جمعہ , 23 اگست 2019

عمران خان، آسیہ بی بی اور مسعود اظہر

(سید مجاہد علی) 

وزیر اعظم عمران خان نے بی بی سی کے نمائیندے جان سمپسن کے ساتھ انٹرویو میں توہین مذہب کے الزام میں سپریم کورٹ سے سزا پانے والی آسیہ بی بی کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔ جب سمپسن نے اصرار کیا کہ وہ کب تک پاکستان سے چلی جائیں گی تو وزیر اعظم نے کہا کہ وہ چند ہفتوں میں ملک چھوڑ دیں گی۔ اس سوال پر کہ ’کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ ‘ عمران خان کا جواب تھا کہ ’اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے۔ اور میں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی‘ ۔

اس بیان میں وزیر اعظم اپنی جس مجبوری کا ذکر کررہے ہیں وہ ایک طرف ہمارے قومی مزاج کی تصویر کشی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو درپیش تمام علتّوں اور مسائل کی جڑ ہے۔ بطور وزیر اعظم عمران خان اپنی اس مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرسکیں تو شاید انہیں اس بات کا ادراک ہوسکے کہ مخالف سیاسی لیڈروں کو بدعنوان قرار دینے اور کسی کو نہیں چھوڑوں گا کا نعرہ لگانے کے باوجود، اس مقام تک پہنچنے والا شخص کتنا مجبور، بے بس اور بے اختیار ہوتا ہے۔

وہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک فیصلہ کے مطابق ایک شہری کی مکمل آزادی کا اعلان کرنے سے قاصر ہے۔ اور یہ مانتے ہوئے بھی کوئی حجاب اس کے مانع نہیں ہوتا کہ آسیہ بی بی سپریم کورٹ سے آزادی اور بے گناہی کا پروانہ حاصل کرنے کے باوجود نہ اس ملک میں آزادانہ زندگی گزار سکتی ہے اور نہ ہی اس ملک کا وزیر اعظم دوٹوک انداز میں یہ بتا سکتا ہے کہ وہ کون سی الجھنیں ہیں جن کی وجہ سے آسیہ کو ’محفوظ‘ رکھا گیا ہے۔ کہ وہ نہ اپنے گھر جاسکتی ہے، نہ میڈیا سے مل سکتی ہے اور نہ اس ملک میں ایک باوقار اور آزاد شہری کے طور پر زندگی گزار سکتی ہے۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ اس ملک میں مسلمان اقلیت اور کشمیر میں آباد ’مسلمانوں‘ کی خود مختاری کے اصول کو تسلیم کروانے کے اصول پر استوار ہے۔ جان سمپسن کے ساتھ علیحدہ انٹرویو کے علاوہ وزیراعظم نے گزشتہ روز غیر ملکی صحافیوں کے ایک گروپ سے بھی بات چیت کی اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس گفتگو میں بھی عمران خان نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صرف کشمیر ہی ایک مسئلہ ہے اور کوئی تنازعہ نہیں ہے۔

اگر اسے حل کرلیا جائے تو دونوں ملک امن و سکون سے اچھے ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات اور کشمیر کا معاملہ طے کرنے کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم نے یہ اچھوتا بیان بھی دیا ہے کہ ان کے خیال میں نریندر مودی انتخاب جیت جائیں تو دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات زیادہ ہوں گے کیوں کہ ان کے خیال میں کانگرس دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں کے دباؤ سے خوفزدہ ہوگی اور پاکستان کے ساتھ مراسم بہتر بنانے کا اقدام نہیں کرسکے گی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی پارٹی چونکہ ’خود ایک دائیں بازو کی جماعت ہے تو ان کی کامیابی کی صورت میں شاید کشمیر کے معاملہ میں کوئی حل تلاش کیا جا سکے‘ ۔

یہ ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم کی باتیں ہیں جو اقلیتی عقیدہ سے تعلق رکھنے والی اپنی ہی ایک شہری کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط ہے، تاکہ اس کی وجہ سے اکثریتی عقیدہ رکھنے والی آبادی کے جذبات کو ’ٹھیس‘ نہ پہنچ جائے۔ ایسا رہنما کس منہ سے ہمسایہ ملک میں آباد اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کرسکتا ہے۔ اپنے ملک میں ہندو ہوں یا عیسائی، لادین ہوں یا عقیدہ رکھنے والے، جب تک سب کو مساوی حقوق دینے اور مکمل مذہبی اور شخصی آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دی جائے گی، ا س وقت تک کیسے دنیا کے کسی بھی ملک میں مسلمانوں یا کسی بھی اقلیت کی تکلیفوں کو غلط قرار دیتے ہوئے، انہیں دور کرنے کا قصد کیا جاسکتا ہے۔

عمران خان نے غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ اسی گفتگو میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں کہا ہے کہ وہ انتخابی کامیابی کے لئے خوف کی فضا پیدا کرنے اور قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ یہ تجزیہ کرتے ہوئے عمران خان کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ وہ خود کس خوف میں جان سمپسن کے سوالوں کا دو ٹوک جواب دینے سے قاصر تھے۔ اگر وہ 22 کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم ہونے کے باوجود ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی ایک شہری کی آزادی اور جیش محمد جیسی تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے سوالوں کا گول مول جواب دینے پر مجبور ہیں تو ملکی معاملات میں پڑی گانٹھیں کیسے کھول سکیں گے؟ پرانے پاکستان کے ڈھانچے کو گرائے بغیر نیا پاکستان کیسے تعمیر کرسکیں گے؟ اگر ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں تو اس ملک میں آزادیوں کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کا اہتمام کیسے کریں گے؟

پاکستان کے مسائل معاشی ہوں، سیاسی ہوں یا سفارتی، ان کی بنیاد ملک میں پائی جانے والی انتہا پسندی، عدم برداشت اور اختیارات کی غیر قانونی تقسیم اور استعمال پر استوار ہے۔ ملک میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران مختلف النوع سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے جو عسکری گروہ استوارکیے گئے تھے اب انہیں مسمار کرتے ہوئے پاکستان کے ہاتھ کانپتے ہیں تو دوسری طرف یہ صورت حال فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے لے کر امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

عالمی بنک کے بعد عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے وسیع تر اصلاحات کے بغیر پاکستان کی قومی پیداوار میں سنگین سست روی کا عندیہ دیا ہے۔ عالمی بنک نے تو کہا تھا کہ آئندہ چند برسوں میں قومی پیداوار چار فیصد سے کم رہے گی لیکن آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق 2023 تک پاکستان کی قومی پیداوار میں اڑھائی فیصد سالانہ سے زیادہ اضافہ نہیں ہوگا۔ اس حجت سے قطع نظر کہ کس عالمی ادارے کا اندازہ درست ہے یا غلط اور اسد عمر کا یہ دعویٰ ہی صائب ہے کہ انہوں نے شب و روز کی محنت سے ملکی معیشت کو ’انتہائی نگہداشت کے وارڈ‘ سے نکال کر عام وارڈ میں داخل کردیا ہے، یہ بات واضح ہے کہ ملکی معیشت عالمی اداروں کی پاکستانی پالیسیوں کے بارے میں تشویش اور بھارت کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے دباؤ اور بدحالی کا شکار ہے۔

ایف اے ٹی ایف جیسا ادارہ انتہا پسند گروہوں کے خلاف مناسب اقدام کرنے میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ کے بعد بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بات کررہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات افغان مذاکرات کی ڈور سے بندھے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے علاوہ پاکستان اور اس کی قیادت کے بارے میں تلخ، جارحانہ اور تند و تیز باتیں کرنے کے بعد صرف افغان مذاکرات میں پاکستانی کردار کی وجہ سے اپنا لب و لہجہ دھیما کیا ہے۔

لیکن پاکستان کے لئے کسی بھی قسم کی امداد بحال نہیں کی گئی۔ اسی طرح مختلف فورمز پر پاکستانی مفادات کے خلاف امریکی کوششیں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستانی معیشت کے لئے آئی ایم ایف پیکیج اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے محفوظ رہنا، لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں اداروں میں امریکی اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج ہی کانگرس کے تین ارکان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے لئے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کا راستہ روکا جائے۔

پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کا بھارت کو بھی نقصان ہوتا ہوگا لیکن اس کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جارحیت جاری رکھنے کے علاوہ پاکستان پر کسی بھی وقت حملے کا ماحول پیدا کیا گیاہے، چنانچہ پاکستانی افواج کو مسلسل حالت جنگ میں دھکیلا جا چکاہے۔ اس صورت حال کا بوجھ ملکی معیشت ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جب خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں تو عالمی سرمایہ کار تو کیا مقامی سرمایہ بھی اڑان بھرنے پر تیار رہتا ہے۔ روپے کی قیمت پر بڑھنے والا دباؤ، دراصل اسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کو ان مسائل سے چھٹکارا پانے اور منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ جنگ کے اندیشے کو ٹالنا ہوگا اور سرمایہ کاروں میں ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ تب ہی قومی پیدا وار میں اضافہ ہو گا۔ اسی سے ریاست کی آمدنی بڑھے گی اور حکومت کے پاس وسائل کی فراوانی ہوگی۔ لین دین میں مسلسل بڑھتا ہؤا خسارہ کم ہوسکے گا اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے رقم فراہم ہوسکے گی۔ تب ہی لوگوں کو روزگار ملے گا اور ان کے لئے گھر بنانے کے منصوبے پورے کرنے کا امکان پیدا ہوگا۔

وزیر اعظم کا انٹرویو مسائل کی اس لڑی کا سرا ہے جنہوں نے اس ملک کو سیاسی، معاشی اور سفارتی گرداب میں دھکیل رکھا ہے۔ اس گرداب سے نکلنے کے لئے قومی مفاد کی تشریح پر ایک دوسرے کی گردن ماپنے کی بجائے، قومی لائحہ عمل کو از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …