اتوار , 19 مئی 2019

سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ مزید ایک سو 78 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی اطلاع پر ملک بھر میں کارروائی کرتے ہوئے مزید ایک سو 78 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشتگردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت اس وقت 8 ہزار 3 سو 7 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔اس میں مزید بتایا گیا کہ 69 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے جبکہ 2 تنظیموں کی نگرانی کی جارہی ہے۔

نیکٹا رپورٹ کے مطابق نام بدل کر کام کرنے والی 20 سے زائد تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 4 ہزار 8 سو 63 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان اکاؤنٹس سے 13 کروڑ 60 لاکھ روپے بھی ضبط کیے ہیں۔

اس سے قبل 25 فروری کو سرکاری دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کو 6 ہزار ایک سو 22 بینک اکاؤنٹس کے اعداد وشمار فراہم کیے گئے تھے، جن میں سے اس وقت تک 4 ہزار 8 سو 63 اکاؤنٹس کو منجمد کیے گئے جبکہ منجمد کئے گئے بینک اکاؤنٹس سے 13 کروڑ 15 لاکھ روپے ضبط کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ نیکٹا کی سفارش پر ان افراد کے اسلحہ لائسنس بھی منسوخ کر دیئے گئے تھے۔

خیال رہے کہ مذکورہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کی شرائط کے بعد عمل میں آئی۔4 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کیا تھا۔

28 مارچ 2019 کو ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) نے پاکستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اس سے قبل 25 فروری کو وفاقی حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ان افراد پر پاسپورٹ آفس کے دروازے بند اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے تھے۔

فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر مزید پابندیاں وزارت داخلہ کے احکامات اور نیکٹا کی نشاندہی کے بعد عائد کی گئی تھیں۔یاد رہے کہ اے ٹی اے برائے سال 1997 کے مطابق ہر وہ شخص جس کا اندراج فورتھ شیڈول کی فہرست میں ہو، اپنی مستقل رہائش گاہ کو چھوڑنے اور واپس آنے پر پولیس کو آگاہ کرنے کا پابند ہے۔

ان افراد کے لیے لازم ہے کہ متعلقہ پولیس تھانے میں پرامن رہنے کے لیے زرِضمانت جمع کروائیں، بصورت دیگر پولیس انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت گرفتار کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔واضح رہے کہ اے ٹی اے میں سال 2012 میں کی جانے والی ترمیم کے بعد پولیس کو یہ اختیار حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اس فہرست میں شامل افراد سے ان کی نقل و حمل کی بابت دریافت کرسکے اور عوامی مقامات مثلاً کالجوں، ریسٹورنٹس، اسکول وغیرہ جنہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، سے دور رہنے کی ہدایت کرے۔پولیس کے پاس ان افراد سے ان کے مالی معاملات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے اور پرامن رہنے کے لیے زرضمانت حاصل کرنے کا بھی اختیار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آصف زرداری اور فضل الرحمان میدان میں آنے پر متفق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان حکومت کے خلاف میدان میں …