اتوار , 21 جولائی 2019

بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں آج (بروز جمعرات) 20 ریاستوں میں ایوان زیریں (لوک سبھا) کی نشستوں کے لیے ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات کا آج پہلا روز ہے، یہ انتخابات 6 ہفتوں میں مکمل ہوں گے۔

بھارت میں مجموعی طور پر 89 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز میں سے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔آج ہونے والے پہلے مرحلے میں 20 ریاستوں اور وفاقی انتظامی علاقوں کی 91 نشستوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے جبکہ منگل کو پرتشدد واقعات میں 7 افراد کے قتل کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

جن ریاستوں میں آج انتخابات ہورہے ہیں ان میں اترپردیش، آروناچھل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر، مہاراشٹرا، مزورام، مانی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشا، سکم، تیلانگانا، تری پورا، اتر پردیش، اتر کھنڈ، مغربی بنگال، اندمن، نکوبر اور لکشادیپ شامل ہیں۔بھارت میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات میں پارلیمنٹ کی 543 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

آج سے شروع ہونے والے بھارتی انتخابات کا یہ مرحلہ 19 مئی تک جاری رہے گا، جہاں دوسرے مرحلے میں 18 اپریل کو 13 ریاستوں، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر، کرناٹکہ، مہاراشٹرا، مانی پور، اوڈیشا، تمل ناڈو، تری پورا، اتر پردیش، مغربی بنگال، پودوچھری کی 97 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

اسی طرح 23 اپریل کو شروع تیسرے مرحلے میں 14 ریاستوں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، گوا، جموں اینڈ کشمیر، کرناٹکہ، کریلا، مہاراشٹرا، اوڈیشا، اتر پردیش، مغربی بنگال، دادرا اور نگر حویلی، دامان اور دیو کی 115 نشستوں پر الیکشن منعقد کیے جائیں گے۔

بھارتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا، جہاں 9 ریاستوں کی کل 71 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، جن ریاستوں میں اس مرحلے میں انتخابات ہوں گے اس میں بہار، مقبوضہ جموں کشمیر، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اوڈیشا، راجستھان، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

پانچویں مرحلے میں 6 مئی کو بھارت کی 7 ریاستوں میں 51 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جس میں بہار، بھارت کے زیر تسلط جموں اور کشمیر، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال کی ریاستیں ہیں۔

لوک سبھا کی نشستوں کے لیے انتخابات کا چھٹا مرحلہ 12 مئی کو سجے گا، جہاں بہار، ہریانہ، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال، دہلی میں 59 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

بھارتی انتخابات کا آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا، جس میں 8 ریاستوں کی 59 نشستوں پر انتخابی لڑائی لڑی جائے گی، ان ریاستوں میں بہار، ہماچھل پردیش، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال، چندی گڑھ اور اتر پردیش شامل ہیں۔

انتخابات کی بات کی جائے تو اس وقت بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کی خواہش مند ہے جبکہ ان کے مدمقابل کانگریس پھر سے واپسی کی خواہش مند ہے۔

بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے لیے گاندھی اور نہرو کے سیاسی وارث راہول گاندھی کا مقابلہ کریں گے۔اس سلسلے میں دونوں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ووٹرز سے مختلف انداز میں اپیلیں کی جارہی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے الیکشن کے قریب آتے ہیں اپنا ٹوئٹر کا نام بھی چوکیدار نریندر مودی کردیا تھا، انہوں نے ووٹرز خاص طور پر نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کرنے والے سے کہا کہ وہ بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ادھر کانگریس کے راہول گاندھی نے اپنی ٹوئٹ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی 2 کروڑ نوکریاں نہیں، کوئی 15 لاکھ بینک اکاؤنٹس میں نہیں اور کوئی اچھے دن نہیں بلکہ صرف کسانوں کو تکلیف، گبر سنکھ ٹیکس اور جھوٹ جھوٹ جھوٹ۔انہوں نے مزید لکھا کہ آج آپ بھارت کی مٹی اور اپنے مستقبل کے لیے ووٹ دیں گے۔

بھارتی انتخابات پر مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن
دوسری جانب بھارتی انتخابات کے پہلے مرحلے پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور نام نہاد انتخابات کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق حریت قیادت نے ’نام نہاد‘ بھارتی انتخابات سمیت کشمیر عوام اور قیادت کے خلاف مظالم پر آج مقبوضہ وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس احتجاج کا مقصد ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو نیشنل انویشٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دہلی کی تہار جیل منتقل کرنے، میر واعظ عمر فاروق سے دہلی میں این آئی اے ہیڈکوارٹرز میں سوالات کرنے اور حریت رہنما سید علی گیلانی کے دونوں بیٹوں کو مسلسل طلب کرنے‘ کے خلاف بطور احتجاج کرنا بھی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون کو مار گرایا: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز …