پیر , 26 اگست 2019

لیگی رہنما حنیف عباسی کی سزا معطل، ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے حنیف عباسی کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی۔حنیف عباسی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جیل میں 4 مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں انہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا تھا کہ انسدادِ منشیات عدالت نے فیصلہ اہم قانونی نکات کو نظر انداز کرکے کیا، ادویات سازی کے لیے ایفی ڈرین منگوائی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا کہ کیس میں نامزد دیگر 7 ملزمان کو رہا کیا گیا جبکہ درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے سزا سنائی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالت نے فیصلہ جاری کرتے وقت اصل حقائق پس پشت ڈال کر سزا سنائی اور ساتھ ہی عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ عدالت سزا معطل کرکے ضمانت منظور کرے اور رہا کرنے کا حکم دے۔

دوران سماعت عدالت عالیہ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ جن دستاویزات کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ کہاں ہیں، فیصلے سے اپنے ثبوت ثابت کریں؟عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ انوائس پر یقین نہیں کیا جا سکتا، سزا ان شواہد پر دی گئی جو ملزمان نے پیش کیے۔

خیال رہے کہ حنیف عباسی نے ایفی ڈرین کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی اپیل دائر کی تھی، جسے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جولائی 2018 میں غیر قانونی طور پر عمر قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔اس سے قبل ہائیکورٹ کے 2 رکنی راولپنڈی بینچ نے مذکورہ اپیل پر سماعت سے معذرت کی تھی۔

ایفی ڈرین کوٹہ کیس
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر جولائی 2012 میں 5 سو کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا کیس دائر کیا گیا تھا۔مذکورہ مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ غضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، نزاکت اور محسن خورشید نامی شخصیات شامل ہیں۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں دورانِ سماعت اب تک 5 ججز تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ اس میں 36 گواہان نے اپنی شہادتیں قلمبند کرائیں۔

ملزمان پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے ایفی ڈرین کا غلط استعمال کرتے ہوئے منشیاات اسمگلروں کو فروخت کیں۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر نائن سی ایکٹ کے تحت مقدمہ نمبر 41 درج کیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 16 تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس عبادالرحمن لودھی نے انسدادِ منشیات عدالت کو حکم دیا تھا کہ وہ مذکورہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے 21 جولائی تک نمٹا دے۔

21 جولائی 2018 کو راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا جبکہ دیگر 7 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا، اس کے علاوہ حنیف عباسی کو انتخابی سیاست کے لیے تاحیات نااہل بھی قرار دے دیا گیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ حنیف عباسی راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-60 سے امیدوار تھے اور فیصلے کے بعد وہ انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے تھے جہاں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ان کے مدمقابل تھے۔

یہ بھی دیکھیں

زونگ کا فائیو جی کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چائنا موبائل پاکستان (سی ایم پی) یعنی زونگ نے ملک میں فائیو جی …