اتوار , 21 جولائی 2019

اسیر اسلام وشاخی نے قیدیوں‌ پر مظالم کا بدلہ کیسے لیا؟

اسرائیلی زندانوں میں قید اسلامی وشاخی ایسے بہادر فلسطینی سپوت کم ہی ہوں گے جنہوں‌نے اسرائیلی زندانوں کے اندر قید رہتے ہوئے بھی صہیونی قابض فوج پر کاری ضرب لگئی۔اسلام اسلام وشاخی جزیرہ نما النقب جیل کے وارڈ 3 میں پابند سلاسل تھے جب حال ہی میں صہیونی فوج نے جیل پریلغار کرتے ہوئے اسیران پر وحشیانہ تشدد شروع کردیا۔ وشاخی غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے مثلث الشھداء کے رہائشی ہیں۔

وشاخ سنہ 2009ء سے پابند سلاسل ہیں اور انہیں انیس سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس کی رہائی کو اب چند ماہ ہی باقی بچے ہیں مگر اس نے اپنی رہائی کی فکر کیے بغیر صہیونی فوجیوں پر چاقو سے حملہ کرکے یہ ثابت کیا کہ فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں کے اندر اور باہر ہرجگہ ایک ہی جیسے حالات کا سامنا ہے اور ان کی جدو جہد ہرجگہ جاری رہے گی۔ انہیں بہر حال قربانیاں دینا ہیں۔

اسلام وشاخی نے اپنے کمرےمیں داخل ہونے والے صہیونی فوجیوں پر چاقو سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو صہیونی فوجی افسر زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل ایسا ہی حملہ بیت لحم کے نواحی علاقے الشواورہ کے عدی سالم بھی کرچکے ہیں۔

اسیر وشاخی کو بہ خوبی اندازہ تھا کہ اسرائیلی فوجیوں پر حملے کےبعد اسے کسی وحشیانہ انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ان حربوں میں قید تنہائی بھی ہوسکتی ہے۔ وشاخی اسرائیلی زندان میں کئی سال سے قید تنہائی کے تحت پابند سلاسل انجینیر ضرار ابو سیسی کی قید تنہائی میں‌ اس کے ساتھ یکجہتی کرنا تھا۔ ضرار ابو سیسی کو صہیونی خفیہ ادارے ‘موساد’ نے یوکرائن سے اغواء کرکے اسرائیل پہنچایا اور وہ کئی سال سے وہاں پر پابند سلاسل اور قید تنہائی میں ہے۔

جنین کیمپ کا معرکہ
اسیر اسلام وشاخی فلسطین میں‌تحریک انتفاضہ الاقصیٰ کے اوائل میں اس میں پیش پیش رہے۔ سنہ 2002ء میں اس نے جنین میں صہیونی فوج کے خلاف ایک معرکے میں حصہ لیا۔ وہ کارروائی کے بعد بہ حفاظت فرار ہوگیا اور اسرائیلی فوج اسے مسلسل 8 ماہ تک گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ بالآخر وشاخی کو جنین سے سنہ1948ء کے علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو داخل کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ اس پر جنین میں مزاحمتی کارروائی میں‌حصہ لینے اور اسرائیل میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو داخل کرانے میں مدد کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔

صہیونی فوج کی طرف سے وشاخی پر فدائی حملہ آوروں کی معاونت کرنے کےالزامات کے تحت مقدمات چلائے گے اور اسے 19 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وشاخی اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے ساتھ شامل رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نےحماس کے اہم رہ نمائوں نصر جرار شہید، قیس عدوان، اسیررہ نما الشیخ جمال ابو الھیجا کے ساتھ کام کیا۔ اس نے صہیونی زندان میں رہتے ہوئے بھی دشمن کے خلاف انتقام اور مظالم کا بدلہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مگر صہیونی فوجیوں‌نے اسے النقب جیل میں گولیاں‌مار کر شدید زخمی کردیا۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

وڈیو اسکینڈل:عدلیہ کی ساکھ کیسے بحال ہو؟

(محمد بلال غوری) چیستاں میں لپٹے وڈیو اسکینڈل کی پرتیں کھلنے پر یوں محسوس ہو …