عراق کی عظیم تاریخ اور تہذیب و تمدن نے عالم بشریت کی بہت خدمت کی ہے۔”

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے دورہ ایران کا ایک اہم پیغام تکفیری دہشت گردی کے مقابلے میں عراقی حکومت کی مدد اور حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اہم اور اسٹریٹجک کردار ہے۔ اس بارے میں عادل عبدالمہدی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی بہت زیادہ مدد کی ہے، کہا: "ہم ایران کی مدد سے بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کر پائے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں اور آج عراق میں پایا جانے والا امن و امان اور استحکام انہی کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔” عراقی وزیراعظم کا یہ اعتراف درحقیقت ان علاقائی اور بین الاقوامی حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ایک طرف تو تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف فتح اور ان کی نابودی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف ایران پر خطے میں شدت پسندی اور عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اسی طرح عراقی وزیراعظم نے دنیا والوں خاص طور پر عالمی استعماری قوتوں اور خطے میں ان کے چیلوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ عراق ہر گز ایسے ملک سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا جس نے مشکل ترین وقت میں عراقی حکومت اور عوام کا ساتھ دیا اور انہیں بدترین سکیورٹی بحران سے نجات دلائی۔

عراقی وزیراعظم کے دورہ ایران میں دونوں ممالک کے سیاسی رہنماوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں توسیع اور انہیں مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اسی طرح عراق اور ایران کے وزرائے اقتصاد نے مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارت کی مقدار 20 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق رائے بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراقی وزیراعطم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران اور عراق کے دوطرفہ تعلقات خطے میں مثالی تعلقات میں تبدیل ہو جائیں گے۔ چند ماہ پہلے عراق کے صدر برہم صالح نے بھی ایران کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد اب عراقی وزیراعظم کا حالیہ دورہ، تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ عادل عبدالمہدی کے دورہ ایران کا ایک اور اہم پیغام یہ تھا کہ عراق ہر گز ایران کو دیگر عرب ممالک سے تعلقات کیلئے قربانی کا بکرا نہیں بنائے گا۔ اس بارے میں عراقی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق تہران سے تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کویت، سعودی عرب، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور دیگر ممالک سے بھی تعلقا کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اپنے ایران دورے میں ایک اور اہم نکتے پر بھی زور دیا ہے جو ایران کو اس یقین دہانی پر مبنی ہے کہ عراق کی سرزمین ہر گز ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ عراقی وزیراعظم کا یہ موقف درحقیقت وہی موقف ہے جس پر اس سے پہلے مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی تاکید کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ عراق ہر گز دیگر ممالک کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بنے گا۔ اس بارے میں عادل عبدالمہدی نے ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں خطے میں امن و امان اور استحکام کے فروغ کیلئے مل کر کوشش کرنی چاہئے اور اپنے باہمی تعلقات کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا چاہئے۔” اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور عراق کے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے گذشتہ چند ماہ کے دوران انجام پانے والے دوطرفہ دوروں کے ذریعے تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگرچہ بعض قوتیں ایران اور عراق کے درمیان تعلقات بگاڑنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں لیکن دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا مستقبل انتہائی روشن دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …