جمعرات , 25 اپریل 2019

عالم کفر کے مقابل پاکستان

(عزیزظفر آزاد)

اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو بارہا انتباہ کیا کہ عالم کفر پر کبھی بھروسہ نہ کر ووہ کبھی ملت اسلامیہ کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ خصوصا یہودوں نصارٰی مسلمانوں کے مقابلے میں ہمیشہ متحدو صف آراء نظر آئیں گے۔یہ کیفیت ہمیشہ کی طرح آج بھی دکھائی دیتی ہے ۔ قیام پاکستان کا معجزہ اسلامیان برصغیر کے غیر متزلزل اتحاد کی برکت سے ہی وقوع پذیر ہو سکا وگرنہ ہندو اکثریت اور برطانوی سامراج مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت تسلیم کرنے کو قطعا تیار نہ تھے ۔ لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی مملکت روز اول سے ہی عالم کفر کے نشانے پر رہی ۔

دشمنان اسلام کی جانب سے مملک خداداد کو نقشہ عالم سے مٹادینے اور ہٹا دینے کا سلسلہ ابتداء سے آج تک جاری ہے ۔ قیام پاکستان کے موقع پر اس کی عمر چھ ماہ بتائی گئی ۔ گورداس پور ، فیروز پور مسلم اکثریت کے باوجود بھارت میں شامل کرکے مسئلہ کشمیر کو پیدا کیا گیا۔ 1965ء رات کی تاریکی میں بھارتی سینا حملہ آور ہوئی پھر 1971ء میں ایک بین الاقوامی سازش کے تحت مشرقی و مغربی بازوئوں کو جدا کیا گیا ۔سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے کی سازش ہوتی ہے تو کبھی ممبئی حملوں کا بہانہ بنا کر دہشت گرد ی کا جال بچھایا جاتا ہے ۔پاکستان کے اندر دہشت گردی کا ایک طوفان برپا کرکے اس کی جوہری صلاحیت کو فریز کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے اور اب اپنے ملک میں الیکشن جیتنے کے لئے پلوامہ کا ڈرامہ رچا کر مسلم دشمنی کی فضا پیدا کی گئی ۔

اس طرح ستر سالہ بھیانک تاریخ میں بھارت اکیلا نہیں بلکہ عالم کفر مستقل بھارت کی پشت پر نظر آتا ہے ۔ خصوصاً شیطان بزرگ پینٹاگون جہاں صیہونی سوچ و فکر کا غلبہ ہے پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو یکجا کرکے فلسطینیوں کی سرزمین پر بسایا گیا تاکہ اس خطے میں مسلمان چین سے جی نہ سکیں ۔ اس دورا ن حضرت قائداعظمؒ اس سازش کو بھانپ چکے تھے اور انہوں نے بارہا کہا کہ یہودی فلسطین پر ناجائز قابض ہیں لہذا پاکستان اس کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا ۔بعد ازاں شہید ملت لیاقت علی خان نے حضرت قائد کے فرمان کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے عوض ایک بہت بڑی مالی امداد کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ پاکستان کی کوئی حکومت بھی قائد اعظم کے فرمان سے روگردانی نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی ابتداء ہی میں اپنی قوم کو یہ باور کرادیا کہ اسرائیل کو اپنے گرد پھیلے عرب ممالک سے کوئی خطرہ نہیں۔ ہمارا اصل دشمن اور ہدف پاکستان ہے ۔ اس کو ہر قیمت ہر صورت مٹانے میں ہی ہماری عافیت ہے ۔یہ بات آگے چل کر ثابت ہوگئی کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا واحد ملک پاکستان تھا اور پاکستان کی جانب سے اسرائیل اور بھارت کے خلاف قرار دادیں پیش کی گئیں ۔ پاکستان تمام رکاوٹوں اور سازشوں کے بعد بھی ایک اسلامی جوہری قوت بن کر آگے بڑھتا دکھائی دیا جو عالم کفر کے سینے میں پیوست خنجر کی مانند ہے ۔ شاید اسی حوالے سے کشمیریوں پر ستر سال سے رواں بھارتی جابرانہ کاروائیوں کے باوجود پینٹا گون اور دیگر عالمی قوتیں مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے آگ اور خون پر مبنی تماشا دیکھ رہی ہیں ۔ انہیں نہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی سات عشروں سے بہتا لہو اور لٹتی عصمتیں ان کے مردہ ضمیر کو جگا سکیں۔

دراصل عالمی کفر اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر پاکستان سے الحاق کرنے میں کامیاب ہوگیا تو مملکت خداداد کے موجودہ مسائل نہ رہیں گے ۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ پانی ، بجلی ، زراعت و تجارت ، صنعت و حرفت کے ہر میدان میں کامیابیاں حاصل کرکے عالم کفر کو زیر کرنے کی حیثیت کا حامل ہو سکتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان بزرگ پینٹا گون اور اس کے حواری جہاں چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کو قبول و برداشت کرنے کو تیار نہیں وہ ایک اسلامی مملکت کو ایک مضبوط عالمی قوت کے روپ میں کیونکر یکھ پائیںگے ۔لہذا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پاکستان کو توڑنے والی قوتیں مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹیں ڈال کر بھارت کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچا رہی ہیں اور دوسری جانب پاکستان کو مزید تقسیم کرنے کے لئے کسی حربے کسی واردات سے گریز نہیں کیا جا رہا ۔نریندر مودی کی موجودہ انتہائی جارحانہ جنگی ماحول پیدا کرنا اور اندرون ملک معیشت کی زبوں حالی اسی بین الاقوامی اسلام دشمنی حکمت عملی کا شاخسانہ ہے ۔پاکستان کی عسکری و سیاسی قیا کے مثبت اور جرات مندانہ حکمت عملی نے پاکستان کو عالم کفر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا کر کھڑا کر رکھا ہے ۔

قارئین کرام۔ موجودہ حالات و واقعات کا تقاضا ہے کہ وطن عزیز کے ہر مکتبہ فکر کے افراد کو گروہی لسانی و مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر ان خطرات کا جائزہ لیں جن سے آج وطن عزیز دو چار ہے ۔ملکی بقاء اور استحکام کے لئے ایک بار پھر تحریک پاکستان والے جذبوں اور ولولوں کو موجزن کریں تاکہ تحریک پاکستان کے مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے ۔ اسلامی مملکت کا وہ تصور جو حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے پیش کیا جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بین المذاہب منافرت

(ظہیر اختر بیدری)  جب کسی طرف سے انسانوں کی بھلائی کی کوئی بات نظر سے …