جمعہ , 19 جولائی 2019

جمال خاشقجی کے خاندان کی سعودی حکومت سے تصفیہ کی تردید

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے خاندان نے سعودی انتظامیہ سے عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کی تردید کردی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘فی الوقت معاملے کا ٹرائل چل رہا ہے اور تصفیہ کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘جنہوں نے یہ جرم کیا اور اس میں ملوث رہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔’

واضح رہے کہ امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے یکم اپریل کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے 4 بچوں کو ‘خون بہا’ میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دی ہے۔تاہم صلاح خاشقجی کا کہنا تھا کہ صرف ان کے خاندان اور ان کے اٹارنی کے ذریعے حاصل ہونے والے معلومات کو مستند سمجھا جائے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سعودی حکام اور دیگر افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمال خاشقجی کے 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو آئندہ چند ماہ میں سعودی صحافی کے قاتلوں کا ٹرائل مکمل ہونے پر خون بہا سے متعلق مذاکرات کے تحت مزید لاکھوں ڈالر دیئے جاسکتے ہیں۔

حکام نے کہا کہ سعودی حکومت، جمال خاشقجی کے اہلخانہ سے طویل المدتی مفاہمت کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ انہیں سعودی صحافی کے قتل پر تنقید سے باز رہنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ایک سابق عہدیدار کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں شاہ سلمان کی جانب سے ان گھروں اور 10 ہزار ڈالر یا اس سے زائد ماہانہ آمدن کی منظوری دی گئی تھی اور اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’ایک بڑی ناانصافی ہوچکی ہے اور یہ غلط کو صحیح کرنے کی کوشش ہے‘۔

دوسری جانب سعودی عہدیدار نے جمال خاشقجی کے اہلخانہ کو دی گئی رقم کو ملک میں طویل عرصے سے انتہا پسند جرائم یا قدرتی آفات کے متاثرین کو فراہم کی جانے والے مالی تعاون کی روایت قرار دیا۔انہوں نے اس بات کو مسترد کردیا کہ ان ادائیگیوں کے بدلے جمال خاشقجی کے خاندان کو خاموشی اختیار کرنی ہوگی۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ابتدائی طور پر جمال خاشقجی کے تمام بچوں کو جدہ میں گھر دیئے گئے ہیں اور ہر گھر کی مالیت 40 لاکھ ڈالر ہے، یہ جائیدادیں ایک ہی کمپاؤنڈ میں موجود ہیں جن میں ان کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی کو مرکزی حصہ دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی تھی، لیکن ان کے اہلخانہ کسی قسم کی سخت تنقید سے باز رہے۔سعودی حکام نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 21 افراد کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے جن میں سعود القحطانی بھی شامل ہیں۔

اگر ان ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے تو سعودی نظام انصاف جمال خاشقجی کے اہلخانہ کو خون بہا کے تحت اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، جس میں انہیں کروڑوں ڈالر دیئے جانے کا امکان ہے۔تاہم یہ واضح نہیں کہ رقم وصول کرنے کے لیے جمال خاشقجی کو قاتلوں کو معاف کرنے کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …