اتوار , 21 جولائی 2019

میں شہر کوئٹہ کا بے سہارا اک ہزارہ ہوں

(تحریر: ثاقب اکبر)

اسے کہنا: جسینڈا آرڈن آؤ تو میرے شہریاروں کا نہ مجھ سے پوچھنا ہرگز میرے عمران کو فرصت نہیں جانے وہ کب آئے جنازے سامنے رکھے میں پھر سڑکوں پہ بیٹھا ہوں

میں شہر کوئٹہ کا بے سہارا اک ہزارہ ہوں
جنازے سامنے رکھے
میں پھر سڑکوں پہ بیٹھا ہوں
میں شہر کوئٹہ کا بے سہارا اک ہزارہ ہوں

کوئی آئے
نیوزی لینڈ کی ہمدرد لیڈی تک
میرا پیغام لے جائے
جسینڈا آرڈن سے جا کہو، اک بار آجائے
کہ جیسے نور مسجد میں شہیدوں کی سلامی کو
لباس ماتمی پہنے وہ ہو کے سوگوار آئی
وہ اپنی قوم کے ہمراہ سراپا اشکبار آئی

اسے کہنا:
کہ آجاؤ
مرے مظلوم لوگوں کو بھی آکر اک تسلی دو
اسے کہنا:
مرا قصہ اگر دیکھو تو اک شہر یتیماں ہے
کسی بھی گھر چلی آؤ تو اس میں ایک بیوہ ہے
جو اک تصویر حرماں ہے

اسے کہنا:
جسینڈا آرڈن آؤ تو رکھنا ہاتھ سینے پر
کہ تم پچاس لاشوں پر ابھی تک غم میں ڈوبی ہو
میں شہر کوئٹہ کا اک ہزارہ ہوں
میرا اتنا ہے افسانہ
جنازہ گاہ مری آباد ہے بستی ہے ویرانہ

اسے کہنا:
جسینڈا آرڈن آؤ
تو میرے شہریاروں کا نہ مجھ سے پوچھنا ہرگز
میرے عمران کو فرصت نہیں
جانے وہ کب آئے
جنازے سامنے رکھے
میں پھر سڑکوں پہ بیٹھا ہوں
میں شہر کوئٹہ کا بے سہار اک ہزارہ ہوں

یہ بھی دیکھیں

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری) چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو …