پیر , 26 اگست 2019

مغرب میں انتہا پسندی

(ظہیر اختر بیدری) 

پسماندہ مسلم ملک عشروں سے مذہبی انتہا پسندی میں گرفتار ہیں جب کہ مغرب میں مذہبی انتہا پسندی کا کلچر اتنا شدید نہ تھا جتنا پسماندہ ملکوں میں رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو عوام کا تعلیم یافتہ ہونا مانا جاتا ہے، دوسرے مغرب کی مذہبی قیادت مذاہب کے حوالے سے نسبتاً لبرل پائی جاتی ہے اور لبرل ذہن انتہا پسندی کے کلچر سے دور رہتا ہے۔ غالباً مذہب کے حوالے سے مغرب کے لبرل ازم ہی کی وجہ یہاں دنیا کے اور ملکوں کے مقابلے میں مذہبی منافرت کم ہے۔ یہ ذمے داری محققین کی ہے کہ وہ مذہب کے حوالے سے مغرب اور مشرق کے درمیان پائے جانے والے مذہبی انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کے محرکات کا پتہ چلائیں اور اس کا جائزہ صلیبی جنگوں کے دور سے لیں جو انسانی تاریخ کی طویل ترین مذہبی محاذ آرائی مانی جاتی ہے۔

لیکن مغرب کو حاصل یہ اعزاز اب مغرب سے چھنتا جا رہا ہے اور مغرب بھی اسی عفریت کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے، جس کا شکار دوسرے مذاہب رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والی دہشت گردیکے نتیجے میں 49 مسلمان شہید ہوئے۔ انتہا پسندی اگرچہ بعض مخصوص حلقوں میں بڑی مقبول ہے لیکن نیوزی لینڈ سمیت ساری دنیا کے عوام مذہبی انتہا پسندی اور اس کے بائی پروڈکٹ دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں۔

مذہبی رواداری کے حوالے سے دنیا میں بہت کوششیں کی گئیں لیکن یہ کوششیں غالباً اس لیے کامیاب نہ ہو سکیں کہ ایک تو ان میں اخلاص کا فقدان رہا اس دنیا کے ایک بڑے اور اہم ترین کام میں اخلاص کم شہرت کی خواہش زیادہ رہی۔ اگر خلوص نیت سے اس قسم کے اہم ترین کام کیے جائیں تو ان میں کسی نہ کسی حد تک کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے اس حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ متحارب قوتوں میں ایمانداری اور خلوص نیت کا فقدان رہا ہے۔

دنیا کی تاریخ کے بد ترین نظام سرمایہ داری کے مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ مختلف حوالوں سے دنیا کے عوام کو نہ صرف تقسیم کر کے رکھا جائے بلکہ ان کے درمیان ایک مسلسل محاذ آرائی کے کلچر کو زندہ رکھا جائے، ہمارے نیک دل اہل ایمان بڑے خلوص سے اپنے اپنے مذاہب کی پیروی کرتے ہیں لیکن اس دنیا کے اہم ترین مسئلے پر جب تک مختلف مفادات کے لوگوں، گروہوں کا قبضہ رہے گا اس علت سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ اس تقسیم اور نفرت کا اصل محرک وہ مفادات ہیں جو اشرافیائی کلاس کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کرائسٹ چرچ میں ہونے والے منی قتل عام سے سادہ لوح مذہبی حلقوں میں کتنی گہری نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کا اندازہ مشکل نہیں ہے۔ کیا یہ ’’ بڑے کام ‘‘ بغیر منصوبہ بندی اور مقصدیت کے ہو سکتے ہیں۔ کیا دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں کتنی دوری پیدا ہو گئی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے؟

دنیا کے انسانوں میں ہر ایک کا تعلق کسی نہ کسی مذہب سے ہو گا اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب سے محبت بھی کرتا ہو گا۔ کوئی بھی انسان اگر اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب سے محبت کرتا ہے تو یہ کوئی بری بات ہے نہ قابل اعتراض بات لیکن جب وہ اپنے مذہب سے محبت کے ساتھ دوسروں کے مذہب یا مذاہب سے نفرت کرتا ہو تو یہ ایک ایسی برائی ہے جس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں مل سکتے۔ دوسرے مذاہب سے نفرت کا ایک مظاہرہ ہم نے کرائسٹ چرچ میں دیکھا۔ دہشت گردکے دل میں دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے جس کا اظہار اس نے مسلمان نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں چلا کر کیا۔ اس نفرت کا نتیجہ 49 نمازیوں کی بے رحمانہ شہادت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان 49 نمازیوں کا قصور کیا تھا؟ اس سوال کا جواب بڑا طویل اور ہزاروں برسوں پر مشتمل ہے۔ کیا ایک طویل عرصے پر مشتمل صلیبی جنگوں میں مارے جانے والے کسی جرم کے مرتکب تھے ان کا جرم جرمِ بے گناہی تھا۔

آئیے ذرا آگے چلتے ہیں۔ یہ 1947ء ہے ہندوستان تقسیم ہو گیا تھا، ہزاروں سال سے محبت اور رواداری کے ساتھ زندگی گزارنے والے دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے ایسے کٹر دشمن ہو گئے کہ تاریخ اس دشمنی پر سر نگوں ہے۔ ہزار دو ہزار لاکھ دو لاکھ انسان نہیں 22 لاکھ انسان مذہبی جنونیت کا شکار ہو گئے۔ کیا ان میں کوئی گنہگار کوئی قصور وار تھا؟

اب ذرا کشمیر کی طرف آئیے، 71 سال سے کشمیر میں آگ لگی ہوئی ہے کیونکہ یہاں بھی ہندو اور مسلمان کا جھگڑا ہے بھارت کا مذہبی انتہا پسند طبقہ پورے کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ چاہتا ہے، اسی طرح ادھر پاکستانی کشمیر کے مسلم عوام پورے کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ بھارت پاکستان سے طاقتور ملک ہے لہٰذا وہ کسی اقوام متحدہ کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں یوں یہ مسئلہ اٹکا ہوا ہے۔ اب ذرا فلسطین کی طرف آئیے۔ اس کا حال بھی کشمیر جیسا ہے فلسطین کے عوام نسلاً عرب، مذہباً مسلمان ہیں۔ اسرائیل کو سامراجی طاقتوں نے اس قدر طاقتور بنا دیا ہے کہ سارے عرب ملک مل کر بھی اسرائیل کو فلسطین کا مسئلہ حل کرنے پر راضی نہیں کرسکتے۔

نیوزی لینڈ سے چلا ہوا یہ مسئلہ کشمیر فلسطین سے ہوتا ہوا بین الاقوامی ناانصافی اور اقوام متحدہ کی ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ کرائسٹ چرچ سانحہ کے ذمے دار دہشت گرد کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور انسان ہے لیکن مذہبی انتہا پسندی نے اسے شیطان بنا دیا، اسے 49 بے گناہ مسلمانوں کے قتل کا ذرہ برابر افسوس نہیں بلکہ وہ اپنی شیطانیت پر مسرور ہے۔ اقوام متحدہ اس قسم کے مسائل میں ایک مردہ گھوڑا بنی رہتی ہے جب تک معصوم انسانوں کو قتل کرنے والے شیطان موجود ہیں بے گناہ لوگ قتل ہوتے رہیں گے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …