جمعرات , 25 اپریل 2019

اسرائیلی کی بدمعاشی کی وجہ عرب ہیں

(ثنا اللہ بھٹی)

ایک معروف بیانیہ ہے کہ اسرائیل اپنی پیدائش سے ہی ایک ایسی بدمعاش ریاست بن کر ابھری ہے جو ہمہ وقت سازش اور ظلم کرنے پر کمر بستہ رہتی ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے تحفظات اور مذمتوں کو بھی اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے فلسطینیوں پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے، اس کے مظالم پر بھی دوسری رائے نہیں لیکن یہ بات بہرحال سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسرائیل کسی بھی عالمی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قائم و دائم ہے۔ یہ نہ تو کسی سرکردہ دفاعی تنظیم کا رکن ہے اور نہ ہی کسی طاقتور سیاسی تنظیم میں سرگرم ہے۔ یقیناً ذہن میں امریکہ کا خیال آتا ہے لیکن امریکہ نے بھی تو اس کو ستر کی دہائی میں تب گود لیا جب یہ جملہ عرب ممالک پر اپنی دفاعی برتری کی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ موجودہ جغرافیائی حد بندی کرکے اپنا اعتماد بڑھا چکا تھا۔

ایسا ممکن ہی نہیں کہ اس دور میں کوئی ریاست ڈنکے کی چوٹ پر بدمعاشی کرتے ہوئے قابل قبول ہو۔ (امریکی و برطانوی بدمعاشی کے جوہر پر بھی بحث ہو سکتی ہے ) ۔ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آج عرب ممالک جس دو ریاستی حل بمطابق قبل از 1967 کی تجویز دے رہے ہیں یہ پیشکش درحقیقت اسرائیل اور اقوام متحدہ ایک عرصے تک عرب ممالک کو کرتے رہے لیکن عرب اپنے اکھڑ پن، کوتاہ اندیشی اور بے رحم مفادات کے حصول کے لئے سفاکانہ حد تک فلسطینیوں کا استعمال کرتے ہوئے اسے ٹھکراتے رہے۔ اسی رویے سے شہہ پا کر آج اسرائیل اس قابل ہو چکا ہے کہ اسی دو ریاستی حل پر عرب ممالک کی منت سماجت کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا محض حوصلہ دیتا ہے۔

نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 181 کے ذریعے جب 1922 سے برطانوی ماتحتی میں آنے والے اس خطے کو فلسطین، اسرائیل اور یروشلم میں تقسیم کرنے کا فارمولا دیا گیا تو دوسری عالمی جنگ سے دہشت زدہ یہودیوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ یہ ایک بہتر موقع ہوتا اگر دوسری عالمی جنگ کی ہولناکی سے متاثرہ اس نئی نقشہ سازی پر غور کیا جاتا لیکن عربوں نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے یہودیوں کو بے دخل کرنے کے لئے خطے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔

دو سال بعد ہی برطانوی مداخلت سے جب اسرائیل کی لبنان، مصر، اردن اور شام سے جنگ بندی کے معاہدے ہوئے تو اسرائیل غزہ، مغربی کنارے سے مکمل طور پر اور یروشلم کے ایک حصے سے دستبردار ہوگیا۔ ممکن تو یہ بھی تھا کہ ان تینوں خطوں کو فلسطینیوں کے حوالے کر کے دفاعی طور پہ مضبوط ریاست اسرائیل پر مسلط کردی جاتی لیکن مصر اور اردن نے غزہ، یروشلم اور مغربی کنارے کو جنگ کا مال غنیمت سمجھ کر اپنے زیر قبضہ لے لیا اور دس لاکھ فلسطینیوں کو مہاجرین کیمپ میں رہنے پر مجبور کردیا۔

پچاس کی دہائی میں جب عرب میں قوم پرستانہ آمریتوں کا جنم ہوا تو فلسطینیوں کو امید کا دیا نظر آیا۔ لیکن جلد ہی بجھ گئی۔ اسرائیلی وزیرخارجہ گولڈا مئیر نے اکتوبر 1960 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عرب ممالک کو فلسطینی مہاجرین کے مسلے پر مذاکرات کی دعوت دی لیکن پانچ دن بعد ہی جمال عبدالناصر نے یہ کہہ کر دعوت ٹھکرا دی کہ ہمارا مسئلہ فلسطینی مہاجرین نہیں، ہمارا مسئلہ اسرائیل دشمنی ہے۔

جون 1967 کی شش روزہ جنگ میں اپنے حجم کو آٹھ ہزار مربع میل سے چھبیس ہزار مربع میل بڑھانے کے باوجود اسرائیلی کابینہ نے جنگ کے ایک ہفتے بعد ہی زیر قبضہ غزہ، مغربی کنارہ، صحرائے سینا اور گولان پہاڑی کو عرب ممالک کو دو ریاستی حل کے بدلے واپس کرنے کا عندیہ دے دیا۔ لیکن قومی عصبیت پرستی، سوویت نوازی اور تیل کی بڑھتی مانگ سے بھرپور اعتماد کے شکار عرب حکمرانوں نے اسے ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے ستمبر میں خرطوم اعلامیہ میں اسرائیل کو کسی قیمت پر بھی تسلیم نہ کرنے کا عہد کیا۔ بعدازاں نومبر میں ہی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے قرارداد 242 کے ذریعے دو ریاستی حل کا جامع منصوبہ بھی پیش کیا لیکن عرب حکمران اپنی ضد پر اڑے رہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے 1972 میں پہلی بار اپنے حق میں آنے والے امریکی ویٹو کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی حمایت کا مضبوط سہارا محفوظ کرکے دفاعی کے ساتھ ساتھ سفارتی برتری بھی حاصل کرلی۔ اسی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر اور اردن کو مذاکرات پر قائل کر کے اپنا وجود منوا لیا جب کہ کمال چالاکی سے فلسطینیوں کو تنہا کرتا گیا۔ مصر نے صحرائے سینا کے بدلے غزہ کو اسرائیل کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا تو اردن نے سرحدی حد بندی اور قرضوں کی معافی کے بدلے مغربی کنارہ۔

اب تک جس پی ایل او کو مصر اور اردن لڑنے مرنے پر اکساتے آرہے تھے، اسی تنظیم پر سفارتی کاری جیسی پیچیدہ اور باریک بین ذمہ داری کا بوجھ لاد دیا جسے اوسلو معاہدے میں دوریاستی حل کو قبول کرنا ہی پڑا۔ تاہم مذاکرات کا شروع ہونا نہایت مثبت رہا۔ انہی مذاکرات کے تسلسل کی وجہ سے جولائی 2000 میں یہ نوید بھی سننے کو ملی کہ اسرائیل غزہ سے سو فیصدی اور مغربی کنارے سے ترانوے فیصدی پسپائی اختیار کرنے کو تیار ہے لیکن بوجوہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ماہرین کہتے ہیں یہ فیصلہ کن مذاکرات کیمپ ڈیوڈ کی بجائے اوسلو یا کسی اور نیوٹرل مقام پر ہوتے تو شاید نتیجہ خیز ہوتے۔

مذاکرات کا نیا دور دوبارہ شروع کیے جانے کے جذبات موجود رہے جس کے تسلسل میں خیر سگالی کا قدم اگست 2005 میں اسرائیل کی طرف سے اٹھایا گیا جب اسرائیلی افواج نے غزہ کا کنٹرول چھوڑ دیا۔ بدقسمتی سے اگلے برس ہی حماس کا غزہ میں اور الفتح کا مغربی کنارے میں برسراقتدار آجانے سے دونوں کے درمیان اختلافات کا ایسا شدید بحران پیدا ہوا ہے کہ تاحال امن کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

موجودہ حالات میں عرب اسپرنگ کے بعد سے پیدا ہوتی سماجی و سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہلچل نے عرب ممالک کی بزرگ آمریت کی وجہ سے ان کی علاقائی سالمیت کو شدید طور پر جھنجھوڑا ہے جس کا بھرپور فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی سے ہونے والی تباہ کاری کے بعد سعودی قیادت کی طرف سے ”اغواکار سفارتکاری“ کی بدولت لبنان میں شامی اثرات کا گلا گھونٹا جا چکا ہے۔ جس کے بعد سے گولان پہاڑی پر امریکی حمایت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ نے 2003 میں مشرق وسطی میں جس نئی نقشہ سازی کی اختراع کی تھی اس سے مراد طاقت کے توازن کی تھی۔ طاقت کا توازن عراق اور شام سے پھسل کر اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف کھسک چکا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس حکمت عملی میں بھی فلسطینیوں کی کوئی اہمیت دکھائی نہیں دے رہی۔ عرب آمریتوں نے ایران کی شکل میں ایک مشترکہ دشمن دریافت کر لیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع میسر آگیا ہے۔ شاید اسی لئے جو ہے جہاں ہے جتنا ہے کی بنیاد پر فلسطینی اتھارٹی، ریاست فلسطین کی عالمی حمایت لینے پر چل نکلی ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایران سے جنگ کی سازش، کہاں ہونے والی ہے یہ جنگ؟ (پہلا حصہ)

روسی ویب سایٹ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دیئے جانے میں …