پیر , 26 اگست 2019

گنے کا رس صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں جگہ جگہ آپ نے ایسی مشینیں ضرور دیکھی ہوں گی جس کے ارگرد کافی لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور گنے کے رس سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے پہلے اسے پاکستان کا قومی مشروب بھی قرار دیا گیا تھا۔اور یہ بات بالکل درست ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، گنے کا رس فرحت اور تازگی بخشنے کے حوالے سے دیگر مشروبات پر سبقت لیے نظر آتا ہے۔گرمیوں میں یہ جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے تو سردیوں میں بھی بغیر برف کے اسے پینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ لذیذ اور میٹھا ہونے سے ہٹ کر یہ رس انتہائی فائدہ مند اور صحت کے لیے سپرفوڈ سے کم نہیں؟اگر نہیں تو انہیں ضرور جان لیں کیونکہ یہ متعدد مسائل کا قدرتی حل ثابت ہوسکتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات
گنے کا رس اکثر پینے کی عادت جلد کے مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہے، اگر اکثر کیل مہاسوں کا سامنا ہوتا ہے تو اس رس کے فیس ماسک کا استعمال کرکے دیکھیں، جس کے لیے کچھ مقدار میں ملتانی مٹی کو گنے کے رس میں مکس کریں اور پھر اس کو چہرے اور گلے پر لگاکر 20 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد گیلے تولیے سے چہرے اور گلے کو صاف کرلیں، یہ طریقہ ہفتے میں دو بار آزمائیں۔

جلد کو بڑھاپے سے بچائے
جوانی میں جھریاں نمودار ہونے کا خیال پریشان کرتا ہے اور زیادہ عمر کے نظر آنے لگے ہیں ؟ تو فکر منت کریں گنے کے رس کو پینا شروع کردیں، جس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس، فلیونوئڈز اور فینولز وغیرہ عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو سست کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ جلد کی نمی بحال کرکے اسے جگمگا دیتے ہیں۔

گلے کی خراش کے خلاف بھی مفید
اگر گلے میں اچانک خراش کا احساس ہورہا ہے تو ایک گلاس گنے کا رس اسے قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے بس اس میں تھوڑا لیموں کا عرق اور کالا نمک شامل کرنا مت بھولیں۔ اس رس میں موجود وٹامن سی گلے کی خراش کے لیے اچھا علاج ثابت ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل انفیکشن پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔

زخم جلد بھرنے میں مدد دے
جسمانی مدافعتی نظام بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ گنے کا رس زخموں کو بھرنے کی رفتار تیز کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ گنے کے رس میں موجود شکر میں قدرتی طور پر زخم کو جلد بھرنے میں مدد دیتی ہے، اس رس کو براہ راست زخم پر انڈیلنا بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی میں مددگار
اگرچہ گنے کا رس قدرتی طور پر میٹھا ہوتا ہے مگر یہ اضافی جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، گنے کا رس جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہ، اس میں موجود فائبر بھی جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پیشاب کی نالی میں سوزش کے خلاف مفید
یہ رس گردوں کی صحت بہتر بناتا ہے جس کی بدولت پیشاب کی نالی میں انفیکشن جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، ایک گلاس گنے کے رس میں لیموں اور ناریل کے پانی کو مکس کرکے دن میں 2 بار پینا اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

بخار کم کرے
ہوسکتا ہے آپ کو معلوم نہ ہو مگر گنے کا رس بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، گنے کا رس پینا بخار کی صورت میں پروٹین کی کمی کا خطرہ کم کرتا ہے جو کہ جسمانی کمزوری اور درد کا باعث بنتا ہے۔

گردوں کے لیے فائدہ مند
یہ مشروب پیشاب آور ہے، جس سے پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردوں کی پتھری کے امراض کے علاج میں مدد ملتی ہے جبکہ گردوں کے افعال میں بہتری آتی ہے۔

جگر کے امراض دور کرے
یہ تو بیشتر افراد کا ماننا ہے کہ گنے کا رس جگر کو مضبوط کرتا ہے اور یرقان کا علاج ثابت ہوتا ہے۔یرقان جگر کے افعال پر مضر اثرات بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ گنے کا رس جسم میں ان پروٹین کی کمی پوری کرتا ہے جو اس مرض کے نتیجے میں ہوتی ہے جس سے جلد بحالی صحت میں مدد ملتی ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے
گنے کا رس کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز، آئرن، پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے جو کہ اسے اچھا انرجی ڈرنک بنانے کے لیے کافی ہے، خصوصاً گرمیوں میں، ایک گلاس ٹھنڈا رس جسمانی توانائی کو فوری بحال کرتا ہے۔ یہ ایسا پلازما اور جسمانی سیال بناتا ہے جو گرمی سے جسم میں آنے والی خشکی اور تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر کرے
گنے کا رس جلاب جیسے اثرات بھی رکھتا ہے اور اعتدال میں اس کا استعمال آنتوں کی حرکت کو بہتر کرتا ہے جبکہ قبض سے نجات دلاتا ہے۔ اسی طرح یہ رس معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کے علاج کے لیے بھی مؤثر ہے۔

دانتوں کے لیے بھی فائدہ مند
گنے کا رش ایسے منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو دانتوں کی فرسودگی اور سانس کی بو کی روک تھام کرتے ہیں۔

احتیاط
آپ کو ہیپاٹائیٹس سے بھی چوکنا رہنا ہوتا ہے کیونکہ اکثر ٹھیلے والے صفائی کا خیال نہیں رکھتے لہٰذا گندی مشینوں سے نکالا جانے والا رس خطرناک ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر مت کریں جبکہ دن بھر میں 2 گلاس سے زیادہ اس رس کا استعمال نہ کریں کیونکہ اس صورت میں وہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران عالمی سطح پر ناقابل تسخیر طاقت میں تبدیل ہو جائے گا:میجرجنرل باقری

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے کہا ہے ایران …